آخر ز فقر بر سرِ دنیا زدیم پا | خلقی بہ جاہ تکیہ زد و ما زدیم پا |
ترجمہ آخر ہم نے فقر کے سبب دنیا کے سر پر ٹھوکر مار دی؛ ایک خلقت نے جاہ پر تکیہ کیا اور ہم نے اسے ٹھکرا دیا۔ | |
فرقی نداشت عزت و خواری درین بساط | بیدار شد غنا بہ طمع تا زدیم پا |
ترجمہ اس بساط میں عزت اور خواری میں کوئی فرق نہ تھا؛ جوں ہی ہم نے طمع کو ٹھوکر ماری، بے نیازی جاگ اٹھی۔ | |
از اصل دور ماند جہانی بہ ذوقِ فرع | ما ہم یک آبگینہ بہ خارا زدیم پا |
ترجمہ فرع کے شوق میں ایک جہان اصل سے دور رہ گیا؛ ہم نے بھی ایک شیشے کو پتھر پر دے مارا۔ | |
عمری ست طعمہ خوارِ ہجومِ ندامتیم | یارب چرا چو موج بہ دریا زدیم پا |
ترجمہ ایک عمر سے ہم ندامت کے ہجوم کا لقمہ بنے ہوئے ہیں؛ یارب! ہم نے موج کی طرح دریا کو ٹھوکر کیوں ماری تھی۔ | |
زین مشتِ پر کہ رہزنِ آرامِ کس مباد | بر آشیانِ الفتِ عنقا زدیم پا |
ترجمہ ان مٹھی بھر پروں سے، خدا کرے یہ کسی کے آرام کے رہزن نہ ہوں، ہم نے عنقا کی الفت کے آشیانے کو ٹھوکر مار دی۔ | |
قدرِ شکستِ دل نشناسی ستمکشی ست | ما بی خبر بہ ریزۂ مینا زدیم پا |
ترجمہ دل کے ٹوٹنے کی قدر نہ پہچاننا ستم سہنا ہے؛ ہم بے خبری میں صراحی کے ریزوں پر پاؤں مار بیٹھے۔ | |
طی شد بہ وہم عمر چہ دنیا چہ آخرت | زین یک نفس تپش بہ کجاہا زدیم پا |
ترجمہ عمر وہم میں گزر گئی، کیا دنیا اور کیا آخرت؛ اس ایک سانس کی تڑپ سے ہم نے کہاں کہاں پاؤں مارے۔ | |
مژگانِ بستہ سیرِ دو عالم خیال داشت | از شوخیٔ نگہ بہ تماشا زدیم پا |
ترجمہ بند پلکوں میں دو عالم کی سیر کا خیال تھا؛ ہم نے نگاہ کی شوخی سے تماشے کو ٹھکرا دیا۔ | |
شرمِ سجودِ او عرقی چند ساز کرد | کز جبہہ سودنی بہ ثریا زدیم پا |
ترجمہ اس کے سجدے کی شرم نے پسینے کے چند قطرے مہیا کیے، کہ پیشانی رگڑنے سے ہم نے ثریا کو ٹھوکر مار دی۔ | |
واماندگی چو موجِ گہر بی غنا نبود | بر عالمی ز آبلۂ پا زدیم پا |
ترجمہ موتی کی موج کی طرح ہماری درماندگی بے نیازی سے خالی نہ تھی؛ ہم نے پاؤں کے آبلے سے ایک عالم کو ٹھکرا دیا۔ | |
چون اشکِ شمع در قدمِ عجز داشتیم | لغزیدنی کہ بر ہمہ اعضا زدیم پا |
ترجمہ شمع کے آنسو کی طرح عجز کے قدم میں ہماری ایک ایسی لغزش تھی کہ ہم نے اپنے سارے اعضا پر پاؤں مار دیا۔ | |
بیدل ز بس سراسرِ این دشت کلفت است | جز گرد برنخاست بہ ہرجا زدیم پا |
ترجمہ بیدل! یہ سارا دشت اس قدر کلفت ہے کہ ہم نے جہاں بھی پاؤں مارا، گرد کے سوا کچھ نہ اٹھا۔ | |
