ابو الفرج جو کتاب الاغانی کا مصنف ہے نہایت مشہور اور نامور عالم ہوا ہے۔ اس کا نام علی کنیت ابو الفرج تھی۔ وہ عبد مناف کی سولہویں پشت میں اور امیہ (بانیِ خاندانِ بنی امیہ) کی چودھویں پشت میں تھا۔ اس کا دادا مروان بن محمدؐ بنی امیہ کے سلسلے میں آخری تاجدار تھا۔ اس کی ولادت 284ھمیں اصفہان میں ہوئی۔ مگر اس نے ابھی ہوش بھی نہیں سنبھالا تھا کہ اس کو بغداد میں آنا پڑا۔ یہیں اس نے حدیث اور فقہ کی تعلیم پائی۔ جوان ہو کر وہ دارالخلافہ کے مشہور ادیبوں اور نامور مصنفوں میں شمار ہونے لگا۔ اس نے بیشمار عالموں سے حدیث کی سند لی۔ وہ مورخ بھی تھا، شاعر بھی، محدث بھی اور انساب کے فن میں بھی اس کو کامل مہارت تھی۔ عرب کے قبائل کے انساب، شاعروں کے اشعار، مغنیوں کے راگ، ایام جاہلیت کے فسانے اس کو ازبر تھے۔ لغت، نحو، طب، نجوم، طبِ حیوانی، فنِ آدابِ مجلسی میں بھی اس کو ضروری واقفیت حاصل تھی۔ اس نے خود بھی اشعار کہے ہیں جو متانت اور سنجیدگی کے لحاظ سے عالمانہ اور لطافت اور نزاکت کے اعتبار سے شاعرانہ معلوم ہوتے ہیں۔ اس نے بہت سی کتابیں تصنیف کیں جن کو ہم آگے چل کر گنوائیں گے مگر اس کی سب میں زیادہ مشہور اور ضخیم کتاب ”الاغانی“ ہے۔ جس میں اس نے شاعروں اور مغنیوں کے حالات اور ان کے اشعار اور نغمے درج کیے ہیں اور جو علمِ ادب کا ایک موجزن سمندر ہے۔
ابو محمدؐ مہلّبی جو بغداد میں معزالدولہ کا وزیر تھا اور جس نے 353ھ میں بصرہ میں وفات پائی کہتا ہے کہ میں نے ابوالفرج سے ایک دفعہ پوچھا کہ تم نے یہ کتاب کتنے دنوں میں تیار کی ہے؟ اس نے کہا، ”پورے پچاس سال ہیں“۔ ابوالفرج نے اس کتاب کو ساری عمر میں ایک ہی دفعہ اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔ یہ نسخہ اس نے سیف الدولہ کی خدمت میں پیش کیا تھا جس پر اسے ایک ہزار دینار انعام ملا۔
صاحب بن عباد نے جو نامور وزرائے اسلام میں سے ہے جب یہ واقعہ سنا تو کہا کہ سیف الدولہ نے اس کتاب کی پوری قدر نہیں کی۔ یہ کتاب اس قابل ہے کہ اس پر بہت زیادہ انعام دیا جائے۔ اس کتاب کی تعریف میں جو جامع و مانع فقرے صاحب بن عباد کی زبان سے نکلے تھے وہ یہ تھے کہ اغانی نادر اشعار اور عجیب فقروں سے لبریز ہے۔ وہ زاہدوں کے لئے مونس تنہائی۔ عالموں کے لئے خزانہ معلومات کاتبوں اور ادیبوں کے لیے سرمایہ انشا۔ بہادروں اور جوان مردوں کے لئے جرات انگیز۔ غمگینوں اور مصیبت زدوں کے لئے تسلی بخش۔ بادشاہوں اور امیروں کے لئے باعث تفریح ہے۔ میرے کتب خانے میں ایک لاکھ سترہ ہزار کتابیں ہیں مگر ان میں سے کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جو اغانی کی طرح میری انیس و ہمدم ہو۔
اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ کتاب بے نظیر ہے اور اگر زمانۂ حال کے مذاق پر لحاظ کیا جائے تو وہ عربی لٹریچر کی ایک ضخیم انسائیکلوپیڈیا (قاموس) ہے۔ اس کی اکیس جلدیں ہیں۔ بیس جلدیں مصر میں 1285ء میں چھاپی گئی ہیں اور اکیسویں جلد 1305ء میں ڈاکٹر برونو کے اہتمام سے لیڈن میں مطبوع ہوئی ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ اس کی تین چار قسم کی انڈکسیں بھی علمائے یورپ تیار کر رہے ہیں مثلاً ایک انڈکس ان اشعار کی، جو ضخیم کتاب میں درج ہوئے ہیں۔ ایک انڈکس مقامات کے ناموں کی، ایک انڈکس اشخاص کے ناموں کی۔ اگر یہ انڈکسیں چھپ گئیں تو اس کتاب سے ہر شخص بہ آسانی فائدہ اٹھا سکے گا۔ اس میں 395 شاعروں کی سوانح عمریاں لکھی گئی ہیں اور بہت سی لائق اور تعلیم یافتہ عورتوں کے حالات بھی درج ہیں۔ اس کتاب کی شہرت مصنف کی زندگی ہی میں دور دور تک پھیل گئی تھی۔ عضدالدولہ سفر اور حضر میں اس کو اپنے مطالعے میں رکھتا تھا صاحب بن عباد جب سفر کو نکلتا تو اس کے ساتھ تین اونٹ کتابوں سے لدے ہوئے چلتے تھے۔ جب اغانی اس کے ہاتھ آئی تو اس کے سوا کسی کتاب کو اپنے ساتھ نہیں لے جاتا تھا۔ ابھی بغداد میں یہ کتاب شائع نہیں ہوئی تھی کہ حکم نے جو خاندانِ بنی امیہ اندلس میں نامور فرمانروا ہوا ہے زرکثیر بھیج کر اس کا ایک نسخہ طلب کر لیا۔ اغانی کا مسودہ بغداد کے بازاروں میں چار ہزار درہم کو فروخت ہو چکا ہے۔
