اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

اخبارات کیسے ہونے چاہئیں

(ایک نہایت ہی مفید اور بالکل نایاب مضمون)

(اخبار ”رفیق ہند“ لاہور جلد 1 نمبر 1 - بابت 5 جنوری، 1884ء یوم شنبہ صفحہ 1 و 2)

مولوی محرم علی چشتی لاہور کی اخباری دنیا اور یہاں کے طبقۂ وکلاء میں کافی معروف ہستی تھے۔ سرسید احمد خاں کے گروہ کا ہر با خبر شخص اُن سے ضرور واقف ہوگا۔ مگر شاید بہت کم لوگوں کو اس حقیقت کا علم ہو کہ وہ شخص جو سر سید احمد خاں، اُن کے مشن اور اُن کے دوستوں کا شدید ترین مخالف اور دشمن تھا، وہ ابتدا میں سرسید احمد خاں اور اُن کے کاموں کا اتنا بڑا قدردان، مداح اور معترف تھا کہ شاید سید صاحب مرحوم کا کوئی بڑے سے بڑا ہوا خواہ بھی اتنا نہ ہو۔ اس بات کو آج 76 سال کا طویل زمانہ گزر چکا ہے۔ جب کہ 1884ء میں لاہور سے مولوی محرم علی چشتی نے اخبار ”رفیق ہند“ جاری کیا۔ اس ہفت روزہ کے پہلے پرچہ میں جو 5 جنوری، 1884ء کو شائع ہوا، مولوی صاحب نے سب سے اول جو مضمون نہایت نمایاں طور پر بڑے فخر کے ساتھ بہ طور ایڈیٹوریل شائع کیا وہ سرسید احمد خاں کا یہی مضمون تھا جسے ہم آج قارئینِ کرام کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں اور نہایت ممنون ہیں مولوی صاحب کے لائق فرزند مولانا ابراہیم علی صاحب چشتی کے جن کی مہربانی سے ہم اس نایاب مضمون کی نقل کر سکے۔ مضمون سے پہلے مولوی محرم علی صاحب نے بہ حیثیت ایڈیٹر اُس پر جو تمہید لکھی تھی وہ اُس بے انتہا عقیدت اور محبت کو بہ خوبی ظاہر کرتی ہے جو مولوی صاحب کو سید صاحب سے اُس وقت تھی، جو بعد میں بے حد نفرت و حقارت اور شدید بغض و عداوت سے بدل گئی۔ ذیل میں مولوی صاحب کی تمہید اور سید صاحب کا مضمون دونوں درج کیے جاتے ہیں:

(محمد اسماعیل پانی پتی)

”ہمارے آنریبل قبلہ عالی جناب مولوی سید احمد خاں صاحب بہادر سی۔ ایس۔ آئی نے (اخبار) ”رفیق ہند“ کے جاری ہونے کا حال معلوم کرکے براہِ مرحمتِ بزرگانہ ہمیں مندرجہ ذیل مضمون عطا فرمایا ہے، جس کے اندراج سے ہم سب سے پہلے تیمّناً اپنے ایڈیٹوریل کالموں کو مفتخر کرتے ہیں۔ جس سچی اور دلی شفقت سے جنابِ ممدوح نے اس پرچہ کے ناچیز ایڈیٹر کی نسبت اپنا بزرگانہ حسنِ ظن ظاہر فرمایا ہے اور خاتمۂ مضمون پر جس موثر طور سے اُس کے لیے دعا کی ہے، ہم اُس کے لیے تہِ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور یقین واثق کرتے ہیں کہ یہ ہیچمیرز پرچہ اپنے محسن مولانا کی سرپرستی اور نگرانی اور مستقل امداد سے اُن مراتب کو پورا کرنے میں کام یاب ہو سکے گا جو براہِ قومی ہمدردی اُن کے ملحوظِ خاطر ہیں، تاکہ جس طرح جنابِ ممدوح نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس پرچہ کا فونڈیشن سٹون (بنیادی پتھر) رکھا ہے، یہ بھی ہمیشہ اس قابلِ یادگار عزت کو خوبی سے قائم رکھ سکے اور اُن کی برکت سے خداوندِ کریم اُس کی عمر اور کارروائیوں میں بھی برکت دے۔“

(محرم علی چشتی)

سرسید کا مضمون

کہتے ہیں کہ اخبار ایک نہایت عمدہ ذریعہ قومی ترقی، ملکی بھلائی، عوام کی رہنمائی، خواص کی دلچسپی، حکام کی ہدایت اور رعایا کی اطاعت کا ہے۔ مگر اس کے دوسرے پہلو پر نظر کمتر کی جاتی ہے۔ اخبار جیسا ذریعہ ان بھلائیوں کا ہے ویسا ہی ذریعہ بہت سی برائیوں کا بھی ہے بلکہ افسوس ہے کہ ہمارا ملک ابھی پہلی قسم کے اخباروں کا نہایت محتاج ہے۔ ایسے اخباروں کی کمی سے اور زیادہ تر اخباروں کے پڑھنے والوں کے نہ ہونے سے ملک میں جہالت و ناخواندگی اس قدر پھیلی ہوئی ہے کہ کسی شہر و قصبہ میں فی صدی پانچ آدمی بھی اخبار پڑھنے کے لائق نہ نکلیں گے اور جو نکلیں گے وہ اخبار پڑھنے کو تضیعِ اوقات اور حرکتِ بے سود سمجھیں گے۔

