اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ای آب رخ از خاک درت دیدۂ تر را

ای آبِ رخ از خاکِ درت دیدۂ تر را

سرمایہ ز خون گرمیٔ داغِ تو جگر را

ترجمہ اے وہ کہ تیرے در کی خاک سے بھیگی آنکھ کی آبرو ہے، اور تیرے داغ کی خون گرمی سے جگر کا سرمایہ ہے۔

تا گشت خیالِ تو دلیلِ رہِ شوقم

جوشیدنِ اشک آبلہ پا کرد نظر را

ترجمہ جب سے تیرا خیال میرے شوق کی راہ کا رہنما بنا، آنسوؤں کے جوش نے نظر کو آبلہ پا کر دیا۔

شد جوشِ خطت پردۂ اسرارِ تبسم

پوشید ہجومِ مگس این تنگِ شکر را

ترجمہ تیرے خط کا جوش تبسم کے رازوں کا پردہ بن گیا؛ مکھیوں کے ہجوم نے شکر کی اس بوری کو ڈھانپ لیا۔

رسوای جہان کرد مرا شوخیٔ حسنت

جز پردہ دری جوشِ گلی نیست سحر را

ترجمہ تیرے حسن کی شوخی نے مجھے دنیا بھر میں رسوا کر دیا؛ صبح کے لیے پردہ دری کے سوا پھول کا کوئی جوش نہیں۔

تا کی مژہ ام از نمِ اشکی کہ ندارد

بر خاکِ درت عرضہ کند حالِ جگر را

ترجمہ کب تک میری پلک اس آنسو کی نمی سے، جو اس کے پاس ہے ہی نہیں، تیرے در کی خاک پر جگر کا حال پیش کرے؟

بر طبعِ ضعیفان ز حوادث المی نیست

خاشاک کند کشتیٔ خود موجِ خطر را

ترجمہ کمزوروں کی طبیعت پر حوادث کا کوئی غم نہیں؛ تنکا خطرے کی موج ہی کو اپنی کشتی بنا لیتا ہے۔

دانا نبود از ہنرِ خویش برومند

از میوۂ خود بہرہ محال است شجر را

ترجمہ دانا اپنے ہنر سے خود فیض یاب نہیں ہوتا؛ درخت کے لیے اپنے پھل سے حصہ پانا محال ہے۔

آیینہ بہ آرایشِ جوہر چہ نماید

شوخیٔ عرقِ جبہۂ ما کرد ہنر را

ترجمہ آئینہ جوہر کی آرائش سے کیا دکھائے؟ ہماری پیشانی کے پسینے کی شوخی نے ہنر کر دکھایا۔

زنہار بہ جمعیتِ دل غرہ مباشید

آسودگی از بحر جدا کرد گہر را

ترجمہ خبردار! دل کی جمعیت پر مغرور نہ ہو؛ آسودگی ہی نے موتی کو سمندر سے جدا کر دیا۔

ای بی خبر از فیضِ اثرہای ندامت

ترسم نفشاری بہ مژہ دامنِ تر را

ترجمہ اے ندامت کے اثرات کے فیض سے بے خبر! مجھے ڈر ہے کہ تو پلک سے بھیگا دامن نہ نچوڑے گا۔

از کیسہ بریہای مکافات بیندیش

ای غنچہ گرہ چند کنی خردۂ زر را

ترجمہ مکافات کی جیب تراشیوں سے ڈرو؛ اے غنچے! کب تک سونے کے ریزوں کو گرہ میں باندھتا رہے گا؟

بیدل چہ بلایی کہ ز توفانِ خروشت

در راہِ طلب پی نتوان یافت اثر را

ترجمہ اے بیدل! تو کیسی بلا ہے کہ تیرے خروش کے طوفان سے طلب کی راہ میں اثر کا سراغ بھی نہیں ملتا۔