اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

’’الفاروق‘‘ اور سر سید

(علیگڈھ انسٹیٹیوٹ۔ مورخہ 10 مارچ 1893ء)

مولانا شبلی نعمانی جب مدرسۃ العلوم علیگڈھ میں پروفیسر تھے۔ اُس وقت 1892ء میں اُنہوں نے حضرت امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مفصل اور مکمل سوانحِ عمری لکھنے کا ارادہ فرمایا اور ’’الفاروق‘‘ کے نام سے اس کا اعلان بھی اپنی مشہور کتاب ’’سیرۃ النعمان‘‘ کے دیباچہ میں کر دیا۔ جو جنوری 1892ء میں شائع ہوئی تھی۔

مدرسۃ العلوم علیگڈھ کی مصلحتوں کے پیشِ نظر سرسید نہیں چاہتے تھے کہ مولانا شبلی جو کالج سے منسلک تھے ’’الفاررق‘‘ لکھیں۔ کیونکہ اس سے کالج کے شیعہ ہوا خواہوں اور ہمدردوں کے ناراض ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ لیکن جب مولانا شبلی اپنے خیال اور ارادہ سے باز نہ آئے تو سرسید نے نواب عماد الملک سید حسین بلگرامی کو خط لکھا کہ آپ مولانا شبلی کو اس کتاب کی تصنیف سے رکنے کا مشورہ دیں۔ کیونکہ کالج کی مصلحتیں اس بات کی مقتضی نہیں ہیں کہ اُس کے ایک پروفیسر کے قلم سے ایسی فرقہ وارانہ کتاب نکلے۔ اُس وقت کالج کے ہمدردوں، معاونوں اور سر پرستوں میں سب سے زیادہ قابلِ تعظیم یہی بزرگ تھے اور سرسید کو یقین تھا کہ چوں کہ نواب صاحب شیعہ ہیں اس لیے یہ کتاب علیگڈھ کالج سے اُن کی بدمزگی، بیزاری اور بے التفاتی بلکہ بے تعلقی کا موجب ہوگی اور اسی وجہ سے سرسید کو اصرار تھا کہ یہ کتاب نہ لکھی جائے۔ مگر بالکل خلافِ توقع سرسید کے اس خط کا جواب نواب عماد الملک نے یہ دیا کہ ’’اسلام میں دین و دنیا کی جامع۔ کامل ذات صرف حضرت عمر کی ہے اور دنیا نے ایک ہی فاروق پیدا کیا ہے۔ حیف ہے اگر اُس کی سوانحِ عمری نہ لکھی جائے۔ آپ یہ سوانحِ عمری لکھنے سے مولوی شبلی کو نہ روکیے‘‘ اور ساتھ ہی مولانا شبلی کی بہت کچھ تعریف و تحسین بھی کی۔ مگر نواب عماد الملک کے اس خط کے باوجود سرسید کا یہی خیال رہا کہ بہتر ہو کہ مولانا شبلی الفاروق نہ لکھیں اور اس ارادہ کو ترک کر دیں (حیاتِ شبلی، مرتبہ سید سلیمان ندوی صفحہ 231)۔

اُسی زمانہ میں جب ’’الفاروق‘‘ کا غلغلہ ہر طرف بلند تھا اور لوگ بہت بے صبری کے ساتھ اُس کی اشاعت کے منتظر تھے۔ خود سر سید ہی کے گروہ میں سے ایک صاحب منشی سراج الدین (راولپنڈی) نے اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی سوانحِ حیات شائع کرنے میں اولیت کا شرف حاصل کرنا چاہا اور (بقول خود) ’’پانچ چھ مہینے میں‘‘ جھٹ پٹ کچھ انتخاب و اقتباس کے بعد ’’سیرۃ الفاروق‘‘ کے نام سے 308 صفحے کی ایک کتاب شائع کر دی۔ یہ مطبوعہ کتاب جب سر سید نے دیکھی تو علیگڈھ انسٹیٹیوٹ گزٹ میں اُنہوں نے اس پر ایک مضمون لکھا۔ یہی مضمون ہم آج ہدیۂ ناظرین کر رہے ہیں۔

