اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

احادیثِ غیر معتمد

(تہذیب الاخلاق بابت یکم ذی قعدہ 1288ھ‌12 جنوری 1872ء)

اسلام کا ادب اور اُس کی دوستی اور کمالِ ایمانداری اس بات میں ہے کہ حدیثوں کی تنقیح کی جائے اور جس میں ذرا بھی شک ہو اُسے دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر پھینک دے۔ حدیث کی تنقیح نہ کرنا اور ہر حدیث کو سمجھنا کہ پیغمبرِ خدا صلعم کا قول ہے، نہایت بے ادبی اور اسلام کی دشمنی ہے۔ پس سچی دوستی اور حقیقی ادب یہی ہے کہ غیر کے کلام کو اپنے نبی پاک کے کلام سے علیحدہ کر دے۔

حضرت علامہ مجد الدین فیروز آبادی نے جو اکابرِ علمائے حدیث سے ہیں، سفر السعادة کے خاتمہ میں بہت سی باتیں لکھی ہیں اور بیان کیا ہے کہ ان باتوں کی نسبت بہت سی حدیثیں بیان ہوئی ہیں اُن میں سے کچھ بھی صحیح اور علمائے حدیث کے نزدیک ثابت نہیں ہیں۔ چنانچہ اُسی مضمون کو ہم بھی لکھتے ہیں، تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ کیسی کیسی مشہور حدیثوں کو علمائے معتبر قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے تھے۔ پس جو حدیثیں کہ معتبر نہیں ہیں اُن کو نہ ماننا عین دینداری ہے۔ چنانچہ مفصلہ ذیل باتیں اُس کتاب میں مندرج ہیں:

(1) ایمان کے بیان میں جو حدیثیں ہیں کہ ایمان قول اور عمل کا نام ہے اور گھٹتا اور بڑھتا ہے یا نہ گھٹتا ہے نہ بڑھتا ہے؛ اُن میں کوئی حدیث بھی پیغمبرِ خدا صلعم کی نہیں ہے، بلکہ صحابہ اور تابعین کے اقوال ہیں۔

(2) مرجیہ اور قدریہ اور جہمیہ اور اشعریہ کی نسبت جس قدر حدیثیں ہیں کوئی بھی اُن میں سے صحیح نہیں ہے۔

(3) اس باب میں کہ کلام اللہ قدیم غیر مخلوق ہے بہت حدیثیں ہیں، مگر پیغمبرِ خدا صلعم کی کوئی حدیث نہیں ہے، صحابہ و تابعین کے اقوال ہیں۔

(4) ملائکہ کی پیدائش میں اور حضرت جبرائیل کے پروں کے قطروں سے فرشتوں کے پیدا ہونے میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔

(5) محمدؐ اور احمد نام رکھنے کی خوبی اور بزرگی میں یا اُس کی ممانعت میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔

(6) عقل کی اصلیت اور اُس کی فضیلت کے بیان میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔

(7) خضر و الیاسؑ کی عمر اور اُس کی درازی کے باب میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔

(8) علم کے باب میں اور اس میں کہ علم کا طلب کرنا فرض ہے کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔

(9) علم کے چھپانے کی برائی میں بھی کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔

(10) قرآن اور سورتوں کی خاص خاص فضیلتوں میں جس قدر حدیثیں ہیں، سوائے چند کے اُن میں سے بھی کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔

(11) حضرت ابوبکرؓ کی فضیلت کی مشہور حدیثیں موضوع اور مفتریات سے ہیں۔

(12) حضرت علیؓ کے فضائل میں بجز ایک حدیث کے اور کوئی ثابت نہیں۔

(13) معاویہؓ کے فضائل میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(14) امام ابوحنیفہؓ اور شافعیؒ کی بزرگی یا برائی میں جس قدر حدیثیں ہیں سب موضوع اور مفتری ہیں۔

(15) بیت المقدس اور صخرہ اور عسقلان اور قزوین اور اندلس اور دمشق کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(16) قلتین1 پانی جب ہو تو ناپاک نہیں ہوتا۔ بعضے اس حدیث کو صحیح کہتے ہیں، بعضے غیر صحیح، مگر اکابرِ اہلِ حدیث نے اپنی تصنیفات میں اس حدیث کو بیان کیا ہے (میرے نزدیک پانی کے باب میں صحیح حدیث صرف ایک ہے۔ الماء طاهر و طهور الخ2)۔

(17) دھوپ سے گرم ہوئے پانی کے مکروہ ہونے کی نسبت بھی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(18) وضو کے بعد ہاتھ پاؤں کا پانی پونچھ لینے کے باب میں بھی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(19) ڈاڑھی کے خلال اور کانوں اور گردن پر مسح کرنے میں بھی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(20) نبیذ سے وضو کرنے کی بھی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(21) عورت کو چھونے سے وضو کرنے میں بھی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(22) مردہ کو غسل دینے کے بعد خود غسل کرنے کی بھی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(23) حمام میں جانے سے منع ہونے میں، کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(24) اس باب میں کہ بسم اللہ ہر سورة کی آیت ہے اور نماز میں اُس کو پکار کر پڑھنا چاہئے، کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔

(25) اس باب میں کہ امام ضامن ہے اور موذن مؤتمن3 ہے اور مسجد کے ہمسایہ میں رہنے والے کی نماز بغیر مسجد کے نہیں ہوتی اور ہر نیک و بد کے پیچھے نماز جائز ہے، کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(26) جس شخص پر قضا نمازیں ہوں اُس کی نماز نہ ہونے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(27) سفر میں پوری نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے کے گناہ ہونے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(28) فجر کی نماز اور وتر میں قنوت پڑھنے میں، کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(29) مسجد میں جنازہ کی نماز نہ پڑھنے میں اور تکبیراتِ جنازہ میں رفع یدین کرنے میں، کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(30) اس باب میں کہ نماز کوئی چیز قطع نہیں کرتی، کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(31) اور اس باب میں کہ طلب کرو تم خیر کو رحم دلوں اور خندہ رو لوگوں سے، کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔

(32) اور اس باب میں کہ مالداروں کا غرباء کی حاجت براری سے پہلو تہی کرنا موجبِ زوالِ نعمت ہے اور احسان کرنے میں ثواب ہے، کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(33) صلواة التسبیح اور صلواةِ رغایب اور صلواةِ نصفِ شعبان و نصفِ رجب و صلواةِ ایمان اور صلواةِ لیلة المعراج و لیلة القدر اور صلواةِ ہر شبِ رجب و شعبان و رمضان کے باب میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(34) گہنے کی اور شہد کی اور ترکاری کی زکواة کے باب میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(35) روزِ عاشورہ کے فضائل اور اعمال کے باب میں سوائے روزہ کے مستحب ہونے کے اور رجب کے روزہ کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے اور اسی طرح جو حدیثیں صدقات اور خضاب اور سر میں تیل ڈالنے اور سرمہ لگانے کی اور دانہ اُبالنے کی فضیلت میں آئی ہیں سب موضوع ہیں۔

(36) پچھنے لگانے سے4 روزہ جاتے رہنے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(37) اس باب میں کہ جو مقدور رکھ کر حج نہ کرے وہ یہودی ہو کر مرے گا یا عیسائی، کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔

(38) جس قرض میں نفع ہو وہ سود ہے، اس باب میں بھی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(39) چھری سے گوشت کاٹ کر کھانا منع ہونے میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔

(40) رسولِ خدا صلعم کے فارسی میں کلام کرنے میں یا فارسی زبان بولنے کے مکروہ ہونے میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔

(41) دعا مانگ کر دونوں ہاتھوں کو منہ پر ملنے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(42) سفید مرغ اور مہندی کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔

(43) اس باب میں کہ ولد الزنا جنت میں نہ جائے گا کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(44) اس باب میں کہ اجماع حجت ہے کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

(45) اس باب میں کہ قیاس حجت ہے کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔

(46) اس باب میں کہ قیامت کی نشانیاں فلاں فلاں مہینوں میں ظاہر ہوں گی اور دو سو برس بعد سے قیامت کی نشانیاں ظاہر ہوں گی، کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

یہ چند باتیں بطورِ مثال کے ہم نے لکھی ہیں، مگر سفر السعادت میں اور بہت سی باتیں اس قسم کی ہیں جن کی نسبت صحیح حدیثیں نہیں ہیں۔

اس تمثیل سے ہماری غرض یہ ہے کہ جب تک حدیث کی صحت بخوبی پڑتال نہ لی جائے، اُس وقت تک اُس کی صحت تسلیم کرنی نہ چاہئے، کیونکہ ایسا کرنے سے اسلام میں خلل آتا ہے اور صرف اس بات پر کہ یہ حدیث فلاں کتاب میں مندرج ہے، بھروسا کرنا محض بیجا ہے، گو کہ وہ کتاب صحیحِ بخاری ہی کیوں نہ ہو۔

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 78 تا 83 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