اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

اگر برافکنی از روی ناز طرف نقاب

اگر برافکنی از روی ناز طرفِ نقاب

بلرزد آینہ برخود چو چشمۂ سیماب

ترجمہ اگر تو ناز سے نقاب کا کنارہ اٹھا دے تو آئینہ پارے کے چشمے کی طرح اپنے آپ پر لرز اٹھے۔

بہ یادِ شبنمِ گلزارِ عارضت عمری ست

خیال مشقِ شنا می کند بہ موجِ گلاب

ترجمہ تیرے رخسار کے گلزار کی شبنم کی یاد میں ایک عمر سے خیال گلاب کی موج میں تیرنے کی مشق کر رہا ہے۔

ز برقِ حیرتِ حسنت چو موج در گوہر

در آبِ آینہ محوند ماہیانِ کباب

ترجمہ تیرے حسن کی حیرت کی بجلی سے، موتی میں موج کی طرح، بھنی ہوئی مچھلیاں آئینے کے پانی میں محو ہیں۔

خیالِ وصلِ تو پختن دلیلِ غفلتِ ماست

کتان چہ صرفہ برد در قلمروِ مہتاب

ترجمہ تیرے وصل کا خیال پکانا ہماری غفلت کی دلیل ہے؛ چاندنی کی قلمرو میں کتان کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔

عروجِ ہمتِ ما خاک شد ز شرمِ نفس

کسی چہ خیمہ فرازد بہ این گسستہ طناب

ترجمہ ہماری ہمت کی بلندی سانس کی شرم سے خاک ہو گئی؛ اس ٹوٹی ہوئی طناب سے کوئی کیا خیمہ اٹھائے۔

در این چمن ہمہ گر صد بہار پیش آید

ز رنگِ رفتۂ ما می توان گرفت حساب

ترجمہ اس چمن میں اگر سو بہاریں بھی آ جائیں تو ان کا حساب ہمارے اڑے ہوئے رنگ ہی سے لیا جا سکتا ہے۔

چہ غفلت است کہ از ما بہ موجِ تیغ نرفت

وگرنہ قطرۂ آبی ست نشترِ رگِ خواب

ترجمہ یہ کیسی غفلت ہے جو تلوار کی موج سے بھی ہم سے دور نہ ہوئی، ورنہ پانی کا ایک قطرہ بھی نیند کی رگ کے لیے نشتر ہے۔

بہ طبعِ قطرہ تپش آرمید و گوہر شد

چہ فیضہا کہ ندارد طریقۂ آداب

ترجمہ قطرے کی طبیعت میں تڑپ ٹھہر گئی تو وہ موتی بن گیا؛ آداب کے طریقے میں کیا کیا فیض نہیں۔

فضای بیخودی ات خالی از بہاری نیست

برون خرام ز خود، رنگِ رفتہ را دریاب

ترجمہ تیری بے خودی کی فضا بہار سے خالی نہیں؛ اپنے آپ سے باہر نکل اور اڑے ہوئے رنگ کو پا لے۔

ز بسکہ محو تماشای او شدم بیدل

ہزار آینہ از حیرتم رسید بہ آب

ترجمہ بیدل، میں اس کے تماشے میں اتنا محو ہوا کہ میری حیرت سے ہزار آئینے پانی پانی ہو گئے۔