اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

عجائبات کا ذہول اور عجائبات کا قبول

(از ’’آخری مضامینِ سرسید‘‘)

ہیں! تم نے یہ کیسی متضاد باتیں کیں؟ حضرت میں کیا کروں؟ انسان کی جبلت ہی ایسی متضاد باتوں پر واقع ہوئی ہے۔ اس متضاد جبلت کے سبب بڑے بڑے بزرگوں، یہاں تک کہ انبیاء علیہم السلام کو بھی نہایت مشکلیں پیش آئی ہیں۔ مذہب سی عمدہ چیز کا بھی اسی جبلت نے ستیاناس کر دیا ہے۔

حضرت اب تک تو ہماری سمجھ میں یہ معما نہیں آیا؟ اگر آپ کچھ تفصیل سے بتائیں تو شاید سمجھ میں آئے۔

میاں سمجھو! دنیا میں قدرتی عجائبات اس قدر ہیں کہ انسان نہ اُن کو سمجھ سکتا ہے، نہ گن سکتا ہے۔ دن کا ہونا، رات کا آنا، چمکدار سورج کا نکلنا، باریک چاند کا دکھائی دینا اور پھر بڑھتا جانا۔ بدر ہونا اور اپنی چاندنی سے اندھیری دنیا کو روشن کرنا، پھر گھٹتا جانا اور پہلی طرح باریک سا ہو کر چھپ جانا، کیا عجائباتِ قدرت سے نہیں ہے؟ کالی گھٹا کا اُٹھنا، بڑے بڑے پہاڑوں سے بھی بڑے دل بادلوں کا جمع ہو جانا، ہوا کے جھونکے سے ادھر اُدھر دوڑتے پھرنا، بجلی کا چمکنا دل کو ہلانا، مینہ کے توقع سے دل خوش کرنا، پھر مینہ کا برسنا، اولوں کا پڑنا، بادل کی گرج اور بجلی کی چمک کیا عجائباتِ قدرت سے نہیں ہیں؟

درختوں کا اُگنا، اُن کے ہرے ہرے پتوں کا نکلنا، طرح بطرح، رنگ برنگ کے پھولوں کا پھولنا، درختوں کی شاخوں میں طرح بطرح کے میووں کا لٹکنا، اُن کے مزوں کا مختلف ہونا، کیا عجائباتِ قدرت سے نہیں ہے؟

پرندوں کا ہوا میں اُڑنا، آسمان و زمین میں معلق رہنا، بئیے1 کا عجیب طرح پر گھونسلا بنانا، شہد کی مکھی کے کرتب، اس کا نہایت اعلی اصولِ اقلیدس پر چھتا بنانا، پہاڑوں پر اور اونچی اونچی جگہوں میں لگانا، ہر ایک قسم کے سفید پھولوں سے رس چوس کر لانا اور مختلف رنگوں کا شہد بنانا، کیا عجائباتِ قدرت سے نہیں ہے؟

گائے، بھینس اور لال گائے، بکری سے جن کے پیٹ میں جنگل کا چارا سڑ کر بھرا ہوا ہوتا ہے، سفید اور شیریں، مزے دار دودھ کا نکلنا۔ اُس سے اُن کے بچوں کی پرورش ہونا اور انسان اور اس کے بچوں کے لئے نہایت عمدہ اور مفید غذا کا ہونا، کیا عجائباتِ قدرت سے نہیں ہے؟

خود انسان کا، بلکہ تمام حیوانات کا اور انڈے سے مرغی کا اور مرغی سے انڈے کا پیدا ہونا، پھر ان کا دل کش آوازوں سے بولنا چہچہانا، انسان کا اپنے قوائے عقلی اور دماغی سے ایسے اعلی درجہ تک پہنچنا جہاں بقول شخصے جبرئیل کے بھی پر جلتے ہیں، کیا عجائباتِ قدرت سے نہیں ہے؟

مگر جو کہ باتیں روزمرہ دیکھنے میں آتی ہیں، ان کا عجیب، بلکہ عجیب تر ہونا انسان کے خیال میں نہیں رہتا اور اُس سے ذہول2 ہو جاتا ہے، مگر انسان جب کسی مذہب پر اعتقاد لاتا ہے یا کسی شخص کو مقدس سمجھتا ہے تو عجائبات کو اُس کے ساتھ لگاتا ہے اور جو عجائبات اس کے ساتھ لگائے گئے ہیں ان سب کو قبول کرتا ہے، بلکہ بغیر اُن عجائبات کے مذہب کی حقیقت یا اُس شخص کے تقدس کو تسلیم نہیں کرتا۔

