ای ابر! نی بہ باغ و نہ در لالہ زار بار | یادی ز اشکِ من کن و در کوی یار بار |
ترجمہ اے بادل! نہ باغ میں برس نہ لالہ زار میں؛ میرے آنسوؤں کو یاد کر اور یار کے کوچے میں برس۔ | |
قامت بہ جہد، حلقہ شد، اما چہ فایدہ | ما را نداد دل بہ درِ اختیار بار |
ترجمہ کوشش کرتے کرتے قامت حلقہ بن گئی، مگر کیا فائدہ؛ دل نے ہمیں اختیار کے دروازے پر باریابی نہ دی۔ | |
آیینۂ وصال ندارد غبارِ وہم | بندد اگر ز کشورِ ما انتظار بار |
ترجمہ اگر انتظار ہمارے دیس سے اپنا اسباب باندھ لے تو وصال کا آئینہ وہم کا غبار نہیں رکھتا۔ | |
از دردِ زہ برآ کہ در این انجمن ہنوز | ننہادہ است حاملۂ اعتبار بار |
ترجمہ دردِ زہ سے باہر آ، کہ اس انجمن میں اعتبار کی حاملہ نے ابھی تک اپنا بوجھ نہیں اتارا۔ | |
ای شمع گریۂ تو دلِ انجمن گداخت | ای اشکِ شعلہ بار بہ خاکِ مزار بار |
ترجمہ اے شمع! تیرے گریے نے محفل کا دل پگھلا دیا؛ اے شعلے برسانے والے آنسو! مزار کی خاک پر برس۔ | |
دردِ شکستِ دل ہمہ را در زمین نشاند | یک شیشہ کردہ اند بر این کوہسار بار |
ترجمہ دل ٹوٹنے کے درد نے سب کو زمین میں بٹھا دیا؛ اس کہسار پر ایک شیشہ لاد دیا گیا ہے۔ | |
ہرچند آستانِ کرم تشنۂ وفاست | آبِ رخِ طلب نتوان ریخت بار بار |
ترجمہ اگرچہ کرم کا آستانہ وفا کا پیاسا ہے، طلب کی آبرو بار بار نہیں گرائی جا سکتی۔ | |
گر در مزاجِ جوشِ غنا کسبِ پختگی ست | دیگِ شعور را نسزد ننگ و عار بار |
ترجمہ اگر بے نیازی کے جوش کے مزاج میں پختگی کمانی ہے تو شعور کی دیگ کو ننگ و عار کا بوجھ زیبا نہیں۔ | |
ناموسِ یک جہان غم از این دشت می بریم | پیری تو ہم بہ دوشِ من از خم گذار بار |
ترجمہ ہم اس دشت سے ایک جہان غم کی آبرو لیے جا رہے ہیں؛ اے بڑھاپے! تو بھی اپنے خم سے میرے کندھے پر بوجھ رکھ دے۔ | |
گلچینیٔ حدیقۂ تسلیم آگہی ست | باغِ بہارِ خیرہ سری گو میار بار |
ترجمہ تسلیم کے باغ سے پھول چننا آگہی ہے؛ خیرہ سری کی بہار کا باغ پھل نہ لائے تو نہ لائے۔ | |
بیدل ز ہر دو کَون فراموشیت خوش است | زین بیش نیست گر ہمہ گویم ہزار بار |
ترجمہ بیدل! دونوں جہانوں سے تیرا بھول جانا ہی اچھا ہے؛ اگر ہزار بار بھی کہوں تو بات اس سے زیادہ نہیں۔ | |
