اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ای ابر! نی بہ باغ و نہ در لالہ زار بار

ای ابر! نی بہ باغ و نہ در لالہ زار بار

یادی ز اشکِ من کن و در کوی یار بار

ترجمہ اے بادل! نہ باغ میں برس نہ لالہ زار میں؛ میرے آنسوؤں کو یاد کر اور یار کے کوچے میں برس۔

قامت بہ جہد، حلقہ شد، اما چہ فایدہ

ما را نداد دل بہ درِ اختیار بار

ترجمہ کوشش کرتے کرتے قامت حلقہ بن گئی، مگر کیا فائدہ؛ دل نے ہمیں اختیار کے دروازے پر باریابی نہ دی۔

آیینۂ وصال ندارد غبارِ وہم

بندد اگر ز کشورِ ما انتظار بار

ترجمہ اگر انتظار ہمارے دیس سے اپنا اسباب باندھ لے تو وصال کا آئینہ وہم کا غبار نہیں رکھتا۔

از دردِ زہ برآ کہ در این انجمن ہنوز

ننہادہ است حاملۂ اعتبار بار

ترجمہ دردِ زہ سے باہر آ، کہ اس انجمن میں اعتبار کی حاملہ نے ابھی تک اپنا بوجھ نہیں اتارا۔

ای شمع گریۂ تو دلِ انجمن گداخت

ای اشکِ شعلہ بار بہ خاکِ مزار بار

ترجمہ اے شمع! تیرے گریے نے محفل کا دل پگھلا دیا؛ اے شعلے برسانے والے آنسو! مزار کی خاک پر برس۔

دردِ شکستِ دل ہمہ را در زمین نشاند

یک شیشہ کردہ اند بر این کوہسار بار

ترجمہ دل ٹوٹنے کے درد نے سب کو زمین میں بٹھا دیا؛ اس کہسار پر ایک شیشہ لاد دیا گیا ہے۔

ہرچند آستانِ کرم تشنۂ وفاست

آبِ رخِ طلب نتوان ریخت بار بار

ترجمہ اگرچہ کرم کا آستانہ وفا کا پیاسا ہے، طلب کی آبرو بار بار نہیں گرائی جا سکتی۔

گر در مزاجِ جوشِ غنا کسبِ پختگی ست

دیگِ شعور را نسزد ننگ و عار بار

ترجمہ اگر بے نیازی کے جوش کے مزاج میں پختگی کمانی ہے تو شعور کی دیگ کو ننگ و عار کا بوجھ زیبا نہیں۔

ناموسِ یک جہان غم از این دشت می بریم

پیری تو ہم بہ دوشِ من از خم گذار بار

ترجمہ ہم اس دشت سے ایک جہان غم کی آبرو لیے جا رہے ہیں؛ اے بڑھاپے! تو بھی اپنے خم سے میرے کندھے پر بوجھ رکھ دے۔

گلچینیٔ حدیقۂ تسلیم آگہی ست

باغِ بہارِ خیرہ سری گو میار بار

ترجمہ تسلیم کے باغ سے پھول چننا آگہی ہے؛ خیرہ سری کی بہار کا باغ پھل نہ لائے تو نہ لائے۔

بیدل ز ہر دو کَون فراموشیت خوش است

زین بیش نیست گر ہمہ گویم ہزار بار

ترجمہ بیدل! دونوں جہانوں سے تیرا بھول جانا ہی اچھا ہے؛ اگر ہزار بار بھی کہوں تو بات اس سے زیادہ نہیں۔