جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

آشنا ہر خار را از قصّۂ ما ساختی

حضرت اقبال کے اردو کلام سے ایک زمانہ مستفید ہو چکا ہے لیکن یہ امر نسبتاً کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ جناب موصوف فارسی کام پر بھی کماحقّہ قدرت رکھتے ہیں۔

اِس صنف میں اُن کے لطفِ زبان اور حسنِ بیان کا ذیل کی غزل سے اندازہ ہو سکتا ہے جسے تیمناً درج کرتے ہیں۔ ان کی طبع نیساں کا یہ ترشح امید دلاتا ہے کہ تمدّن کی کشتِ مضامین آئیندہ بھی اُن کے ترشحاتِ قلم سے سیراب ہوتی رہے گی۔ اردو اور فارسی کا ایسا چولی دامن کا ساتھ ہے کہ فارسی غزلیات کا اردو رسائل میں ہونا کسی طرح بھی ناموزوں نہیں۔ اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ ’’تمدّن‘‘ آیندہ بھی صاحبِ کام شعرا کے فارسی کلام کا نمونہ وقتاً فوقتاً پیشکشِ ناظرین کرتا رہے گا۔ (پروفیسر میرزا محمد سعید صاحب۔ ایم۔ اے)۔

آشنا ہر خار را از قصّۂ ما ساختی

در بیابانِ جنوں بُردی و رُسوا ساختی

ترجمہ تو نے ہر کانٹے کو ہمارے قصے سے واقف کر دیا، ہمیں جنوں کے بیابان میں لے گیا اور رسوا کر دیا۔

جُرمِ ما از دانۂِ، تقصیرِ او از سجدۂ

نہ بآں بیچارہ مے سازی نہ با ما ساختی

ترجمہ ہمارا جرم دانے (گندم) کا تھا اور اس (شیطان) کی خطا سجدے کی تھی۔ نہ تو اس بیچارے سے بنا سکا اور نہ ہم سے بنا سکا۔

ای خنک روزی کہ فرمانِ پریشانی دہی

مشتِ خاکِ را کہ حشرِ آرزو ہا ساختی

ترجمہ وہ دن کتنا مبارک ہو جب تو پریشانی کا فرمان جاری کرے، اس مشتِ خاک کے لیے جسے تو نے آرزوؤں کا حشر بنا دیا ہے۔

جرمِ امروز ست فالِ چہرہ فردائے حشر

آفتاب ایں سحر از ظلمتِ ما ساختی

ترجمہ آج کا جرم ہی روزِ حشر کے چہرے کی پیشین گوئی ہے۔ تو نے اس صبح کا آفتاب ہماری ہی تاریکی سے پیدا کیا ہے۔

صد جہاں می روید از کشتِ خیالِ ما چو گُل

یک جہاں و آن ہم از خونِ تمنّا ساختی

ترجمہ ہمارے خیال کی کھیتی سے پھول کی طرح سینکڑوں جہان اگتے ہیں، (مگر تو نے) ایک ہی جہان بنایا اور وہ بھی تمنا کے خون سے۔

ایں چہ افسوں و چہ نیرنگ ست اے حسنِ غیور

دیدہ بخشیدی و محرومِ تماشا ساختی

ترجمہ اے غیرت مند حُسن! یہ کیسا جادو اور یہ کیا فریب ہے؟ کہ تو نے آنکھیں تو عطا کیں مگر دیدار سے محروم کر دیا۔

طرحِ نو افگن کہ ما جدت پسند افتادہ ایم

ایں چہ حیرت خانۂ امروز و فردا ساختی

ترجمہ کوئی نئی بنیاد ڈال کہ ہم جدت پسند واقع ہوئے ہیں، یہ تو نے آج اور کل کا کیسا حیرت کدہ بنا دیا ہے؟

اے سرت گردم چہ پنداری کہ ما نشناختیم

چاکِ دامنِ خود از دستِ زلیخا ساختی

ترجمہ میں تیرے قربان جاؤں! تو کیا سمجھتا ہے کہ ہم پہچان نہ سکے؟ تو نے اپنا دامن زلیخا کے ہاتھ سے چاک کروایا ہے۔

پر تو حسن تو مے افتد بروں مانندِ رنگ

صورتِ مے پردہ از دیوارِ مینا ساختی

ترجمہ تیرے حسن کا جلوہ رنگ کی طرح باہر جھلکتا ہے، جیسے تو نے شراب کی صورت کو صراحی کی دیوار کا پردہ بنا دیا ہو۔

بر لبِ اقبال مُہرِ خامشی زیبا نبود

چوں دلِ وارفتہ اش را نغمہ پیرا ساختی

ترجمہ اقبال کے لبوں پر خاموشی کی مہر مناسب نہ تھی، جب تو نے اس کے شیدا دل کو نغمہ گو بنا دیا تھا۔