ای چیدہ نقشِ پای تو دکانِ آفتاب | در سایۂ تو ریختہ سامانِ آفتاب |
ترجمہ اے کہ تیرے نقشِ قدم نے سورج کی دکان سجائی ہے؛ سورج کا سارا سامان تیرے سائے میں بکھرا پڑا ہے۔ | |
از طلعتِ نقاب طلسمِ بہارِ صبح | در جلوۂ تو آینہ ہا کانِ آفتاب |
ترجمہ تیرے چہرے کی تابانی سے صبح کی بہار کا طلسم نقاب ہے؛ تیرے جلوے میں آئینے سورج کی کان بن گئے ہیں۔ | |
سروِ قدِ تو مصرعِ موزونیٔ چمن | زلفِ کجِ تو خطِ پریشانِ آفتاب |
ترجمہ تیرا سرو قد چمن کی موزونی کا مصرع ہے اور تیری خمیدہ زلف سورج کا پریشان خط۔ | |
در مکتبی کہ دفترِ حسنت رقم زند | یک نقطہ است مطلعِ دیوانِ آفتاب |
ترجمہ جس مکتب میں تیرے حسن کا دفتر لکھا جائے، وہاں سورج کے دیوان کا مطلع بس ایک نقطہ ہے۔ | |
ہر دیدہ نیست قابلِ برقِ تجلیت | تیغ آزماست پیکرِ عریانِ آفتاب |
ترجمہ ہر آنکھ تیری تجلی کی بجلی کے قابل نہیں؛ سورج کا عریاں پیکر تلوار آزمانے والا ہے۔ | |
خلقِ کریم آینۂ دستگاہِ اوست | پرتو بس است وسعتِ دامانِ آفتاب |
ترجمہ کریم کا خُلق اس کی دستگاہ کا آئینہ ہے؛ سورج کے دامن کی وسعت کے لیے اس کی کرن ہی کافی ہے۔ | |
شبنم صفت ز خویش برآ تا نظر کنی | وضعِ جہان بہ دیدۂ حیرانِ آفتاب |
ترجمہ شبنم کی طرح اپنے آپ سے باہر آ تاکہ تو جہان کی وضع سورج کی حیران آنکھ سے دیکھے۔ | |
ہر صبح چاکِ پیرہنی تازہ می کند | یارب بہ دستِ کیست گریبانِ آفتاب |
ترجمہ ہر صبح ایک نیا پیرہن چاک کرتا ہے؛ یا رب، سورج کا گریبان کس کے ہاتھ میں ہے۔ | |
غفلت بہ چشمِ صافدلان نورِ آگہی است | نظارہ است لمعۂ مژگانِ آفتاب |
ترجمہ صاف دلوں کی آنکھ میں غفلت بھی آگہی کا نور ہے؛ سورج کی پلکوں کی چمک ہی نظارہ ہے۔ | |
ہر ذرہ دارد از کفِ خاکِ فسردہ ام | مشقِ تحیری ز دبستانِ آفتاب |
ترجمہ میری افسردہ مٹھی بھر خاک کا ہر ذرہ سورج کے مکتب سے حیرت کی ایک مشق رکھتا ہے۔ | |
بیدل ز حسنِ نوخطِ او داغِ حیرتم | کانجاست دستِ سایہ بہ دامانِ آفتاب |
ترجمہ بیدل، اس کے نوخط حسن سے مجھے حیرت کا داغ ہے کہ وہاں سائے کا ہاتھ سورج کے دامن میں ہے۔ | |