ابن المغربی، ابن واصل، ابن ناقیا، امیر عزالملک حرانی، ابن مکرم، رشیدی، ابن النذیر وغیرہ علما نے اپنی اپنی طرز پر اغانی کے انتخاب کیے ہیں۔ حال میں بیروت کے ایک عیسائی عالم نے رنات المثالث و المثانی فی روایات الاغانی کے نام سے اس کا جدید انتخاب شائع کیا ہے۔ اس کی دو جلدیں ہیں۔ ایک جلد میں وہ روایات ہیں جو ادب سے تعلق رکھتی ہیں اور جن میں مغنیوں اور شاعروں کے حالات ہیں۔ دوسری جلد میں ایامِ جاہلیت اور اسلام کے معرکوں کی تفصیل ہے۔
ابوالفرج نے اغانی کے سوا جو کتابیں تصنیف کیں وہ ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔
(1) نزہۃ الملوک والاعیان فی اخبار القیان۔
اس کتاب میں مغنیہ عورتوں کے حالات لکھے ہیں۔
(2) کتاب الاماء الشواعر۔ اس میں شاعرہ کنیزوں کا ذکر کیا ہے۔
(3) کتاب الدیارات۔
(4) کتاب دعوۃ الاطباء۔
(5) کتاب مجرد الاغانی۔ اغانی کا خلاصہ۔
(6) اخبار جحظہ البرمکی۔ جحظہ برمکی کی سوانح عمری۔
(7) کتاب مقاتل الطالبین۔
(8) کتاب الحانات۔
(9) کتاب آداب الغرباء۔
(10) کتاب نسب بنی عبدِ شمس۔
(11)
(11) کتاب ایام العرب۔ اس میں جاہلیت کی ایک ہزار سات سو لڑائیوں کا حال ہے۔
(12) کتاب التعدیل والانصاف یا حمیرۃ النسب۔ اس میں قبائلِ عرب کے عیوب اور فضائل بیان کیے ہیں۔
(13) کتاب نسب بنی شیبان۔
(14) کتاب نسب المہالبہ۔ اس میں خاندانِ بنو مہلب کے نسبی سلسلوں کا حال ہے۔
(15) کتاب نسب بنی تغلب و نسب بنی کلاب۔
(16) کتاب الغلمان المغنین۔ اس میں مغنی غلاموں کے حالات ہیں۔ دسویں نمبر سے سولہویں نمبر تک وہ کتابیں ہیں جو ابو الفرج نے شاہانِ اندلس کی فرمائش سے تصنیف کیں اور ان کے پاس پوشیدہ طور سے روانہ کیں اور پوشیدہ ہی طور سے انعام حاصل کیا۔
(17) کتاب مجموع الاخبار والنوادر۔
(18) کتاب الملوک الشعراء۔ یہ کتاب ویسی ہی ہے جیسی کہ سولہویں نمبر کی کتاب ہے۔
(19) کتاب اعیان الفرس۔
(20) کتاب الفرق والمعیابین الاغاود والاحرار۔ یہ کتاب فنِ انساب میں ہے اور ابوالحسن علی بن عبداللہ بن النجم کی کتاب ”اللفظ المحیط نبقض مالفظ بہ اللقیط“ کے جواب میں لکھی ہے۔
(21) کتاب تحف الوسائد فی اخبار الوہائد۔
(22) کتاب تفصیل ذی الحجہ۔
(23) کتاب الطفیلیین۔
(24) کتاب مثالب الخصیان۔ یہ خواجہ سراؤں کے حالات میں ہے۔
(25) کتاب فی النخم۔ یہ عربی گیتوں کی کتاب ہے۔
(26) رسالۃ فی الاغانی۔ یہ بھی عربی گیتوں کے بیان میں ہے۔ ان کے علاوہ اس نے بحتری اور ابو تمام کا دیوان جمع کیا اور ان کے اشعار کی ترتیب مضامین کے لحاظ سے رکھی۔ ابو نواس کا دیوان بھی اسی نے ترتیب دیا تھا۔
ابوالفرج وزیر ابو محمدؐ مہلبی کی مدح میں اشعار کہا کرتا تھا اور وزیر بھی اس کے ساتھ فیاضی سے سلوک کرتا تھا۔ اس نے 356ھ میں بغداد میں وفات پائی۔ جس سال وہ پیدا ہوا تھا اسی سال بحتری شاعر کا انتقال ہوا تھا اور جس سال اس نے وفات پائی اسی سال تین بادشاہوں اور ایک عالم نے بھی انتقال کیا۔ وہ بادشاہ سیف الدولہ، معزالدولہ بن بویہ، کافور الاخشیدی تھے، اور وہ عالم ابو علی قالی تھا۔ کہتے ہیں کہ مرنے سے پہلے اس کے حواس میں فرق آگیا تھا۔ مورخوں نے اس بات پر تعجب کیا ہے کہ وہ باوجود اس کے کہ عباسی یا ہاشمی نہ تھا بلکہ بنی امیہ میں سے تھا تاہم نہایت پختگی کے ساتھ مذہبِ اثنا عشری کا پابند تھا۔
