بعنایت حضرت آی جلت قدرته د علت كلمته و بمعجزات كثر البرکات سردار گروه انبیا و مقتدار طائفه صفیا محمد مصطفے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم و بقوت مقدس ارواح حامیان الربعہ ابو بکر و عمر و عثمان و علی رضوان الله تعالی علیه جمعین و جملہ اولیاء اللہ میں سلطانوں کا سلطان خاقانوں کی بر ہان۔ بادشاہوں کو تاج پہنانے والا اور زمینوں پر سایه الهی سلطان بحر ابیض و بحر اسود اناتولیا و رومیلیه و قریان روم و ولایه ذی القدریه و دیار بکر و کردستان و آذربایجان و عجم و شام و حلب و مصر و مکه و مدینه و قدس (بیت المقدس) و جمله بلاد عرب و یمن و دیگر ممالک کثیرہ جن کو میرے محترم آباؤ ذی عظمت احداد انار اللہ برا ہمینہم نے اپنی قوت قاہرہ سے فتح کیا تھا۔ اور بہت سے اور شہر جن کو میری عظمت کے بازو نے نصرت شمشیر سے فتح کیا۔ میں ہوں سلطان سلیمان خان بن سلطان سلیم خان بن سلطان بایزید خان بجانب فرانسیس شاه ولایت فرانس۔ جو خط تم نے بھیجا ہے مع تمھارے خادم فرانقیان بشرط کے ملجائے سلاطین کے آستان پر پہنچا۔ وہ واقعات بھی معلوم ہوئے جو تم نے زبانی کہلا بھیجے ہیں۔ اور ہمیں اس کی بھی خبر ہوئی کہ تمہارا دشمن تمھارے شہروں پر غالب آ گیا۔ اور تم گھرے ہوئے ہو اور انیجانب سے اس بارے مین مدد و توجہ کے خواستگار ہو خصوصا اپنی رہائی کے بارے میں جو کچھ تم نے کیا ہے وہ سب ہمارے شاہانہ دربار کے تخت کے آستان پر پیش کر دیا گیا۔ میرا علم شریف تفصیلی طور پر اُس سے آگاہ ہو گیا۔ اور بوجہ احسن منکشف ہوا۔ بادشاہوں کا قید ہونا اور تنگی میں پڑنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ لہذا تو خاطر جمع رکھ اور پریشان نہ ہو۔ اس لیے کہ میرے بزرگ آبا اور سرا پا جلال و اجلال اجداد (خدا ان کے مرقدوں کو نورانی کرے) کبھی جنگ و پیکار سے خالی نہ رہے۔ شہروں کو فتح کرتے اور دشمنوں کو بھگاتے رہتے۔ اور ہمارا بھی ہی شعار ہے اس لیے کہ ہم اُن کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ اور ہمیشہ دشوارہ گزار شہروں کو اور مضبوط قلعوں کو فتح کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے گھوڑے شب و روز کسے کھڑے رہتے ہیں۔ ہماری تلواریں ہمیشہ میان کے باہر رہا کرتی ہیں۔ اور حق سبحانہ و تعالیٰ اپنے ارادے اور اپنی مشیت سے کامیابی کو آسان کر دیتا ہے۔ باقی حالات و واقعات کو تم اپنے خادم کی زبان سے معلوم کرو گے۔ بس تمھیں اتنا ہی معلوم رہے۔

مرقومہ اوائل ربیع الآخر 932 ھ مقام دارالسلطنت عليہ قسطنطینہ محروسہ مجیہ۔

اس تحریر میں سلطان سلیمان نے نہ کسی بات کا وعدہ کیا ہے اور نہ کوئی کارروائی اپنے ذمہ لی ہے۔ مگر اُن دنون فرمان روائے اسلام کے دو کلمۂ تسلی بھی یورپ کے مغلوب کرنے کے لیے کافی سمجھے جاتے تھے۔ چنانچہ دوسرے ہی سال شعبان خان نے ہنگاریہ پر حملہ کر دیا۔ ہوہکر کے میدان میں شاہ ہنگاریہ کو ایسی فاش شکست دی کہ سارا ہنگاریہ مطیع فرمان ہو گیا۔ پھر او بوداپسٹ میں داخل ہو کر سلطان سلیمان نے جان زابوئی کو تاج بخشی کر کے ہنگاریہ کا بادشاہ بنایا اور دار الخلافت میں واپس آیا۔

اس کے بعد ترکوں اور سلطنت فرانس میں ایک خاص معاہدہ ہو گیا۔ جس کی رو سے عام عیسائیوں کو امن و امان اور حفاظت کے ساتھ زیارت بیت المقدس کی آزادی دی گئی۔ اور عیسائیوں کی ہر طرح سے بے انتہا خاطر داشت کی گئی۔

یہ دولت عثمانیہ کے خاص شباب کا زمانہ تھا خیر الدین پاشا کے مطلع منقاد بن جانے سے سلطنت خلافت کی بحری قوت یک بیک اس قدر ترقی کر گئی کہ ساری دنیا کی سب سے اول درجے کی بحری قوت دولت عثمانیہ تھی۔ اور بحر روم میں ترکوں کی ایسی سطوت قائم ہو گئی تھی کہ دور سے ہلالی پرچم دیکھتے ہیں دشمنوں کے ہواس جاتے رہتے اور کسی کو بجز ہتھیار رکھ دینے اور ہاتھ پاؤون ڈال دینے کے کسی کا م میں مفر نہ نظر آتا تھا۔ اور اسی سلسلہ میں تونس طرابلس اور الجریرہ سریر آرائے آل عثمان کے زیر نگین ہو گئے۔ بعد ازاں پورا جزیرہ نمائے عرب بھی قلمرو خلافت میں شامل ہو گیا۔ اور ترکی بیڑہ خلیج سویز سے روانہ ہو کر سندھ اور گجرات کے سواحل پر آ پہنچا اور جابجا پرتگیزوں کو ہندوستان کی بندرگاہوں سے مار کے نکالا۔

20 صفر 974ھ، 1566ء میں سلطان سلیمان نے سفر آخرت کیا۔ اور اُس کے مسند خلافت پر تیسرے عثمانی خلیفہ سلطان سلیم خان غازی نے قدم رکھا۔ اور اُسی زمانے سے سلطنت عثمانیہ نے بجائے ترقی کی شاہرا کے انحطاط کی جانب قدم رکھا اور روز بروز سلاطین آل عثمان کی حالت ابتر اور روبہ زوال نظر آنے لگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *