جس طرح ذبح ہونے کے بعد بھی بکرے کے اعضا کافی عرصے تک پھڑکتے رہتے ہیں بعینہ اسی طرح کسی معاشرت کی موت کے بعد اس کا پالنا کچھ دیر تک جھولتا رہتا ہے۔ اس شہر میں بھی مجھے کچھ ایسی ہی کیفیت کا احساس ہوا۔ یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے وہاں کی ہر جیز دھڑک تو رہی ہے لیکن اسے دھڑکانے والی طاقت ختم ہو چکی۔ وہ شہر ایک ایسی تہذیب کی لاش تھی جس پر مشرق کو ناز تھا ۔ اور وہ بعد المرگ دھڑکنیں اس زندگی کا پتا دے رہی تھیں جو اس کی موت کا باعث تھی۔۔۔۔۔۔ یہاں میں نے مردوں کو عورتوں کی طرح رنگا رنگ پھولدار کپڑوں میں ملبوس دیکھا ۔ آنکھوں میں سرمہ کی سیاہی، ہونٹوں پر پان کی لالی، کان میں عطر کی پھریری ، مٹک کے چلتے ہیں، تھرک کے بات کرتے ہیں۔ لفظ لفظ پر کورنش، فقرے فقرے پر آداب، ان کی ہر ادا سے ادا نکلتی ہے اور ہر سانس پدرم سلطان بود پکار رہا ہے۔ شاعری یہاں کسی معتدی بیماری کی طرح پھیلی ہوئی تھی ۔ یہاں کے بقال اور کنجڑے بھی سخن فہمی اور سخن گوئی کے دعویدار تھے۔ ہر قدم پر مجھے تیر مثرگاں کے شہید اور تیغ ابرو کے گھائل نظر آئے لیکن کوئی تیر انداز دکھائی دیا نا تیغِ زن۔ بت سادہ نظر آیا نہ رنگ بستہ و چہرہ قد نہادہ۔

اس شہر میں ایک عجیب و غریب مزار بھی میرے دیکھنے میں آیا۔ معمر سفید ریش مجاور داڑھیوں سے اس مزار کو صاف کرتے ہیں اور سیاحوں کو اس کا حال بتاتے ہیں جو اس کے اندر دفن ہے۔ بادشاہوں کی داشتہ، بیگمات کی منہ چڑھی، رئیسوں کی محبوبہ اور شاعروں کی معشوقہ، اس کے بارے میں یہ مشہور ہے کے وہ کوثر سے نہا دھو کر دنیا میں آئی تھی۔ کتبہ پر نستعلیق حروف میں ’’زبان بائی‘‘ کے الفاظ کندہ ہیں۔

اس مزار کے علاؤہ اس شہر کی مایہ ناز جیز مسجد ہے اور میرا خیال ہے کہ اس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ میں دنیا کا کونہ کونہ گوم چکا ہوں لیکن فن تعمیر کا ایسا نمونہ میرے دیکھنے میں نہیں آیا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اسے انسانوں نے نہیں جنوں نے بنایا ہے اور پریوں نے اس کی نوک پلک نکالی ہے۔ اسے دیکھ کر تو ایک بار برہمن کا بھی نماز پڑھنے کو جی چائے۔ لیکن آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ فن تعمیر کے اس عظیم الشان شہکار کی سیڑھیوں پر کبابیوں اور کباڑیوں کی دکانیں نظر آرہی ہیں۔ یہ کریہہ منظر دیکھ کر ایک روز مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے ایک نمازی سے پوچھا کہ بھائی تم لوگ ان دکانوں کو یہاں سے اٹھوا کیوں نہیں دیتے۔ جواب ملا۔ دکانیں اٹھ گیں تو مسجد کے متولی رنگ رلیاں کیسے منائیں گے۔ اس شخص کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ مسجد کے متولیوں نے مسجد کے نام پر بازار حسن میں بھی کچھ جائداد رکھی ہے جس کا کرایہ وہ خود جا کر وصول کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ باتیں سن کر میرا جی اس شہر سے اس قدر بیزار ہوا کہ پل بھر کو بھی وہاں رکنا ناگوار ہوا اور شہر بہ شہر ہوتا ہوا میں جادوگروں کے دیس میں پہنچا۔

