ای ہوس قطعِ نفس کن ساعتی دنگم گذار | بیخماری نیست مستی شیشہ در سنگم گذار |
ترجمہ اے ہوس! سانس کا سلسلہ توڑ دے اور کچھ دیر مجھے مدہوش رہنے دے؛ مستی خمار کے بغیر نہیں، میرا شیشہ پتھر میں رکھ دے۔ | |
بوی منت برنمی دارد دماغِ ہمتم | از غرض بردار دست و بر دلِ تنگم گذار |
ترجمہ میری ہمت کا دماغ احسان کی بو برداشت نہیں کرتا؛ غرض سے ہاتھ اٹھا لے اور میرے تنگ دل پر رکھ دے۔ | |
بیخودان محمل کشِ گردِ دو عالم وحشتند | گر شکستِ دامنت بارست بر رنگم گذار |
ترجمہ بے خود لوگ دو عالم کی وحشت کی گرد کا محمل کھینچتے ہیں؛ اگر تیرے دامن کی شکن بوجھ ہے تو اسے میرے رنگ پر رکھ دے۔ | |
ای جنون عمریست می خواہم دلی خالی کنم | شیشہ ام را بشکن و گوشی بر آہنگم گذار |
ترجمہ اے جنون! مدت سے چاہتا ہوں کہ دل خالی کر لوں؛ میرا شیشہ توڑ دے اور میرے آہنگ پر کان دھر۔ | |
کس ندارد جز عرق تابِ جدالِ اہلِ شرم | آب شو آنگہ قدم در عرصۂ جنگم گذار |
ترجمہ پسینے کے سوا کوئی اہلِ شرم سے جھگڑنے کی تاب نہیں رکھتا؛ پانی ہو جا، پھر میرے میدانِ جنگ میں قدم رکھ۔ | |
داغ را غیر از سیاہی سایۂ دیوار نیست | یک دو روزی عافیت آیینہ در زنگم گذار |
ترجمہ داغ کے لیے سیاہی کے سوا کوئی دیوار کا سایہ نہیں؛ ایک دو دن عافیت کی خاطر مجھے آئینے کی طرح زنگ میں رہنے دے۔ | |
بی جنون دنیا و عقبا کسوتِ ناکامی است | زین دو دامن یک گریبان وار در چنگم گذار |
ترجمہ جنون کے بغیر دنیا اور عقبیٰ ناکامی کا لباس ہیں؛ ان دو دامنوں میں سے ایک گریبان بھر میری مٹھی میں دے دے۔ | |
پلۂ میزانِ موہومی نمی باشد گران | گو فلک ہمچون شرر در سنگ بی سنگم گذار |
ترجمہ موہومیت کے ترازو کا پلڑا بھاری نہیں ہوتا؛ آسمان سے کہو مجھے چنگاری کی طرح پتھر میں بے وزن رکھ دے۔ | |
بی دماغی نقدِ امکان را ودیعت خانہ ای ست | مہرِ ہر گنجی کہ خواہی بر دلِ تنگم گذار |
ترجمہ بے دماغی امکان کی نقدی کا امانت خانہ ہے؛ جس خزانے کی مہر چاہے، میرے تنگ دل پر لگا دے۔ | |
نُہ فلک بیدل غبارِ آستانِ نیستی ست | گر تو مردِ اعتباری پا بہ اورنگم گذار |
ترجمہ بیدل! نو آسمان نیستی کے آستانے کا غبار ہیں؛ اگر تو اعتبار کا مرد ہے تو میرے تخت پر قدم رکھ۔ | |
