اگر برافکنی از روی ناز طرفِ نقاب | بلرزد آینہ برخود چو چشمۂ سیماب |
ترجمہ اگر تو ناز سے نقاب کا کنارہ اٹھا دے تو آئینہ پارے کے چشمے کی طرح اپنے آپ پر لرز اٹھے۔ | |
بہ یادِ شبنمِ گلزارِ عارضت عمری ست | خیال مشقِ شنا می کند بہ موجِ گلاب |
ترجمہ تیرے رخسار کے گلزار کی شبنم کی یاد میں ایک عمر سے خیال گلاب کی موج میں تیرنے کی مشق کر رہا ہے۔ | |
ز برقِ حیرتِ حسنت چو موج در گوہر | در آبِ آینہ محوند ماہیانِ کباب |
ترجمہ تیرے حسن کی حیرت کی بجلی سے، موتی میں موج کی طرح، بھنی ہوئی مچھلیاں آئینے کے پانی میں محو ہیں۔ | |
خیالِ وصلِ تو پختن دلیلِ غفلتِ ماست | کتان چہ صرفہ برد در قلمروِ مہتاب |
ترجمہ تیرے وصل کا خیال پکانا ہماری غفلت کی دلیل ہے؛ چاندنی کی قلمرو میں کتان کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ | |
عروجِ ہمتِ ما خاک شد ز شرمِ نفس | کسی چہ خیمہ فرازد بہ این گسستہ طناب |
ترجمہ ہماری ہمت کی بلندی سانس کی شرم سے خاک ہو گئی؛ اس ٹوٹی ہوئی طناب سے کوئی کیا خیمہ اٹھائے۔ | |
در این چمن ہمہ گر صد بہار پیش آید | ز رنگِ رفتۂ ما می توان گرفت حساب |
ترجمہ اس چمن میں اگر سو بہاریں بھی آ جائیں تو ان کا حساب ہمارے اڑے ہوئے رنگ ہی سے لیا جا سکتا ہے۔ | |
چہ غفلت است کہ از ما بہ موجِ تیغ نرفت | وگرنہ قطرۂ آبی ست نشترِ رگِ خواب |
ترجمہ یہ کیسی غفلت ہے جو تلوار کی موج سے بھی ہم سے دور نہ ہوئی، ورنہ پانی کا ایک قطرہ بھی نیند کی رگ کے لیے نشتر ہے۔ | |
بہ طبعِ قطرہ تپش آرمید و گوہر شد | چہ فیضہا کہ ندارد طریقۂ آداب |
ترجمہ قطرے کی طبیعت میں تڑپ ٹھہر گئی تو وہ موتی بن گیا؛ آداب کے طریقے میں کیا کیا فیض نہیں۔ | |
فضای بیخودی ات خالی از بہاری نیست | برون خرام ز خود، رنگِ رفتہ را دریاب |
ترجمہ تیری بے خودی کی فضا بہار سے خالی نہیں؛ اپنے آپ سے باہر نکل اور اڑے ہوئے رنگ کو پا لے۔ | |
ز بسکہ محو تماشای او شدم بیدل | ہزار آینہ از حیرتم رسید بہ آب |
ترجمہ بیدل، میں اس کے تماشے میں اتنا محو ہوا کہ میری حیرت سے ہزار آئینے پانی پانی ہو گئے۔ | |
