آخری عہد کے مسلمان فرمارواؤں اور فاتحوں میں احمد شاہ درانی غیر معمولی شجاعت و قابلیت کا تاجدار گزرا ہے۔ اس کے نام سے تو ہندوستان کا بچہ بچہ واقف ہے۔ مگر اس کے حالات سے لوگ بہت کم واقف ہیں۔ حالانکہ وہ تاریخ اسلام کا ایک نہایت قیمتی اور قابل فخر ورق ہے جو اتنا کرم خوردہ بھی نہیں جتنے کے بہت سے اگلے اوراق ہیں۔

وہ ایک نامور افغانی خاندان کا جسے دورانی کہتے ہیں بانی ہے۔ اس کا اصلی نام احمد خان تھا۔ اور محمد زمان خان سدوزئی کا بیٹا تھا۔ محمد زمان خان افغانستان کے ابدالی گروہ کا سردار تھا۔ ابدالی پٹھان شاہ عباس اول صفوی کے حکومت (996ء تا 1038ء) میں اپنے اصلی وطن سے جو قندھار کے قریب تھا اور غلزئی پٹھان اس پر قابض ہو گئے تھے۔ ہرات میں آ کے آباد ہوئے تھے۔ اسی ابدالی گروہ کا ایک خیل تھا پوپلزئی ‏جو باہمی جھگڑوں سے جلاوطن کر کے ہرات سے ملتان میں پہنچا دیا گیا۔ 1128ھ (1716ء) کے قریب یہ لوگ پھر ہرات میں نظر آئے۔ جبکہ ابدالی گروہ کے اندرونی خیلوں میں ایک جھگڑا پیدا ہوا اس کا انجام یہ ہوا کہ کے ابدالیوں کے سردار عبداللہ خان کو زمان خان نے قتل کر ڈالا اور خود سارے گروہ کا سردار بن گیا۔ اور چونکہ منتظم اور بہادر شخص تھا۔ اس لیے اس کی قوت روز بروز بڑھتی گئی یہاں تک کہ ابدالی پٹھان سارے خراسان میں پھیل گئے۔ اور 1134ھ میں ان کی قوت و شوکت اس درجے کو پہنچ گئی کہ انھوں نے مشہد مقدس کا محاصرہ کر لیا۔ اسی محاصرے کے زمانے کے قریب احمد خان ( احمد شاہ درانی ) پیدا ہوا۔

اب عبداللہ خان کا بیٹا الہ یار خان جو باپ کے مارے جانے پر ملتان بھاگ گیا تھا، ہرات میں واپس آیا اور کچھ ایسے انقلاب پیش آئے کہ وہی اپنے باپ کے قاتل زمان خان کا جانشین قرار پایا۔

1141ھ (1728)ء میں جب نادر شاہ نے خراسان پر چڑھائی کی تو الہ یار خان نے اس کی اطاعت قبول کر لی۔ لیکن زمان خان کے بیٹوں ذوالفقار خان اور احمد خان نے سرکشی کی۔ 1144ھ میں نادر شاہ نے ہرات پر قبضہ کر لیا۔ اور ابدالیوں کی قوت بالکل ٹوٹ گئی۔ ان کے بہت سے سردار اور نامی لوگ جلاوطن کیے گئے جو ملتان جانے پر مجبور ہوئے۔ ملتان جاتے وقت اثنائے راہ میں دونوں بھائی ذوالفقار خان اور احمد خان قندھار کے قریب غلزئی پٹھانوں کے ہاتھ میں گرفتار ہو گئے۔

1150ھ (1734ء) میں نادر شاہ نے قندھار کو حملہ کر کے اپنے قبضے میں کیا تو ان دونوں بھائیوں کو رہائی دلوا کر ان کے حال پر نہایت ہی مہربان ہو گیا۔ کیونکہ انھیں شریف خاندان بہادر اور ایک زبردست گروہ کا سردار جانتا تھا۔ چنانچہ اس نے ان کے قدیم وطن میں، جو کندھار کے قریب تھا غلزئیوں کا زور توڑ کے انہیں بسایا، وہاں کا حاکم بنایا، اور بہت سے ابدالیوں کو اپنے لشکر میں داخل کر لیا۔ خصوصا احمد خان کے حال پر اس کی اس قدر عنایت تھی کہ اس کو حاکم مازندران بنا دیا۔ اس وقت سے وہ نادر شاہ کی فوج کا ایک بہادر و ممتاز سردار تھا۔

ہندوستان پر چڑھائی کر کے اور یہاں سے واپس جانے کے بعد نادر شاہ کو جو مزہباً سنی تھا اپنی فوج کے شیعہ سپاہیوں پر بدگمانی ہوئی۔ جن میں زیادہ تر ایرانی اور قزلباش لوگ تھے۔ اس کی غالباً یہ وجہ تھی کہ اس نے علمائے شیعہ پر ظلم کر کے شیعوں کو ناراض کر دیا تھا۔ اسی خیال سے وہ ازبکوں اور افغانیوں، خصوصاً ابدالیوں کے حال پر زیادہ مہربان ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے مخالفوں میں ایک گہری سازش ہوئی۔ جس نے 1160ھ (1747ء) میں اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔

نادر جس جگہ مارا گیا احمد خان وہاں ہاں سے قریب تھا۔ خبر سنتے ہی چڑھ آیا۔ اور ایک ایرانی فوج پر جو خزانہ لیے جاتی تھی حملہ کر کے جو کچھ ان لوگوں کے پاس تھا چھین لیا۔ اور بڑا بھاری خزانہ اپنے قبضے میں کر کے دولت مند بن گیا۔ اور یہ کامیابی حاصل ہوتے ہی معہ اپنے افغانی فوج کے مازندران سے افغانستان کی راہ لی۔ اور پہنچتے ہیں بغیر کسی دشواری کے قندھار پر قابض ہو گیا۔

یہاں ایک ولی کامل رہتے تھے جن کا نام صابر شاہ تھا۔ ان کے مشورہ دینے سے تمام ابدالی ملکوں (سرداروں) نے احمد خان کو اپنا بادشاہ منتخب کر لیا۔ اور تاج شاہی پہنا کے اس سے احمد خان سے احمد شاہ بنا دیا۔ اس کے بادشاہ بنانے میں ابدالیوں کے ساتھ بلوچی قبائل ہزارہ اور شیعہ قزلباش بھی شریک تھے۔ بادشاہ بننے کے بعد احمد شاہ نے غلزئی پٹھانوں کے ساتھ مفتوح و مغلوب دشمنوں کا سا برتاؤ کیا۔ اس لیے کہ وہ خاندان کے بہت پرانے دشمن تھے۔ اور کبھی دوست نہ بن سکتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *