اسی قیام علی گڑھ میں ایک روز میں سید احمد خان بہادر سے ملنے کو گیا جن کی بڑی شہرت تھی۔ اور ان کی نسبت عجیب و غریب باتیں سن رہا تھا۔ ان کا مدرسۃ العلوم قائم تھا جو ابھی فقط ہائی اسکول تھا۔ اپنی وضع کے خلاف سید صاحب کے پاس جانے کے لیے میں نے ایک سادہ کارڈ فراہم کیا۔ اور اس پر اپنا نام اپنے ہاتھ سے لکھ کر ان کی کوٹھی پر پہنچ کے وہ کارڈ بھیج دیا۔ فوراً مولوی مشتاق حسین صاحب جو ان دنوں سید صاحب کے پرائیویٹ سکرٹری بنے ہوئے تھے بنی ہوئی ہنسی ہنستے ہوئے میرے لینے کو آئے۔ میرا ہاتھ پکڑ کے اندر لے گئے اور سید صاحب کے پاس ایک کرسی پر بٹھا دیا اور اب ان کا منھ ایسا روکھا تھا کہ گویا کبھی اس چہرے پر ہنسی آئی ہی نہ تھی۔
سید صاحب نے میرا حال پوچھا اور میں نے کہا لکھنؤ کا ایک طالب علم ہوں۔ دہلی میں مولوی نذیر حسین صاحب سے حدیث پڑھتا ہوں اور معقولات کی کتابیں مولوی محمد عبدالحی صاحب سے پڑھ چکا ہوں۔ سن کر خوش ہوئے اور کہا دہلی میں جا کر مولانا نذیر حسین صاحب کو میرا سلام کہہ دینا۔ میں ان کا احترام کرتا ہوں۔ اور قدیم سے ان کی خدمت میں نیاز حاصل ہے۔
میں نے سلام پہنچانے کا وعدہ کر کے کہا سید صاحب آپ نے ایک مقام پر تصویروں کے رکھنے کو جائز بتایا ہے۔ میں اس کو آپ سے سمجھنا چاہتا ہوں۔ فقہی فتوی سے قطع تعلق کر کے میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح معمول ہے کہ ہر مہذب و عاقلانہ طرز عمل مرور زمانہ سے رسم بن جاتا ہے اور اس کے مصالح و اغراض فوت ہو جاتے ہیں اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ یہی تصویریں جو آج کسی دنیوی مقصد سے رکھی جاتی ہیں چند روز بعد پوجی نہ جانے لگیں۔ جیسا کہ گزشتہ بت پرست اقوام میں ہوتا آیا ہے۔ اس پر سید صاحب نے بڑے زور سے ایک قہقہہ لگایا اور فرمایا ’’آئندہ زمانے میں لوگ خدا کو تو پوجتے نظر آتے نہیں تصویروں کو کون پوچھتا ہے‘‘۔ یہ جواب میرے لیے تسکین بخش تو نہ تھا مگر میں سید صاحب کی بزرگی و عظمت کے خیال سے خاموش ہو رہا۔
مولوی شبلی نعمانی مرحوم اس زمانے میں مدرسۃ العلوم کے عربی مدرس مقرر ہو چکے تھے۔ اور اکثر سید صاحب کے پاس رہا کرتے۔ مجھ سے ان سے اگرچہ راہ و رسم بعد کو بڑھا مگر جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں لکھنؤ میں ان کی صورت دیکھ چکا تھا۔ بلکہ مصافحہ بھی کیا تھا۔
علی گڑھ سے واپس آتے ہی میں نے میاں صاحب کی خدمت میں سید صاحب کا سلام پہنچایا۔ اور ان کے پاس جانے کا حال بیان کیا۔ سن کر مسکرائے۔ اور فرمانے لگے۔ ’’سید احمد کے باپ بھی انہیں کی ایسی باتیں کیا کرتے تھے‘‘۔ پھر جب سید احمد خاں کی تکفیر کے فتوی پر ہندوستان کے اکثر علما نے مہریں کر دیں تو میاں صاحب سے ہزار کہا گیا انھوں نے مہر نہ کی۔ اور فرمایا وہ ماڈل ہیں۔ اور ماڈل کو میں کافر نہیں کہہ سکتا۔
میں نے یہاں دہلی میں اگرچہ طالب العلموں کی ایسی بے نفسی کی زندگی اختیار کر لی تھی۔ اور کپڑوں کے اچھے برے ہونے کا بھی خیال بھی نہ گزرتا۔ مگر دعوتوں میں جانے سے بھاگتا۔ جس سے اکثر سابقہ پڑتا اور میرے بھاگنے کی وجہ یہ تھی کہ دہلی والے طالب علموں کو نہایت ذلیل سمجھتے۔ اور ’’ملانا‘‘ کہتے ہیں جو ان کے خیال میں نہایت تحقیر کا لفظ ہے اور لکھنؤ اور دہلی میں مجھ کو یہ نمایاں فرق نظر آیا کہ لکھنؤ والے طالب علموں کی خدمت تو مطلق نہیں کرتے بلکہ بہت کم کھلاتے پلاتے ہیں لیکن ان کو ذلیل و خوار نہیں سمجھتے۔ بلکہ عزت کرتے ہیں۔ اسی بنا پر دہلی میں معمول تھا کہ جن صاحب کو کبھی فاتحہ یا خیرات کی دعوت کرنا ہوئی میاں صاحب کے پاس کہلا بھیجتے کہ اتنے طالب علم کا کھانا کھانے کو بھیج دیجئے۔ میاں صاحب اسی تعداد میں طلبہ کو نامزد کر کے بھیج دیا کرتے۔ مگر یہ لوگ جب وہاں کھانے کو جاتے تو وہ لوگ کھانا تو اچھا کھلاتے مگر کھانے کے بعد ہاتھ دھلوانا بھی انھیں بار ہوتا۔ اور کئی بار ایسا ہوا کہ کھانا کھا کے طلبہ یونہیں چلے آئے اور گھر میں آکر ہاتھ دھوئے۔
دعوت کرنے والوں کی یہ بدسلوکی مجھے بہت گراں گزرتی۔ اور اکثر دعوتوں میں جانے سے بچتا۔ میاں صاحب نے جو میری یہ حالت سنی تو بہت خفا ہوئے۔ اور فرمایا ’’اس کا نفس بہت موٹا ہے۔ لہٰذا ہر دعوت میں یہ ضرور بھیجا جائے‘‘۔ چنانچہ مجھے زبردستی ناگواری کے ساتھ جانا پڑتا۔
میاں صاحب کے طلبہ میں دو نجد کے عربی نژاد طالب علم تھے۔ دونوں کا نام ’’علی‘‘ تھا اور ’’علیین‘‘ یعنی دو علی کہلاتے۔ مجھے ان سے بہت انس ہو گیا۔ وہ مجھے کہا کرتے کہ ان کے ساتھ نجد میں جاؤں۔ اور ان میں سے بڑے علی وعدہ کرتے کہ میں اپنی ایک بھانجی کا تمھارے ساتھ نکاح کر دوں گا جو بڑی حسین و شکیلہ ہے۔ میں نے بتایا کہ میری بیوی موجود ہیں۔ انھوں نے کہا مضائقہ کیا ہے۔ دو بیویاں کر لینا۔ میرا ان کے ساتھ جانے کو جی تو بہت چاہتا تھا مگر ہمت نہ ہوئی۔ اور اعزہ کے تعلقات نہ چھوڑے گئے۔
چھوٹے علی کے پاس ’’علامہ محمد بن عبد الوہاب‘‘ کی ’’کتاب التوحید‘‘ تھی۔ میں نے دیکھا تو اس کو عقائد میں ایک نہایت ہی اچھا رسالہ پایا۔ جس میں اعتقادی مسائل پر آیات قرآنی اور صحیح احادیث سے نہایت خوبی اور صفائی کے ساتھ استدلال کیا گیا تھا۔ مولوی فضل رسول صاحب بدایونی جو غالباً اس زمانے میں زندہ موجود تھے اور اہل حدیث کے سخت ترین دشمن اور تردید کرنے والے سمجھے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ انھوں نے شاہ ولی اللہ صاحب کے خاندان کو نہایت بدنام کر رکھا تھا مولوی شاہ اسماعیلؒ صاحب غازی، شہید، کی نسبت کہتے تھے کہ ان کی کتاب ’’تقویۃ الایمان‘‘ محمد عبد الوہاب کی ’’کتاب التوحید‘‘ کا ترجمہ ہے جو حج کے موقع پر مولوی اسماعیلؒ کے ہاتھ لگ گئی تھی۔ چونکہ مجھے رسالہ ’’التوحید‘‘ اور تقویۃ الایمان جداگانہ کتابیں نظر آئیں۔ اور دونوں کا بیان اور ترتیب ابواب بالکل الگ تھی لہٰذا یہ دیکھ کر مجھے مولوی فضل رسول کی جرات پر حیرت ہوئی۔ میں فوراً آمادہ ہو گیا کہ رسالہ التوحید کا اپنی زبان میں ترجمہ کر ڈالوں۔ اور مولوی تلطف حسین صاحب اس کے چھاپنے کو تیار ہو گئے۔ چنانچہ میں نے ترجمہ کیا اور وہ چھپ گئی۔ اور میری یہی پہلی کتاب ہے جو شائع ہوئی۔ اور شاید دہلی میں کئی بار چھپ چکی ہے۔ رسالہ التوحید سے اس نسخے کی بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس پر محمد عبد الوہاب کے فرزند کی مہر تھی۔ اور مصنف علامہ کے خاندان کی کتاب تھی۔
بعد فراغ 1299ھ میں لکھنؤ واپس آیا۔ مولانا محمد عبد الحی صاحب سے ملا۔ جو مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ اور بعد میں جب تک زندہ رہے نہایت شفقت سے پیش آتے رہے۔
