اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

آخرزفقر بر سر دنیا زدیم پا

آخر ز فقر بر سرِ دنیا زدیم پا

خلقی بہ جاہ تکیہ زد و ما زدیم پا

ترجمہ آخر ہم نے فقر کے سبب دنیا کے سر پر ٹھوکر مار دی؛ ایک خلقت نے جاہ پر تکیہ کیا اور ہم نے اسے ٹھکرا دیا۔

فرقی نداشت عزت و خواری درین بساط

بیدار شد غنا بہ طمع تا زدیم پا

ترجمہ اس بساط میں عزت اور خواری میں کوئی فرق نہ تھا؛ جوں ہی ہم نے طمع کو ٹھوکر ماری، بے نیازی جاگ اٹھی۔

از اصل دور ماند جہانی بہ ذوقِ فرع

ما ہم یک آبگینہ بہ خارا زدیم پا

ترجمہ فرع کے شوق میں ایک جہان اصل سے دور رہ گیا؛ ہم نے بھی ایک شیشے کو پتھر پر دے مارا۔

عمری ست طعمہ خوارِ ہجومِ ندامتیم

یارب چرا چو موج بہ دریا زدیم پا

ترجمہ ایک عمر سے ہم ندامت کے ہجوم کا لقمہ بنے ہوئے ہیں؛ یارب! ہم نے موج کی طرح دریا کو ٹھوکر کیوں ماری تھی۔

زین مشتِ پر کہ رہزنِ آرامِ کس مباد

بر آشیانِ الفتِ عنقا زدیم پا

ترجمہ ان مٹھی بھر پروں سے، خدا کرے یہ کسی کے آرام کے رہزن نہ ہوں، ہم نے عنقا کی الفت کے آشیانے کو ٹھوکر مار دی۔

قدرِ شکستِ دل نشناسی ستمکشی ست

ما بی خبر بہ ریزۂ مینا زدیم پا

ترجمہ دل کے ٹوٹنے کی قدر نہ پہچاننا ستم سہنا ہے؛ ہم بے خبری میں صراحی کے ریزوں پر پاؤں مار بیٹھے۔

طی شد بہ وہم عمر چہ دنیا چہ آخرت

زین یک نفس تپش بہ کجاہا زدیم پا

ترجمہ عمر وہم میں گزر گئی، کیا دنیا اور کیا آخرت؛ اس ایک سانس کی تڑپ سے ہم نے کہاں کہاں پاؤں مارے۔

مژگانِ بستہ سیرِ دو عالم خیال داشت

از شوخیٔ نگہ بہ تماشا زدیم پا

ترجمہ بند پلکوں میں دو عالم کی سیر کا خیال تھا؛ ہم نے نگاہ کی شوخی سے تماشے کو ٹھکرا دیا۔

شرمِ سجودِ او عرقی چند ساز کرد

کز جبہہ سودنی بہ ثریا زدیم پا

ترجمہ اس کے سجدے کی شرم نے پسینے کے چند قطرے مہیا کیے، کہ پیشانی رگڑنے سے ہم نے ثریا کو ٹھوکر مار دی۔

واماندگی چو موجِ گہر بی غنا نبود

بر عالمی ز آبلۂ پا زدیم پا

ترجمہ موتی کی موج کی طرح ہماری درماندگی بے نیازی سے خالی نہ تھی؛ ہم نے پاؤں کے آبلے سے ایک عالم کو ٹھکرا دیا۔

چون اشکِ شمع در قدمِ عجز داشتیم

لغزیدنی کہ بر ہمہ اعضا زدیم پا

ترجمہ شمع کے آنسو کی طرح عجز کے قدم میں ہماری ایک ایسی لغزش تھی کہ ہم نے اپنے سارے اعضا پر پاؤں مار دیا۔

بیدل ز بس سراسرِ این دشت کلفت است

جز گرد برنخاست بہ ہرجا زدیم پا

ترجمہ بیدل! یہ سارا دشت اس قدر کلفت ہے کہ ہم نے جہاں بھی پاؤں مارا، گرد کے سوا کچھ نہ اٹھا۔