اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ای جلوۂ تو سرشکن شان آفتاب

ای جلوۂ تو سرشکنِ شانِ آفتاب

خندیدہ مطلعِ تو بہ دیوانِ آفتاب

ترجمہ اے کہ تیرا جلوہ سورج کی شان کا سر توڑنے والا ہے؛ تیرا مطلع سورج کے دیوان پر ہنسا ہے۔

پیغامِ عجزِ من ز غرورت شنیدنی ست

مکتوب سایہ دارم و عنوان آفتاب

ترجمہ میرے عجز کا پیغام تیرے غرور کے سامنے سننے کے لائق ہے؛ میرا مکتوب سایہ ہے اور اس کا عنوان سورج۔

در ہرکجا نگاہ پر افشانِ روز بود

شوقِ تو داشت اینہمہ سامانِ آفتاب

ترجمہ جہاں کہیں نگاہ دن کی پر افشانی میں تھی، وہاں سورج کا یہ سارا سامان تیرے شوق ہی کا تھا۔

شب محوِ انتظارِ تو بودم دمید صبح

گشتم بہ یادِ روی تو قربانِ آفتاب

ترجمہ رات بھر تیرے انتظار میں محو تھا کہ صبح پھوٹ پڑی؛ تیرے چہرے کی یاد میں میں سورج پر قربان ہو گیا۔

چون سایہ پایمالِ خس و خار بہتر است

آن سر کہ نیست گرم ز احسانِ آفتاب

ترجمہ وہ سر جو سورج کے احسان سے گرم نہیں، اس کا سائے کی طرح خس و خار میں پامال ہونا بہتر ہے۔

از چرخِ سفلہ کام چہ جویم کہ این خسیس

ہر شب نہان کند بہ بغل نانِ آفتاب

ترجمہ کمینے آسمان سے میں کیا مراد مانگوں کہ یہ بخیل ہر رات سورج کی روٹی بغل میں چھپا لیتا ہے۔

ہمت بہ جہدِ شبنمِ ما ناز می کند

بستیم اشکِ خویش بہ مژگانِ آفتاب

ترجمہ ہمت ہماری شبنم کی کوشش پر ناز کرتی ہے؛ ہم نے اپنے آنسو سورج کی پلکوں پر باندھ دیے۔

ای لعلِ یار ضبطِ تبسم مروت است

تا نشکنی بہ خندہ نمکدانِ آفتاب

ترجمہ اے یار کے لعل لب، تبسم کو ضبط کرنا مروت ہے، تاکہ تو ہنسی سے سورج کا نمکدان نہ توڑ دے۔

چون ماہِ نو ز شہرتِ رسوایی ام مپرس

چاکی کشیدہ ام ز گریبانِ آفتاب

ترجمہ نئے چاند کی طرح میری رسوائی کی شہرت کا حال نہ پوچھ؛ میں نے سورج کے گریبان سے ایک چاک کھینچ لیا ہے۔

بیدل بہ حسنِ مطلعِ نازش چسان رسیم

ما را کہ ذرہ ساختہ حیرانِ آفتاب

ترجمہ بیدل، ہم اس کے ناز کے مطلع کے حسن تک کیسے پہنچیں، ہمیں تو ذرہ بنا کر سورج کا حیران کر دیا گیا ہے۔