اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

آبیار چمن رنگ سراب است اینجا

آبیارِ چمنِ رنگ سراب است اینجا

در گلِ خندۂ تصویر گلاب است اینجا

ترجمہ یہاں رنگ کے چمن کی آبیاری کرنے والا سراب ہے؛ یہاں تصویر کی ہنسی کے پھول میں گلاب کا عرق ہے۔

وہم تا کی شمرد سال و مہِ فرصتِ کار

شیشۂ ساعتِ موہوم حباب است اینجا

ترجمہ وہم کب تک کام کی مہلت کے سال و ماہ گنتا رہے گا؟ یہاں موہوم گھڑی کا شیشہ ایک بلبلہ ہے۔

چیست گردونِ ہوس افزای خیالاتِ عدم

عالمی را بہ ہمین صفر حساب است اینجا

ترجمہ عدم کے خیالات کی ہوس بڑھانے والا یہ آسمان کیا ہے؟ یہاں ایک عالم کا حساب اسی صفر پر ہے۔

چہ قدر شب رود از خود کہ کند گردِ سحر

مو سفیدی عرقِ سعیِ شباب است اینجا

ترجمہ رات کتنا اپنے آپ سے گزرتی ہے کہ صبح کی گرد بنتی ہے؛ یہاں بالوں کی سفیدی جوانی کی کوشش کا پسینہ ہے۔

قدِ خم گشتہ نشان می دہد از وحشتِ عمر

بر درِ خانہ از آن حلقہ رکاب است اینجا

ترجمہ جھکا ہوا قد عمر کے رم کر جانے کی خبر دیتا ہے؛ اسی لیے یہاں گھر کے دروازے کا حلقہ رکاب ہے۔

عشق ز اول علمِ لغزشِ پا داشت بلند

عذرِ مستان بہ لبِ موجِ شراب است اینجا

ترجمہ عشق نے شروع ہی سے لغزشِ پا کا علم بلند رکھا؛ یہاں مستوں کا عذر شراب کی موج کے لب پر ہے۔

بوریا راحتِ مخمل بہ فراموشی داد

صد جنون شورِ نیستان رگِ خواب است اینجا

ترجمہ بوریے نے مخمل کی راحت فراموشی کے حوالے کر دی؛ یہاں نیستان کا سو جنون بھرا شور نیند کی رگ ہے۔

لذتِ داغِ جگر حقِ فراموشی نیست

قسمتی در نمکِ اشکِ کباب است اینجا

ترجمہ جگر کے داغ کی لذت فراموشی کا حق نہیں؛ یہاں کباب کے آنسو کے نمک میں ایک حصہ ہے۔

ہمہ در سعیِ فنا پیشتر از یکدگریم

با شرر سنگ گروتاز شتاب است اینجا

ترجمہ ہم سب فنا کی کوشش میں ایک دوسرے سے آگے ہیں؛ یہاں پتھر چنگاری کے ساتھ جلدی میں بازی لگا رہا ہے۔

رستن از آفتِ امکان تہی از خود شدنست

تو ز کشتی مگذر عالمِ آب است اینجا

ترجمہ امکان کی آفت سے چھٹکارا اپنے آپ سے خالی ہو جانا ہے؛ تو کشتی سے نہ اتر، یہاں پانی کا عالم ہے۔

زین ہمہ علم و عمل قدرِ خموشی دریاب

ہرکجا بحثِ سئوالی ست جواب است اینجا

ترجمہ اس سارے علم و عمل سے خاموشی کی قدر سمجھ لے؛ یہاں جہاں کہیں کسی سوال کی بحث ہے، وہی جواب ہے۔

بیدل آن فتنہ کہ توفانِ قیامت دارد

غیرِ دل نیست ہمین خانہ خراب است اینجا

ترجمہ بیدل! وہ فتنہ جو قیامت کا طوفان رکھتا ہے، دل کے سوا کچھ نہیں؛ یہاں یہی خانہ خراب ہے۔