متذکرہ بالا دونوں واقعات سے مولانا شبلی نے بد دل اور مایوس ہونے کی بجائے زیادہ مستقل مزاجی کے ساتھ ’’الفاروق‘‘ لکھنے کا پختہ عزم کر لیا اور کئی سال کی محنت اور کاوش کے بعد ’’الفاروق‘‘ مرتب کی۔ جو چھپنے کے بعد ہاتھوں ہاتھ لی گئی اور اب تک اُس کے بیسیوں اڈیشن نکل چکے ہیں۔ نصاب میں بھی داخل ہے اور اُس کے فارسی اور انگریزی ترجمے بھی ہوچکے ہیں۔ مگر منشی سراج الدین کی ’’سیرۃ الفاروق‘‘ ایسی گوشۂ گمنامی میں چھپی کہ آج کہیں اُس کا نام بھی سننے میں نہیں آتا۔

(محمد اسماعیل پانی پتی)

’’اس میں کچھ شبہ نہیں ہے کہ ہمارے کالج کے پروفیسر مولوی محمد شبلی نعمانی نے اپنی تصانیف سے ملک کو بہت فائدہ پہنچایا ہے، المامون، سیرۃ النعمان۔ کتب خانۂ سکندریہ اور الجزیہ بے مثل اور بے نظیر کتابیں ہیں۔ اگر وہ نعوذ باللہ‌ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اپنے رسالہ الجزیہ کی نسبت مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہ کہیں کہ ’’فاتوا بسورةٍ من مثلہٖ‌تو اس جیسی ایک سورت لے آؤ‘‘ تو کچھ تعجب نہ ہوگا۔ جزیہ کا ایسا بیجا اور غلط الزام اسلام پر تھا۔ جس کا آج تک کسی نے ایسی عمدگی سے حل نہیں کیا تھا۔ ان اجرہ الا علی اللہ‌اس کا اجر صرف اللہ کے ذمے ہے۔ بایں ہمہ اُنہوں نے مثلِ علمائے متقدمینِ باخدا الذین لا ینظرون الی الدنیا و حطامہا بل ینظرون الی رحمۃ اللہ و برکاتہا او الی حالۃ القوم و اصلاحہا1 کوئی ذاتی فائدہ اُن کتابوں کی تصنیف سے نہیں اُٹھانا چاہا۔ بلکہ بالکلیہ مدرسۃ العلوم کو دے دیا اور جب اُن کی حالتِ معاش پر نظر کی جائے تو اُن کی یہ فیاضی بھی بہت زیادہ اور اعلی درجہ کی با وقعت ہو جاتی ہے ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء2 اور جب ایسے شخص نے جو کیا بحیثیتِ علم اور کیا بلحاظِ عمدگیٔ تالیف اور کیا بنظرِ طریقۂ ترتیبِ مضامین میں یادگارِ سلف ہے ’’الفاروق‘‘ لکھنے کا ارادہ کیا تھا اور بہت کچھ اس کا سامان بھی جمع کیا تھا۔ جس کا جمع کرنا نہ آسان کام ہے، نہ ہر ایک شخص کا کام ہے اور ہنوز بہت کچھ جمع کرنا باقی ہے۔ تو ہمارے دوست منشی سراج الدین احمد صاحب کو بلاشبہ مناسب نہ تھا کہ اسی مضمون پر کتاب لکھ ڈالتے۔ بلکہ اُس رحمت کے منتظر رہتے جو خدا کو مولوی شبلی کے ہاتھ سے ملک کو پہنچانی تھی۔

’’ہیروز آف اسلام‌Heroes of Islam‘‘ (کے سلسلہ) میں حضرت عمرؓ کی لائف کا لکھنا ایک بہت بڑا نازک کام ہے۔ ممکن ہے کہ اُن کی لائف اس طرح پر لکھی جائے جو انسانوں کے لیے باعثِ رحمت ہو، یا اس طرح پر لکھی جائے کہ باعثِ آفت ہو، یا اس طرح پر لکھی جائے کہ دونوں فریق شیعہ و سُنّی کو بجز گمراہی کے اور کچھ حاصل نہ ہو۔

سب سے مقدم یہ بات ہے کہ اوّل اس کا لکھنے والا شیعہ اور سُنّی دونوں مذہبوں کی قید سے اپنے تئیں آزاد سمجھے اور ہسٹورین (مورخ) بن کر اُن کی لائف لکھے۔ یا یہ کرے کہ ان امور کو جو دونوں فریق میں متنازعہ فیہ ہیں مطلق نہ چھیڑے اور ان واقعات اور حالات کو اور اُن کی اُس خصلت اور انتظامی قوت کو اور اُس برکت کو لکھے جو اُن کے زمانۂ خلافت میں اسلامی دنیا کو پہنچی۔ جن سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔

