اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

اگر بہ گلشن ز نازگردد قد بلند تو جلوہ فرما

اگر بہ گلشن ز ناز گردد قدِ بلندِ تو جلوہ فرما

ز پیکرِ سرو موجِ خجلت شود نمایان چو می ز مینا

ترجمہ اگر تیرا بلند قد ناز سے باغ میں جلوہ گر ہو تو سرو کے پیکر سے شرمندگی کی لہر یوں نمایاں ہو جیسے صراحی سے شراب جھلکتی ہے۔

ز چشمِ مستت اگر بیابد قبولِ کیفیت نگاہی

تپد ز مستی بہ روی آیینہ نقشِ جوہر چو موجِ صہبا

ترجمہ اگر کوئی نگاہ تیری مست آنکھ سے سرمستی کی قبولیت پا لے تو آئینے کے چہرے پر جوہر کا نقش شراب کی موج کی طرح مستی سے تڑپنے لگے۔

نخواند طفلِ جنون مزاجم خطی ز پست و بلندِ ہستی

شوم فلاطونِ ملکِ دانش اگر شناسم سر از کفِ پا

ترجمہ میرے جنوں مزاج بچے نے ہستی کے نشیب و فراز کا ایک حرف بھی نہ پڑھا؛ اگر میں سر اور تلوے میں فرق پہچان لوں تو دانش کی سلطنت کا افلاطون بن جاؤں۔

بہ ہیچ صورت ز دورِ گردون نصیبِ ما نیست سربلندی

ز بعدِ مردن مگر نسیمی غبارِ ما را برد بہ بالا

ترجمہ آسمان کی گردش سے کسی صورت ہمارے نصیب میں سربلندی نہیں، سوائے اس کے کہ مرنے کے بعد کوئی ہوا ہماری خاک کو اوپر اڑا لے جائے۔

نہ شامِ ما را سحرنویدی نہ صبحِ ما را گلِ سفیدی

چو حاصلِ ماست ناامیدی غبارِ دنیا بہ فرقِ عقبا

ترجمہ نہ ہماری شام کو صبح کی کوئی نوید ہے، نہ ہماری صبح کو سفیدی کا کوئی پھول؛ جب ہمارا حاصل ناامیدی ہی ہے تو دنیا کی خاک عقبیٰ کے سر پر۔

رمیدی از دیدہ بی تأمل گذشتی آخر بہ صد تغافل

اگر ندیدی تپیدنِ دل شنیدنی داشت نالۂ ما

ترجمہ تو بے تامل آنکھ سے بھاگ نکلا اور آخر سو تغافل کے ساتھ گزر گیا؛ اگر تو نے دل کا تڑپنا نہ دیکھا تو ہمارا نالہ تو سننے کے لائق تھا۔

ز صفحۂ رازِ این دبستان ز نسخۂ رنگِ این گلستان

نگشت نقشِ دگر نمایان مگر غباری بہ بالِ عنقا

ترجمہ اس مکتب کے راز کے صفحے اور اس گلستان کے رنگ کے نسخے سے کوئی اور نقش ظاہر نہ ہوا، سوائے عنقا کے پر پر ایک غبار کے۔

بہ اولین جلوہ ات ز دلہا رمیدہ صبر و گداخت طاقت

کجاست آیینہ تا بگیرد غبارِ حیرت درین تماشا

ترجمہ تیرے پہلے ہی جلوے سے دلوں سے صبر بھاگ گیا اور طاقت پگھل گئی؛ آئینہ کہاں ہے کہ اس تماشے میں حیرت کا غبار اٹھا لے۔

بہ دورِ پیمانۂ نگاہت اگر زند لافِ می فروشی

نفس بہ رنگِ کمند پیچد ز موجِ می در گلوی مینا

ترجمہ اگر تیری نگاہ کے پیمانے کے دور میں صراحی مے فروشی کا دعویٰ کرے تو شراب کی موج سے اس کے گلے میں سانس کمند کی طرح الجھ جائے۔

بہ بوی ریحانِ مشکبارت بہ خویش پیچیدہ ام چو سنبل

ز ہر رگِ برگِ گل ندارم چو طایرِ رنگ رشتہ برپا

ترجمہ تیرے مشک بار ریحان کی خوشبو میں میں سنبل کی طرح اپنے آپ میں پیچ کھا گیا ہوں؛ پھول کی پتی کی ہر رگ سے میرے پاؤں میں رنگ کے پرندے کی طرح دھاگا بندھا ہے۔

بہ ہرکجا ناز سر برآرد نیاز ہم پای کم ندارد

تو و خرامی و صد تغافل من و نگاہی و صد تمنا

ترجمہ جہاں کہیں ناز سر اٹھاتا ہے، نیاز کے پاؤں بھی کم نہیں؛ تو ہے اور ایک خرام اور سو تغافل، میں ہوں اور ایک نگاہ اور سو تمنائیں۔

ز غنچۂ او دمید بیدل بہارِ خطِ نظر فریبی

بہ معجزِ حسن گشت آخر رگِ زمرد ز لعل پیدا

ترجمہ بیدل! اس کے غنچۂ دہن سے نظر فریب خط کی بہار پھوٹی؛ حسن کے معجزے سے آخر لعل میں سے زمرد کی رگ ظاہر ہو گئی۔