حضرت نوح علیہ السلام کو کتنا ہی مقدس اور خدا کا پیغمبر کہا جائے، مگر جب تک طوفانِ نوح کو ایسا نہ مانا جائے کہ ایک بڑھیا کے تنور میں سے پانی اُبلتا اور مینہ ایسے زور سے چالیس دن رات برستا رہا، جس کے سبب تمام دنیا ڈوب گئی۔ بلند سے بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے بھی پانی اونچا ہو گیا اور حضرت نوحؑ نے خدا کے حکم سے کشتی بنائی اور کشتی کے تختے فرشتے بہشت سے لائے۔ پھر اُن کی دعا سے طوفان موقوف ہوا اور تمام دنیا کے انسان اور جانور سوائے اُن کے جو کشتی میں تھے، سب ڈوب کر مر گئے؛ اس وقت تک حضرت نوح علیہ السلام کی نبوت اور اُن کا تقدس قبول ہی نہیں ہو سکتا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی نسبت اگر یہ یقین نہ کیا جائے کہ وہ تمام جانوروں کی زبانیں سمجھتے تھے اور ہوا اُن کے تخت کو اُڑائے پھرتی تھی اور جن اور پری اُن کے تابع تھے، اُس وقت تک اُن کا مقدس ہونا تسلیم نہیں کیا جاتا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت جب تک یہ یقین نہ کیا جائے کہ خدا ان سے باتیں کرتا تھا اور اُس نے اپنی اُنگلی سے پتھر کی تختیوں پر توریت لکھی تھی اور وہ لکڑی کو سانپ بنا دیتے تھے اور سمندر کو چیر کر چلے گئے تھے، اس وقت تک اُن کا نبی ہونا نہیں مانا جاتا۔

حضرت یوشع کے حکم سے اگر آفتاب کا ٹھہر جانا نہ مانا جائے تو گویا اُن کی نبوت ہی کو نہیں مانا۔

اگر یہ نہ مانا جائے کہ حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی نگل گئی تھی اور تین دن تک وہ اُس کے پیٹ میں رہے اور پھر اُس نے ان کو کنارے پر اگل دیا اور پھر وہ جیتے جاگتے نکل آئے، اُس وقت تک گویا اُن کے تقدس اور نبوت کا یقین ہی نہیں ہوتا۔

جب تک یہ نہ مانا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے تھے اور مردوں کو جلاتے تھے اور کوڑھیوں اور اندھوں کو اچھا کرتے تھے۔ پھر مع اپنے جسم کے آسمان پر چلے گئے اور چوتھے آسمان پر بیٹھے ہیں، اس وقت تک گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نبی ہونے کا یقین ہی نہیں کیا جاتا۔

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم باوجودیکہ فرماتے رہے اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰى اِلَيَّ اَنَّمَا اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ3۔ لوگوں نے اس پر قناعت نہ کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی بہت سے عجائبات منسوب کر دئے اور انہیں عجائبات پر یقین رکھنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرنا قرار پایا ہے۔

یہی خیال اولیاء اللہ تک بھی پہنچ گیا۔ جب تک کہ ان میں کرامتیں نہ مانی جائیں اور اُن پر یقین نہ کیا جائے کہ ولیوں نے مردوں کو بھی زندہ کر دیا ہے اور برسوں کی ڈوبی ہوئی برات کو دریا میں سے زندہ نکال دیا اور چنیں اور چناں کیا اس وقت تک اُن کے ولی ہونے پر بھی یقین نہیں ہوتا۔

غرض کہ انسان کی یہ جبلت ہے کہ جس چیز کو بزرگ سمجھتا ہے اور جن اشخاص کو مقدس جانتا ہے، اُن کی نسبت ایسے عجائبات منسوب کر دیتا ہے۔ یہی باعث ہے کہ مذہبِ اسلام میں بھی لوگوں نے بہت سے عجائبات شامل کر دئے ہیں جو قابلِ یقیں نہیں ہیں، مگر وہ لوگ ان کو قبول کرتے ہیں۔

رفتہ رفتہ لوگوں کے خیال میں یہ بات جم گئی ہے کہ عجائبات کے بغیر نہ مذہب چلتا ہے نہ لوگ ایسے مذہب کو جس میں کچھ عجائبات نہ ہوں، قبول کرتے ہیں۔

مگر یہ سخت غلطی ہے۔ کوئی مذہب جو سچا ہے اور سچا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اُس میں کبھی ایسے عجائبات نہیں ہوتے جو فطرت کے خلاف ہوں، عقلِ انسانی کے خلاف ہوں اور کوئی سمجھ دار آدمی اُن کو تسلیم نہ کرے، بلکہ اصلی اور سچا مذہب ایسے عجائباتِ خلافِ فطرت اور خلافِ عقل سے بالکل پاک اور خالی ہوتا ہے، گو کہ بعد کو اس کے ماننے والوں نے عجائبات پرستی کی راہ سے اس میں بہت سے عجائبات شامل کر دئے ہیں۔

مذہبِ اسلام کی نسبت ہم دل سے یقین کرتے ہیں کہ وہ ایسی عجیب کہانیوں اور ایسی حیرت انگیز خلافِ فطرت اور خلافِ عقل باتوں سے پاک ہے اور اس میں جس قدر حصہ عجائبات کا ہے وہ ان عجائب پرستوں کا شامل کیا ہوا ہے جو قدرت کے عجائبات کو ذہول کرتے ہیں اور خلافِ قدرت اور خلافِ عقل عجائبات کو قبول کرتے ہیں۔ خدا ان عجائب پرستوں سے بچائے۔

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 118 تا 122 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔ یہ تحریر کتاب «آخری مضامینِ سر سید» سے ماخوذ ہے۔