مشکل یہ ہے کہ کوئی شخص دنیا میں ایسا نہیں ہے کہ اُس کے ہر ایک فعل کو دو پہلو نیک اور بد سے تعبیر نہ کیا جا سکے۔ یہ مشکل اُس وقت زیادہ ہو جاتی ہے جب کہ کسی اکابرِ دین کی جیسے کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔ لائف لکھی جائے۔ پس حضرت عمرؓ کی لائف لکھنا ایسا آسان کام نہیں تھا جیسا کہ ہمارے دوست منشی سراج الدین احمد صاحب نے سمجھا۔ مگر ہم کو افسوس ہوتا ہے جب کہ اُن کی نسبت کوئی الزام بد نیّتی کا دیا جاتا ہے۔ منشی سراج الدین احمد صاحب ایک نیک آدمی ہیں، قومی بھلائی کا وہ خیال ظاہر کرتے ہیں۔ بے شک ہم کہہ سکتے ہیں کہ اُنہوں نے غلطی کی۔ جو کام اُن کو نہ کرنا چاہیے تھا اُنہوں نے کیا۔ بلکہ وہ کام اُن کے قابو سے باہر تھا۔ بلکہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ ہمارے مخدوم وحید العصر مولوی شبلی کے قابو سے بھی باہر ہے۔ مگر کسی بد نیتی یا طمعِ نفسانی کا الزام جو لوگ منشی سراج الدین احمد کی طرف لگاتے ہیں۔ نہ ہم اسے پسند کرتے ہیں اور نہ درست سمجھتے ہیں۔

فرض کرو کہ ایک مضمون پر ایک شخص نے کتاب لکھنے کا ارادہ کیا۔ اسی مضمون پر دوسرے شخص نے بھی کتاب لکھی۔ اس میں نقصان کیا ہوا؟ بلکہ جب دونوں کتابیں موجود ہوں گی تو لوگوں کو دونوں میں تمیز کرنے کا نہایت عمدہ موقع ملے گا اور یہ صادق آئے گا فتقبّل من احدہما و لم یتقبل من الاخر3۔

یہ سمجھنا کہ منشی سراج الدین کے سیرۃ الفاروق تحریر کرنے سے مولوی شبلی بیدل ہوگئے ہیں۔ اب نہ وہ ’’ہیروز آف اسلام‘‘ لکھیں گے اور نہ ’’الفاروق‘‘ محض غلط خیال ہے۔ اگر اہلِ ملک مولوی شبلی کی تصانیف کو سمجھتے ہوں تو وہ یقین کریں گے کہ اگر ایک ہی مضمون پر دس شخص بھی لکھیں تو مولوی شبلی کی تحریر نرالی ہوگی۔ بس اُن کو کیا پروا ہے کہ اور کسی نے بھی کچھ لکھا ہے۔

مگر ہم مولوی شبلی کی اس رائے کو کہ بزرگانِ دین کو بھی ’’ہیروز آف اسلام‘‘ میں داخل کر کے اُن کی لائف لکھیں ہرگز پسند نہیں کرتے اور نہ اُن سے متفق ہیں۔ وہ لوگ ’’فادر آف اسلام‘‘ ہیں نہ ’’ہیروز آف اسلام‘‘ اور ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا کرے مولوی شبلی ’’الفاروق‘‘ نہ لکھیں۔

ہم مولوی شبلی سے اصرار کر رہے ہیں کہ اپنا ’’سفر نامہ‘‘ ختم کرنے کے بعد ’’الغزالی‘‘ یعنی لائف امام عزالی کی لکھ دیں، جو نہایت دلچسپ اور بے حد مفید ہوگی۔ خدا اُن کو توفیق دے کہ ہماری بات کو مانیں۔ اس کے بعد جو خدا کو منظور ہو وہ کریں۔ لیکن اگر اس کے بعد بھی انہوں نے ’’الفاروق‘‘ لکھی تو ہم اُس وقت اُن کو کہیں گے جو کہیں گے۔

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ ہفتم (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 323 تا 328 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