ہندوستان کے رہنے والوں کو پولیٹیکل امور سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ سوشل حالت کی اُن کو پرواہ نہیں ہے۔ پھر اخبار پڑھنا تضیعِ اوقات نہ سمجھیں تو اور کیا سمجھیں؟ روپیہ بلاشبہ سب سے مقدم چیز ہے۔ کوئی کام ہو اور کیسا ہی مفید ہو۔ اگر اُس کام کے کرنے والے کو روپے کی طرف سے بے فکری نہ ہو تو نہ کام کر سکتا ہے اور نہ وہ کام چل سکتا ہے۔ اخبار کا کارخانہ بھی اس قاعدۂ کلیہ سے خالی نہیں ہے۔ مگر شائستہ اور ناشائستہ یا مہذب و نا مہذب ملک میں اس کے برتاؤ میں فرق ہے۔ تربیت یافتہ ملک میں ایسے کام جن کو عام لوگوں سے تعلق ہے۔ عام لوگوں کے فائدے کی غرض سے کیے جاتے ہیں جس میں روپیہ کا ذاتی فائدہ بھی حاصل ہو۔ (مگر) نا مہذب ملک میں کسی ایسے امر کا جس سے عام لوگوں کو مضرت پہنچے۔ بہ شرطیکہ اُس سے روپیہ کا ذاتی فائدہ ہو کچھ خیال نہیں کیا جاتا۔

اس پچھلی بد خصلت کے ظاہر ہونے کا بھی اخبار ایک عمدہ ذریعہ ہے۔ وہ اپنے کالموں میں ایسی خبروں کو جگہ دیتا ہے جو لوگوں کے اُن ذاتی اخلاق و عادات سے تعلق رکھتی ہیں جن کو پبلک سے کچھ تعلق نہیں۔ کبھی وہ اُن کے اوصاف میں صفحے کے صفحے سیاہ کر دیتا ہے اور کبھی اُن کی ہجو میں انشا پردازی اور عبارت آرائی کے جوہر دکھاتا ہے۔ اخبار کے خریدنے والوں کا مداح اور انکار کرنے والوں کا ہائے ہوز سے ہاجی بنتا ہے۔ سنی ہوئی خبریں۔ عہدہ داروں اور اہل کاروں کی نسبت چھاپتا ہے جو ایسے امور سے متعلق ہیں جن کا فیصلہ ایک جج کے بغیر نہیں ہو سکتا اور غلطی سے اپنے دل میں سمجھتا ہے کہ میں نے نہایت رفاہِ خلائق کا کام کیا ہے۔ لوگوں کے خوش کرنے اور اخبار کے خریدار بڑھانے کو ایسے مضامین اور اشتہارات چھاپتا ہے جو پبلک کے اخلاق پر نہایت بد اثر پیدا کرتے ہیں۔ غرض کہ اخبار ایک ایسی چیز ہے کہ خود آپ میں اپنی خصلت کا آئینہ ہے۔ کسی نے خوب کہا ہے

کھلتا کسی پہ کاہے کو دل کا معاملہ

خبروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

ہمارے ملک کے اخباروں میں پنجاب کے اخبار بلاشبہ سب سے عمدہ ہیں۔ میں اُن کو منزہ عن الخطا‌غلطی سے پاک تو نہیں کہتا مگر اعلیٰ اور عمدہ کہتا ہوں۔

نہایت خوشی کی بات ہے کہ ان عمدہ اخباروں میں ایک اور اخبار ”رفیق ہند“ (کا) اضافہ ہوتا ہے۔ جس کی نسبت توقع ہے کہ نیو ایرز ڈے‌New Year's Day (سال کے پہلے دن) کو نیا پیدا ہونے والا ہے۔ ہمارے شفیق مولوی محرم علی چشتی جن کی ذہانت، جودتِ طبع، تیزیٔ خیالات اور ہمدردیٔ قومی مشہور و معروف ہے اس اخبار کو نکالتے ہیں۔ ہم کو خدا سے اُمید ہے کہ وہ اخبار اُن تمام صفتوں کے ساتھ سلیم الطبع اور متحمل المزاج بھی ہوگا اور جس قدر ممکن ہے ملک کو فائدہ پہنچائے گا۔ او خدا! تو ایسا ہی کر!! آمین!!!

راقم - سید احمد، مقام علی گڑھ

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ دہم (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 3 تا 7 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