اور دوستو کیا عرض کروں کہ ان دو آنکھوں نے وہاں کیا کیا نہ دیکھا۔ بال دیکھے اتنے گھنے اور اتنے لمبے کہ عورت کا جسم ان میں چپ جائے، اور شریر سے شریر نگار بھی یہ نہ جان سکے کہ ان کے نیچے کیا ہے۔ گال دیکھے جن کی ملاحتیں کسی سادھو کے سر و سریر میں بھی کام کی اگنی سلگا دیں۔ نین دیکھے جن میں ساون کی مدہ ماتی راتوں کے رومان سوتے ہیں، جن میں دنیا بھر کے مدھو شالاؤں کا نشہ ہے اور جنہیں دیکھ کر جیون بھر کے جاگے ہوئے تپسوی کو بھی نیند آ جاۓ۔ بادل دیکھے جو مانند دھنکی ہوئی روئی کے تھے۔ برکھا دیکھی جیسے موتیوں کی چق۔ پنچھی دیکھے جن کے پروں میں قوس قزح کے پیوند لگے تھے۔ پھول دیکھے جن کے سترنگے کٹوروں سے روح کو مدہوش کرنے والی خوشبوئیں میں اٹھ رہی تھیں۔ قصہ مختصر رنگ و روپ کا ایک دریا بہہ رہا تھا جسے دیکھ کر مجھ جیسے جہاں گرد کا بھی دل ڈول گیا۔ سمجھا کہ شاید میری منزل آ گئی۔ لیکن مقدر کو کچھ اور کی منظور تھا۔۔۔۔۔۔۔ اس خواب آور سر زمین کے مشرق میں ایک اور ملک ہے جس کے بادشاہ کے سر میں بیٹھے بٹھائے جہاں گیری کا سودا سمایا اور اس نے جادو گروں کے دیس میں حملہ کر دیا۔ کہتے ہیں کے مصیبت کبھی اکیلی نہیں آتی۔ ادھر دشمن سر پہ پہونچا اور ادھر خطرے نے سر نکالا۔ بیماریاں بیدار ہوئیں اور خلقت خدا کی وبا زدہ چوہوں کی طرح مرنے لگی۔ اتنے میں خبر پھیلی کہ راجدھانی میں کروڑوں من اناج موجود ہے۔ چنانچہ بھوکے اور بیکس کسانوں کے کارواں امید کا آسرا لئے راجدھانی کی طرف بڑھے۔ ہر راہگزار پر کنبوں کے کنبے رینگتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ گرسنا و گریاں، افتاں و خیزاں، روٹی کی امید میں بڑھتے ہوئے قافلے۔۔۔ لیکن جو ہونا چاہیے وہ ہوتا ہی کب ہے۔ وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ انہی دنوں وہاں کے امیروں کے دل میں اور بھی امیر بننے کا خیال آیا اور دیکھتے دیکھتے سارا غلہ چھو منتر سے غائب ہو گیا۔ بندگانِ خدا سسک سسک کر مرنے لگے، زمین کے چپہ چپہ سے آہ و بکا کی ایسی صدائیں بلند ہوئیں کہ پہاڑ پگھل پڑیں، زمیں شک ہو جائے اور آسمان کے سینے میں شگاف پڑ جائیں۔ لیکن وائے انسان کہ اس آنکھ پر نم نہ ہوئی، اس کا دل نہ پسیچا۔۔۔ امیروں کی آنکھوں پر دولت کے پردے پڑے ہوئے تھے، وہ دیکھ نہیں سکتے تھے۔ حکام کے کانوں میں سونا انڈیل دیا گیا تھا، وہ سن نہیں سکتے تھے۔ ضمیر کی آواز ’’کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ کے نعروں میں دب چکی تھی، اس کی سنتا ہی کون۔۔۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ کوچہ و بازار، شہر و دیہات لاشوں سے پٹ گئے، اور میں نے ان آنکھوں سے دیکھا کہ لاوارثوں کو کتے کھا رہے ہیں اور گدھ ان کے گرد بیٹھے ضیافتیں اڑا رہے ہیں۔۔۔ انہی دنوں ذکرہے، ایک شب جب آسمان سے سرمہ برس رہا تھا اور راجدھانی کسی بیوہ کی طرح سیہ پوش نظر آ رہی تھی، میں نے اس کے کوچہ و بازار میں گشت کرنے کا ارادہ کیا اور انجانی راہوں پر لاوارث لاشوں ٓسے ٹھوکریں کھاتا ہوا نہ جانے کہاں سے کہاں نکل گیا۔ اتنے میں نغمہ و سرود کی صدائیں میرے کانوں میں پڑیں۔ اس پر میری حیرت کی انتہا نہ رہی اور میں یہ جاننے کے لیے بے تاب ہو گیا کہ وہ کون سنگدل انسان ہے جو اس ماتم کدہ میں رقص و سرود سے دل بہلا رہا ہے۔ اور میں نے اپنے دل میں ٹھان لی کہ جب تک اس بھید کو نہ پالوں گا دم نہ لوں گا۔ چنانچہ میں کانوں کے بتائے ہوئے راستہ پہ چلتا ہوا ایک عظیم الشان حویلی کے سامنے رکا۔ جس دروازے پر دو دربان چمکتے ہوئے کٹارے ہاتھوں میں لیے پہرہ دے رہے تھے۔۔۔ کہتے ہیں، جو یندہ یابندہ،۔۔۔ معلوم ہوا کہ وہ علاقہ شہر کے رؤسا اور ملک کے حکام کا مسکن ہے۔ اور وہ حویلی ایک بہت بڑے سوداگر کی نشاط گاہ ہے جس کی جادوگرں کے دیس کے مہامنتری سے گاڑھی چھنتی ہے۔ مہامنتری دیہاتی دوشیزاؤں پر دم دیتا ہے۔ چنانچہ اس کے دوست سوداگر کے گرگے کچھ ’’مال‘‘ گھیر کر لائے ہیں اور حویلی میں رت جگے کا انتظام ہے۔ رات بھر امیری غریبی سے لطف اٹھائے گی اور صبحدم دونوں کچھ اس ادا سے جدا ہوں گے جیسے کبھی ایک دوسرے سے کوئی سروکار ہی نہ تھا۔۔۔ اور دربانوں نے کہا:’’ہر شب یہاں یہی ہوتا ہے‘‘ ۔۔۔راجدھانی کے اس علاقہ کی سیر کرتے وقت وقت مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں کسی اور ہی دنیا میں گھوم رہا تھا۔ جہاں نہ بھوک تھی نہ عریانی، نہ بیماری تھی نہ موت۔۔۔ لیکن محلوں اور ماڑیوں کی اس دنیا سے نکل کر مجھے پھر ان دبکے ہوئے دڑبوں سے دوچار ہونا تھا جنہیں دیکھ کر یہ گمان ہوتا تھا کہ شاید یہاں ڈھور نگر رہتے ہوں گے۔ حالانکہ وہ ان ان گنت انسانوں کے گھر تھے جن کے لہو پسینہ سے محلوں اور ماڑیوں کی تعمیر ہوئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *