اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

افسوس مسلمانوں کے حال پر

(تہذیب الاخلاق یکم ربیع الثانی 1291ھ‌18 مئی 1874ء)

ناصر الاخبار دہلی نے قسطنطنیہ کے اخبار سے کچھ حال بیت المقدس کے مسلمانوں کا لکھا ہے، ہم بھی اس کو اپنے پرچے میں نقل کرتے ہیں، اس مراد سے کہ ہمارے بھائی ہندوستان کے مسلمان اس پر غور کریں اور اپنی قوم کی بھلائی و بہتری و ترقی کی کوشش کریں۔ دیکھو تمام دنیا کے مسلمانوں کا اور ان کا بھی جو خود مسلمان بادشاہت میں رہتے ہیں تعصب و جہالت و نادانی اور کم فہمی سے کیا حال ہو گیا ہے اور آئندہ کیا حال ہونے والا ہے۔ پس اب کون سی ذلت اور خواری باقی ہے جس کے آنے کی خوشی میں بیٹھے ہو۔ دیکھو خبردار ہو، ہوشیار ہو، جو راہ ہم نے مدرسۃ العلوم قائم کرنے اور مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کی سوچی ہے وہی راہ ان کی بھلائی کی ہے۔ دیکھو اس کی امداد سے غافل نہ ہو، کوشش کرو اور دل و جان سے اس کے لیے چندہ جمع کرو۔ دیکھو ہماری ناچیز کوششوں سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ چندہ ہو گیا ہے۔ اگر اور لوگ بھی دل سے کوشش کریں اور باہمی نفاق اور اختلاف کو نکال ڈالیں تو مسلمانوں کے حق میں زیادہ تر مفید ہوگا۔ کیا تعجب کی بات ہے کہ جو کوئی یہ خیال کرے کہ اگر مجوزہ مدرسۃ العلوم قائم نہ ہوا تو سید احمد کو خفت ہوگی۔ سید احمد کو خفت ہو یا نہ ہو، اس میں کچھ شک نہیں کہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کو تو منہ دکھانے کی جگہ نہیں رہنے کی، اور یہ بھی ہم اپنی عزیز قوم کو سمجھائے دیتے ہیں کہ اگر یہ تدبیر کارگر نہ ہوئی اور انجام کو نہ پہنچی تو یقین جان لینا کہ پھر کبھی مسلمانوں کی بھلائی و بہتری کی توقع نہیں ہونے کی۔ پس یہ اخیر دوا ہے، خدا کو مانو، اس کو ہونے دو۔ اپنی قوم کے حق میں اپنے ہاتھوں کانٹے مت بوؤ۔ اگر مسئلہ مسائل میں بحث ہے یا مخالفت ہے تو ہم سے، مدرسۃ العلوم کو اس سے کیا تعلق ہے۔ گنہگار ہوں تو میں ہوں، تقصیروار ہوں تو میں، تمام مسلمانوں نے اور ان کی اولاد نے اور خود تمہاری اولاد نے تمہارا کیا قصور کیا ہے جو مدرسۃ العلوم کی مخالفت سے یا اس میں مدد نہ کرنے سے ان کے ساتھ دشمنی کرتے ہو۔

اُس اخبار میں لکھا ہے کہ اس زمانے سے پیشتر شہرِ قدس میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان آباد تھے اور تین سو ساٹھ سے زیادہ مدرسے تھے۔ چنانچہ اب تک ان کے نشان موجود ہیں اور بزبانِ حال اس مضمون کے گویا ہیں کہ سوائے خدا کے سب شیئی کو تغیر و زوال ہے۔ اب اس شہر میں تیس ہزار سے زیادہ باشندے نہیں ہیں جن میں سے اٹھارہ ہزار یہودی اور پانچ ہزار مسلمان، ایک ہزار کیتھولک اور تین ہزار روسی اور مسکوبی اور ایک ہزار ارمنی و قبطی اور سریانی و حبشی اور ایک ہزار انگریز پروٹسٹنٹ اور المانی اور ایک ہزار اور مختلف قومیں ہندی اور عجمی ہیں۔

اکثر مکتب یہودی اور نصرانیوں کے ہیں اور مسلمانوں کے مکتب کا پتا بھی نہیں۔ ہاں ایک مکتب رشیدیہ خاص ان کا ہے، مگر ایسا مکتب ہے کہ جس دن سے وہ مکتب کھلا ہے جس کو سات برس کا عرصہ گزرا ہے، کوئی طالبِ علم اس میں ایسا نہیں نکلا جو عربی لکھنا جانتا ہو، چہ جائیکہ تُرکی یا فرانسیسی یا اور کوئی زبان بھی جانے۔ اس واسطے تمام سوداگر اور اہلِ حرفہ یہودی ہیں یا نصاریٰ ہیں، لیکن کوئلے والے اور لکڑیوں والے اور ترکاری والے اور مزدور مسلمان ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الالباب‌پس عبرت حاصل کرو اے عقل والو۔

پس ہم اپنے بھائی ہندوستان کے مسلمانوں سے بمنت عرض کرتے ہیں کہ اس واقعے سے نصیحت پکڑیں اور اپنے بھائی مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے جو مدرسۃ العلوم قائم ہونا تجویز ہوا ہے اس کے لیے چندہ فراہم کرنے کی کوشش فرمائیں۔

یہ حال جو لکھا گیا ان مسلمانوں کا تھا جو خاص سلطانِ روم کی عملداری کے رہنے والے ہیں، ہندوستان کے مسلمانوں کا حال بھی ایسا ہی ہے یا ایسا ہی ہونے والا ہے۔ میور گزٹ‌Muir Gazette میں پنجاب ریلوے کے ایک ملازم نے ایک واقعہ چھاپا تھا جس کی اس مقام پر مرقع تہذیب لکھنؤ سے بعینہ نقل کی جاتی ہے۔ اس واقعے کا راقم لکھتا ہے کہ:

’’میں پنجاب ریلوے کے کارخانے سے متعلق ہوں، ان دنوں دو سو قلیوں کے رکھنے کی ضرورت پڑی۔ کیا عرض کروں جس کثرت سے امید وار آئے ہیں۔ یوں تو ہمارے روز بروز دو چار تاک میں لگے رہتے ہیں، لیکن ان دنوں اس کثرت سے آئے جیسے مسلمان، لوگ کہیں نیاز کی روٹیاں تقسیم ہوتی ہوں اور وہاں اوپر تلے گرے پڑتے ہیں۔ دو سو آدمی رکھے بھی گئے، مگر ابھی تک لوگ اسی طرح چلے آتے ہیں۔ مفلس قلاشوں کو دھکے دے کر نکلوایا جاتا ہے، مگر بے غیرت دوسرے روز پھر اسی قدر آن موجود ہوتے ہیں۔ میں خوب غور سے دیکھتا ہوں کہ مسلمان ہی بہت آتے ہیں اور ہندو بہت کم۔ سید اور حافظ اور ملا اور بعضے لکھے پڑھے خاصے منشی ان قلیوں کی نوکری کرنے کے لیے میرے پاس آئے۔ جو دو سو آدمی ملازم رکھے گئے ہیں ان کا حال بھی سن لیجیے۔ دو ثلث مسلمان ہیں اور ایک ثلث ہندو۔ کل شمار میں سید چوتھائی سے زیادہ ہوں گے۔ سو قلی کے کام پر لگائے گئے اور بیس لوہار اور اسّی مستری کے کام پر۔ لوہاروں اور مستریوں میں مَیں نے دیکھا تو بڑی تنخواہ پانے والے فقط دو مسلمان نکلے ورنہ سب ہندو ہیں۔ اس سے زیادہ یہ پایا گیا کہ مسلمان لوگ سوائے ساگ پات بیچنے اور رذیل تر روزگار کرنے کے دستکاری کے کاموں میں بھی اور اقوام کے برابر توجہ نہیں کرتے ہیں۔ میں شہر میں رہتا ہوں، ہر روز سینکڑوں آوازیں سنتا ہوں کہ بابا سید آلِ رسول کو للہ ایک روٹی دو۔ میں نے یہ حال آپ کی خدمت میں اس واسطے لکھ بھیجا ہے کہ مسلمان لوگ اسے دیکھ کر ذرا شرمائیں اور اپنی حالت درست کرنے اور اپنے تئیں مرفہ الحال‌خوش حال بنانے کے اسباب حاصل کرنے میں ہمہ تن مصروف ہو جائیں۔ کیا غضب ہے کہ آلِ رسول کہلائیں اور اپنے آپ کو ایسا ذلیل بنائیں۔ رسولِ خدا کو کیا جواب دیں گے اور اس شریف آل کو جو زکواۃ کا مال اپنے اوپر حرام سمجھتے ہیں (گدائی تو ایک طرف) کیا منہ دکھائیں گے۔‘‘

اب ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے پوچھتے ہیں کہ اس سے زیادہ اور کیا بدبختی اور بد قسمتی ہوگی۔ پس آپس کی مخالفت کو چھوڑو اور اپنی قوم کی دست گیری پر یک دل ہو کر متوجہ ہو۔

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ پنجم (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 305 تا 308 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