اس دیس سے نکل کر میں ایک ایسی سر زمین میں پہونچا جہاں قدرت نے جی کھول کر جادو جگائے تھےاور چیہ چپہ پر ایسے جال بچھائے تھے کہ دل انسان کا ان سے بچکر نہیں جا سکتا تھا۔۔۔ گاؤں گاؤں پرستان، نگر نگر طلسمات، کوئی جائے تو کدھر کو جائے۔ جدھر آنکھ اٹھتی تھی حوروں کے جمگھٹے، پریوں کے پرے اور مغبچوں کے مجمعے دکائی دیتے تھے۔ یہ درویش ہر قدم پر اپنے ایمان کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگ رہا تھا اور ان صورتوں کےبنانے والے کے کمال عش عش کر رہا تھا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آسمان زمیں پر اتر آیا ہے یا زمین آسمان پر پہونچ گئی ہے۔

آخر نہ رہا گیا اور ایک راہگیر سے پوچھا کہ بھائی یہ کون سا دیس ہے؟ اور میں عالم ہوش میں ہوں یا خواب میں؟ جواب ملا یہ دس دریاؤں کی سرزمین ہے اور تم عالم بیداری میں ہو اور بیداری کا ثبوت دینے کے لیے اس نے میرے کان میں زور سے کاٹا۔ درد کے احساس سے خود مجھے بھی اعتبار آ گیا کہ میں واقعی جاگ رہا ہوں اور حقیقت سے دوچار ہوں۔ اتنے میں راگیر تو چلا گیا اور میں یہ سوچنے لگا کہ جس سر زمین کے عام لوگ اس قدر حسین ہیں وہاں کے شاہی خاندان کا نہ جانے حسن کا کیا عالم ہو گا۔ اتنے میں آنکھ جو اٹھی تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے برق اندازوں کا ایک دستہ کھڑا ہے۔ ان کی دستاروں کے طرے آسمان سے باتیں کر رہے تھے، ان کے چہروں پر نقابیں ہیں لیکن ان کی مغرور مونچھیں نقابوں سے باہر جھانک رہی ہیں۔ ان کے سالار نے چھوٹتے ہی مجھ پر گالیوں کی بوچھاڑ کی اور کہا کہ تمہیں سلطان الملک سکندر خضر قاہر شاہ کے حرم محترم کے بارے میں بے ادبانہ انداز سے ’’سوچنے‘‘ کے جرم میں گرفتار کیا جاتا ہے۔۔۔ یہ سب کچھ آنکھ کے پنکارے میں ہوا۔ یہ بات کبھی میرے وہم و گمان میں بھی نہ آ سکتی تھی کہ کسی مہذب ملک میں سوچنا تک ممنوع ہے۔ کوئی اور ہوتا تو یقینا گھبرا جاتا۔ لیکن قلندر اپنی زندگی میں اتنے صدمے سہہ چکا ہے کہ تھوڑے کے لیے کبھی پریشان نہیں ہوتا۔ چناچہ میں نے اپنا گرفتاری کا حکم نامہ دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس پر مجھے گالیوں کی ایک اور باڑھ ماری گئی۔ اور دوستو، کیا بتاؤں کہ وہ کیسی گالیاں تھیں۔ میرا خیال ہے کہ انہیں سن کر خود شیطان الرجیم بھی شرما جائے۔ خیر جب گالیوں کا طوفان تھما تو مجھے بتایا گیا کہ دس دریاؤں میں کسی کو گرفتار کرنے کے لیے حکم ناموں کی ضرورت نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک آزاد منش قلندر کی نظروں میں یہ ایک نہایت ہی ظالمانہ حرکت تھی جس کے خلاف احتجاج ضروری تھا۔ لیکن مجھے اس کی بھی مہلت نہ ملی۔ ایک برق انداز نے لپک کر میرے منہ میں کپڑا ٹھونس دیا۔ دو اور نے بڑھ کر مجھے کسی بقچہ کی طرح اٹھایا اور ایک پرانے قلعہ میں لا کر قید کر دیا گیا جہاں پہلے ہی کئی زندانی موجود تھے۔ سخن گو، نویس اور فنسفی قسم کے انسان جو آزادی بیگم نامی ایک حسینہ کے عشق کا دم بھرتے تھے، حالانکہ بادشاہ نے اسے صرف اپنے لیے وقف کر رکھا تھا۔ کچھ لوگ ایسے بھی جو قانون فحاشی کی زد میں آئے ہوئے تھے۔ جب میں نے اس جرم کی وضاحت چاہی تو مجھے بتایا گیا کہ وہ عورتوں اور مردوں کو مقفل کوٹھریاں، اور پراسرار مکان، نہیں بلکہ گوشت پوست کی جاندار مخلوق سمجھتے ہیں جس کا دل جذبات و محسوسات کا مسکن ہے۔ جس کے اندر کھانے پینے کی خواہش کی طرح اور بھی کئی خواہشیں موجود ہیں، جس میں اچھائیاں بھی ہیں اوربرائیاں بھی۔ انسانیت بھی ہے اور حیوانیت بھی۔۔۔۔۔ اور اس سلسلہ میں وہ کھری کھری باتیں کہہ جاتے ہیں۔ اور ان بھیدوں کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں جن کے کھلنے پر بعض لوگوں کی بزرگی اور پندار کو ٹھیس لگتی ہے۔ اور ان کے بھونڈے چہروں سے پارسائی کے خوبصورت نقاب ہٹ جاتےہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ان جرائم کے انسداد کے لیے کچھ لوگوں کے لب سی دیے گئے تھے تاکہ وہ بول نہ سکیں اور کئی ایک کے ہاتھ قلم کر دیے گئے تھے کہ وہ لکھ نہ سکیں۔

اس علم دوست، طبقہ کے علاوہ وہاں کچھ بدقسمت ایسے بھی تھے جو اس بوسیدہ قلعہ کی سرد دیواروں کے سایہ میں زندگی کے آخری سانس لے رہے لیکن اب تک انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ جس خطا کی انہیں سزا مل رہی ہے وہ خطا کیا ہے۔ اپنے رکھوالوں کے رویہ سے مجھے معلوم ہو رہا تھا کہ میرا بھی کچھ ایسا ہی حشر ہونے والا ہے۔ جو مجھ سے پہلے نہ جانے کتنوں کا ہو چکا ہے۔ نہ قاضی، نہ قانون، نہ مقدمہ، اور قید میں پڑے پڑے اپنے مقدر کو کوستے ہوئے مر جاؤ۔ اب میں یہ سوچنے لگا کہ اس مصیبت سے کیونکر نجات ملے۔ مثل مشہور ہے کہ جولوگ اپنی مدد کرتے ہیں خدا بھی ان کی مدد کرتا ہے۔ اور اس خیال کے آتے ہی میں نے اپنے ذہن کا کشکول ٹٹولنا شروع کیا اور بہت رات گئے تک سوچتا رہا کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں لیکن کوئی فیصلہ نہ کر سکا۔ آخر تھک کر سونے کا ارادہ کیا۔ بانہہ جو سر کے نیچے رکھتا ہوں تو کانوں کی بالیاں چھبیں اور مجھے یاد آگیا کہ بظاہر موٹی موٹی، کان پھاڑ بالیوں کے بیچ ہیرے پوشیدہ ہیں۔ ایک بار ہمالہ کی برف پوش بلندیوں پر میری یک ہندو جوگی سے ملاقات ہوئی تھی جس نے نہ جانے کس بات سے خوش ہو کر وہ بالیاں میرے کانوں میں ڈال دی تھیں اور کہا تھا کہ جا تیرے کام آئیں گی، ان کے اندر ہیرے پوشیدہ ہیں۔ اس رات کال کوٹھڑی میں جوگی کے یہ الفاظ میرے کانوں سے بالیاں اتاریں اور ان کے کھلے حصوں کو ہتھیلی پر الٹ دیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے روشنی کے چند قطرے منجمد ہو کر تاریکیوں کی گود میں گر پڑے ہوں۔ انہیں دیکھ کر داروغہ زندان کی آنکھیں چندھیا گئیں اور قلندر دم زدن میں قلعہ کے باہر تھا۔ نیلے نیلے آسمان اور ہرے بھرے کھیتوں کو دیکھ کر میں نے اپنے خالق کا شکر ادا کیا میرے پاؤں پھر کسی نئی منزل کی تلاش میں اٹھے اور سفر کی صعوبتیں سہتا ایک روز میں ایک ایسے شہر میں پہونچا جو ایک صناع شہنشاہ کی سلطنت کا دارالخلافہ رہ چکا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *