ای آبِ رخ از خاکِ درت دیدۂ تر را | سرمایہ ز خون گرمیٔ داغِ تو جگر را |
ترجمہ اے وہ کہ تیرے در کی خاک سے بھیگی آنکھ کی آبرو ہے، اور تیرے داغ کی خون گرمی سے جگر کا سرمایہ ہے۔ | |
تا گشت خیالِ تو دلیلِ رہِ شوقم | جوشیدنِ اشک آبلہ پا کرد نظر را |
ترجمہ جب سے تیرا خیال میرے شوق کی راہ کا رہنما بنا، آنسوؤں کے جوش نے نظر کو آبلہ پا کر دیا۔ | |
شد جوشِ خطت پردۂ اسرارِ تبسم | پوشید ہجومِ مگس این تنگِ شکر را |
ترجمہ تیرے خط کا جوش تبسم کے رازوں کا پردہ بن گیا؛ مکھیوں کے ہجوم نے شکر کی اس بوری کو ڈھانپ لیا۔ | |
رسوای جہان کرد مرا شوخیٔ حسنت | جز پردہ دری جوشِ گلی نیست سحر را |
ترجمہ تیرے حسن کی شوخی نے مجھے دنیا بھر میں رسوا کر دیا؛ صبح کے لیے پردہ دری کے سوا پھول کا کوئی جوش نہیں۔ | |
تا کی مژہ ام از نمِ اشکی کہ ندارد | بر خاکِ درت عرضہ کند حالِ جگر را |
ترجمہ کب تک میری پلک اس آنسو کی نمی سے، جو اس کے پاس ہے ہی نہیں، تیرے در کی خاک پر جگر کا حال پیش کرے؟ | |
بر طبعِ ضعیفان ز حوادث المی نیست | خاشاک کند کشتیٔ خود موجِ خطر را |
ترجمہ کمزوروں کی طبیعت پر حوادث کا کوئی غم نہیں؛ تنکا خطرے کی موج ہی کو اپنی کشتی بنا لیتا ہے۔ | |
دانا نبود از ہنرِ خویش برومند | از میوۂ خود بہرہ محال است شجر را |
ترجمہ دانا اپنے ہنر سے خود فیض یاب نہیں ہوتا؛ درخت کے لیے اپنے پھل سے حصہ پانا محال ہے۔ | |
آیینہ بہ آرایشِ جوہر چہ نماید | شوخیٔ عرقِ جبہۂ ما کرد ہنر را |
ترجمہ آئینہ جوہر کی آرائش سے کیا دکھائے؟ ہماری پیشانی کے پسینے کی شوخی نے ہنر کر دکھایا۔ | |
زنہار بہ جمعیتِ دل غرہ مباشید | آسودگی از بحر جدا کرد گہر را |
ترجمہ خبردار! دل کی جمعیت پر مغرور نہ ہو؛ آسودگی ہی نے موتی کو سمندر سے جدا کر دیا۔ | |
ای بی خبر از فیضِ اثرہای ندامت | ترسم نفشاری بہ مژہ دامنِ تر را |
ترجمہ اے ندامت کے اثرات کے فیض سے بے خبر! مجھے ڈر ہے کہ تو پلک سے بھیگا دامن نہ نچوڑے گا۔ | |
از کیسہ بریہای مکافات بیندیش | ای غنچہ گرہ چند کنی خردۂ زر را |
ترجمہ مکافات کی جیب تراشیوں سے ڈرو؛ اے غنچے! کب تک سونے کے ریزوں کو گرہ میں باندھتا رہے گا؟ | |
بیدل چہ بلایی کہ ز توفانِ خروشت | در راہِ طلب پی نتوان یافت اثر را |
ترجمہ اے بیدل! تو کیسی بلا ہے کہ تیرے خروش کے طوفان سے طلب کی راہ میں اثر کا سراغ بھی نہیں ملتا۔ | |
