اچھے خاصے، بافراغت، زمیں دار میرے دادا کے مختلف البطن بھائی کے بیٹے تھے۔ نہایت پاک نفس، بڑے فیاض، افیون کے زبردست رسیا اور بے حد گلہندے تھے۔ بندھی ٹکی معروف گالیوں سے انھیں کوئی تعلق نہیں تھا، وہ نئی نئی گالیاں ایجاد کیا کرتے تھے۔ اگر میرے قارئین کی اکثریت شرمیلی نہ ہوتی تو میں ان کی تمام نرالی گالیاں درج کر کے، یہ دکھا دیتا کہ اُن میں خلاّقی کا جوہر کس قدر تھا۔
اُن کے ایک خاص مُصاحب تھے محمد اکبر خاں، ایک دن اُنھوں نے لہر میں آ کر، انھیں بالکل نئی تراش کی گالیاں دیں، اکبر خاں روٹھ گئے، آنا جانا ترک کر دیا۔
کوئی ایک ہفتے کے بعد وہ اُنھیں منانے اُن کے گھر پہنچے۔ اکبر خاں نے کہا، خاں صاحب آپ بہت گالیاں دیتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا، تم سالے ہو ہی اس قابل کہ تمھیں روز گالیاں دی جائیں، اکبر خاں نے کہا، میاں، اگر ہم اتنے ہی بُرے ہیں تو آپ ہم کو منانے کیوں آئے ہیں، اُنھوں نے کہا، کیا کریں یہ کم بخت چودھویں صدی ایسی ہے کہ اکبر خاں، اب تم سے حرامی بھی کہیں ڈھونڈے نہیں ملتے ہیں، اس پر اکبر خاں ہنس پڑے اور مان گئے۔
ان کے انتقال کا واقعہ بھی سُن لیجئے، ایسی وضع داری کے ساتھ مرنا، کس کے بس کی بات ہے۔ اُن پر جب کربِ نزع طاری ہوا، اُنھوں نے اپنی بیوی سے کہا، خدا کے لئے مجھ کو جلدی اٹھا کر بٹھا دو، بیوی نے کہا، ارے غضب خدا کا، یہ وقت بیٹھنے کا ہے، اُنھوں نے کہا، ارے بیوی جلدی کرو، میری اطاعت تم پر فرض ہے، میرا دل چاہتا ہے کہ اس حرام زادی
موت کو ایک گالی دے کر تو مروں، بیوی نے، رو کر کہا، ارے کلمہ پڑھو، اُنھوں نے ہاتھ جوڑے کہ مجھے بٹھا دو اور جب بیوی نے بٹھا دیا، تو اُنھوں نے مٹھی بند کر کے بایاں ہاتھ ہلایا اور کہا ’’لے حرامن موت یہ موٹا سا ڈاپونا‘‘، اور سدھار گئے۔

