عالم ہمہ داغست و ندارد اثرِ داغ | در لالہ ستان نیست کسی را خبرِ داغ |
ترجمہ سارا عالم داغ ہے اور داغ کا اثر نہیں رکھتا؛ لالہ زار میں کسی کو داغ کی خبر نہیں۔ | |
دل قابلِ گل کردنِ اسرارِ جنون نیست | در زیرِ سیاہی است ہنوزم سحرِ داغ |
ترجمہ دل جنون کے رازوں کو کھلانے کے قابل نہیں؛ میرے داغ کی صبح ابھی تک سیاہی کے نیچے ہے۔ | |
نقشِ پیِ خورشید ہمان ظلمتِ شام است | از شعلہ سراغی ندہد جز اثرِ داغ |
ترجمہ سورج کے نقشِ قدم کا نشان وہی شام کی تاریکی ہے؛ شعلے کا سراغ داغ کے اثر کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ | |
محوِ کفِ خاکسترِ خویشم کہ تبِ عشق | اخگر صفتم پنبہ دماند از جگرِ داغ |
ترجمہ میں اپنی مٹھی بھر راکھ میں محو ہوں، کہ عشق کی تپش مجھ انگارے صفت کے داغ کے جگر سے روئی اگاتی ہے۔ | |
عالم ہمہ در دیدۂ عشاق سیاہ است | بر دود تنیدہ است ہجومِ نظرِ داغ |
ترجمہ عاشقوں کی آنکھ میں سارا عالم سیاہ ہے؛ داغ کی نظر کا ہجوم دھوئیں پر بُنا ہوا ہے۔ | |
کس ساغرِ تحقیق ز تقلید نگیرد | تا دل بود از لالہ نپرسی خبرِ داغ |
ترجمہ کوئی تقلید سے تحقیق کا ساغر نہیں پاتا؛ جب تک دل موجود ہے، لالے سے داغ کی خبر نہ پوچھ۔ | |
رنگی دگر از گلشنِ رازم نتوان چید | نخلی است جنون شعلہ بہار ثمر داغ |
ترجمہ میرے راز کے گلشن سے کوئی اور رنگ نہیں چنا جا سکتا؛ یہ جنون کا ایک ایسا نخل ہے جس کی بہار شعلہ اور پھل داغ ہے۔ | |
عمری ست بہ حیرتکدۂ عجز مقیمم | در نقشِ قدم سوخت دماغِ سفرِ داغ |
ترجمہ ایک عمر سے میں عجز کے حیرت کدے میں مقیم ہوں؛ داغ کے سفر کا دماغ نقشِ قدم ہی میں جل گیا۔ | |
فریاد کہ شد عمر ز نومیدیٔ مطلب | خاکی نفشاندیم جز آتش بہ سرِ داغ |
ترجمہ فریاد کہ عمر مطلب کی ناامیدی میں گزر گئی؛ ہم نے داغ کے سر پر آگ کے سوا کوئی خاک نہ ڈالی۔ | |
از ہیچ گلی بوی وفایی نشنیدیم | دل داغ شد و حلقہ زد آخر بہ درِ داغ |
ترجمہ ہم نے کسی پھول سے وفا کی خوشبو نہ سونگھی؛ دل داغ بن گیا اور آخرکار داغ ہی کے دروازے پر دستک دی۔ | |
در زنگ خوش است آینۂ سوختہ جانان | بیدل نکشی جامۂ ماتم ز برِ داغ |
ترجمہ جلے ہوئے جانوں کا آئینہ زنگ ہی میں اچھا ہے؛ اے بیدل! داغ کے بدن سے ماتم کا لباس نہ اتارنا۔ | |
