اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ای چیدہ نقش پای تو دکان آفتاب

ای چیدہ نقشِ پای تو دکانِ آفتاب

در سایۂ تو ریختہ سامانِ آفتاب

ترجمہ اے کہ تیرے نقشِ قدم نے سورج کی دکان سجائی ہے؛ سورج کا سارا سامان تیرے سائے میں بکھرا پڑا ہے۔

از طلعتِ نقاب طلسمِ بہارِ صبح

در جلوۂ تو آینہ ہا کانِ آفتاب

ترجمہ تیرے چہرے کی تابانی سے صبح کی بہار کا طلسم نقاب ہے؛ تیرے جلوے میں آئینے سورج کی کان بن گئے ہیں۔

سروِ قدِ تو مصرعِ موزونیٔ چمن

زلفِ کجِ تو خطِ پریشانِ آفتاب

ترجمہ تیرا سرو قد چمن کی موزونی کا مصرع ہے اور تیری خمیدہ زلف سورج کا پریشان خط۔

در مکتبی کہ دفترِ حسنت رقم زند

یک نقطہ است مطلعِ دیوانِ آفتاب

ترجمہ جس مکتب میں تیرے حسن کا دفتر لکھا جائے، وہاں سورج کے دیوان کا مطلع بس ایک نقطہ ہے۔

ہر دیدہ نیست قابلِ برقِ تجلیت

تیغ آزماست پیکرِ عریانِ آفتاب

ترجمہ ہر آنکھ تیری تجلی کی بجلی کے قابل نہیں؛ سورج کا عریاں پیکر تلوار آزمانے والا ہے۔

خلقِ کریم آینۂ دستگاہِ اوست

پرتو بس است وسعتِ دامانِ آفتاب

ترجمہ کریم کا خُلق اس کی دستگاہ کا آئینہ ہے؛ سورج کے دامن کی وسعت کے لیے اس کی کرن ہی کافی ہے۔

شبنم صفت ز خویش برآ تا نظر کنی

وضعِ جہان بہ دیدۂ حیرانِ آفتاب

ترجمہ شبنم کی طرح اپنے آپ سے باہر آ تاکہ تو جہان کی وضع سورج کی حیران آنکھ سے دیکھے۔

ہر صبح چاکِ پیرہنی تازہ می کند

یارب بہ دستِ کیست گریبانِ آفتاب

ترجمہ ہر صبح ایک نیا پیرہن چاک کرتا ہے؛ یا رب، سورج کا گریبان کس کے ہاتھ میں ہے۔

غفلت بہ چشمِ صافدلان نورِ آگہی است

نظارہ است لمعۂ مژگانِ آفتاب

ترجمہ صاف دلوں کی آنکھ میں غفلت بھی آگہی کا نور ہے؛ سورج کی پلکوں کی چمک ہی نظارہ ہے۔

ہر ذرہ دارد از کفِ خاکِ فسردہ ام

مشقِ تحیری ز دبستانِ آفتاب

ترجمہ میری افسردہ مٹھی بھر خاک کا ہر ذرہ سورج کے مکتب سے حیرت کی ایک مشق رکھتا ہے۔

بیدل ز حسنِ نوخطِ او داغِ حیرتم

کانجاست دستِ سایہ بہ دامانِ آفتاب

ترجمہ بیدل، اس کے نوخط حسن سے مجھے حیرت کا داغ ہے کہ وہاں سائے کا ہاتھ سورج کے دامن میں ہے۔