ای ز عکسِ نرگست آیینہ جامِ مل بہ کف | شانہ از زلفِ تو نبضِ یک چمن سنبل بہ کف |
ترجمہ اے کہ تیری نرگسی آنکھ کے عکس سے آئینہ شراب کا جام ہاتھ میں لیے ہے، اور تیری زلف سے کنگھی ایک چمن سنبل کی نبض ہاتھ میں لیے ہے۔ | |
تا دمِ تیغت کند گلچینیٔ باغِ ہوس | گردنِ خلقی ست چون شمع از سرِ خود گل بہ کف |
ترجمہ جب تیری تلوار کی دھار ہوس کے باغ کی گلچینی کرتی ہے تو ایک خلق کی گردن شمع کی طرح اپنے ہی سر کا پھول ہاتھ میں لیے ہوتی ہے۔ | |
چون ہوا سودایی فکر پریشان می شود | ہر کہ دارد بوی مضمونی از آن کاکل بہ کف |
ترجمہ جو کوئی اس کاکل سے کسی مضمون کی خوشبو ہاتھ میں رکھتا ہے وہ ہوا کی طرح سودائی اور پریشان فکر ہو جاتا ہے۔ | |
بزمِ امکان را کہ و مہ گفتگو سرمایہ اند | جامہا در سر ترنگ و شیشہ ہا قلقل بہ کف |
ترجمہ امکان کی بزم میں چھوٹے بڑے سب کا سرمایہ گفتگو ہی ہے؛ جاموں کے سر میں ترنگ ہے اور شیشے قلقل ہاتھ میں لیے ہیں۔ | |
غنچہ واری رنگِ جمعیت درین گلزار نیست | از پریشانیٔ گل اینجا می دمد سنبل بہ کف |
ترجمہ اس گلزار میں کلی کی سی جمعیت کا رنگ نہیں؛ یہاں پھول کی پریشانی سے سنبل ہاتھ میں لیے اُگتا ہے۔ | |
قامتِ پیری نشاطِ رفتہ را خمیازہ ایست | چشمِ حیرانیست گر سیلاب دارد پل بہ کف |
ترجمہ بڑھاپے کا خمیدہ قد گزری ہوئی خوشی کی ایک جمائی ہے؛ اگر سیلاب پل ہاتھ میں لیے ہے تو وہ ایک حیران آنکھ ہے۔ | |
گرم دارد اطلس و دیبا دماغِ خواجہ را | از خری این پشتِ خر تا کی برآید جل بہ کف |
ترجمہ اطلس و دیبا خواجہ کا دماغ گرم رکھتے ہیں؛ اپنی حماقت سے یہ گدھے کی پیٹھ کب تک جھول ہاتھ میں لیے نکلتی رہے گی؟ | |
ریشۂ آزادگی در خاکِ این گلشن کجاست | سرو ہم چون گردنِ قمری است اینجا غل بہ کف |
ترجمہ اس گلشن کی خاک میں آزادگی کی جڑ کہاں ہے؟ یہاں سرو بھی قمری کی گردن کی طرح طوق ہاتھ میں لیے ہے۔ | |
حسن چون شد بی نقاب از فکرِ عاشق فارغ است | گل ہمان در غنچگی دارد دلِ بلبل بہ کف |
ترجمہ حسن جب بے نقاب ہو گیا تو عاشق کی فکر سے فارغ ہے؛ پھول تو کلی ہی میں بلبل کا دل ہاتھ میں رکھتا ہے۔ | |
محو گشتن می کند دریا حباب و موج را | جزوِ از خود رفتہ دارد دستگاہِ کل بہ کف |
ترجمہ محو ہو جانا ہی حباب اور موج کو دریا بنا دیتا ہے؛ جو جز اپنے آپ سے گزر گیا وہ کل کا سرمایہ ہاتھ میں رکھتا ہے۔ | |
فیضِ ہستی عام شد چندانکہ چون ابروی ناز | در نظر می آیدم محراب جامِ مل بہ کف |
ترجمہ ہستی کا فیض اتنا عام ہوا کہ ناز کی ابرو کی طرح محراب بھی مجھے جامِ مے ہاتھ میں لیے نظر آتی ہے۔ | |
از چمن تا انجمن بی تابِ تسخیرِ دل است | بوی گل تا دودِ مجمر می دود کاکل بہ کف |
ترجمہ چمن سے انجمن تک سب دل کو مسخر کرنے کے لیے بے تاب ہیں؛ پھول کی خوشبو سے مجمر کے دھوئیں تک سب کاکل ہاتھ میں لیے دوڑ رہے ہیں۔ | |
یادِ رخسارِ تو سامانِ چراغان می کند | ہر سرِ مویم کنون خواہد دمیدن گل بہ کف |
ترجمہ تیرے رخسار کی یاد چراغاں کا سامان کرتی ہے؛ اب میرے ہر بال کی نوک پھول ہاتھ میں لیے کھلنے والی ہے۔ | |
نیست بیدل در ادبگاہِ خموشی مشربان | شیشہ را جز سرنگون گردیدن از قلقل بہ کف |
ترجمہ بیدل! خاموش مشرب لوگوں کی ادب گاہ میں شیشے کے ہاتھ میں قلقل کے بدلے اوندھا ہو جانے کے سوا کچھ نہیں۔ | |
