عقل را مپسند با عشقِ جنون پرور طرف | بیخبر تا چند سازی پنبہ با اخگر طرف |
ترجمہ عقل کو جنون پرور عشق کا حریف بنانا پسند نہ کر؛ اے بے خبر! کب تک روئی کو انگارے کے مقابل رکھے گا؟ | |
کلفتِ جاوید پستی ہای فطرت توأم اند | از جبینِ سایہ کم گردد سیاہی برطرف |
ترجمہ دائمی کلفت اور فطرت کی پستیاں جڑواں ہیں؛ سایے کی پیشانی سے سیاہی کم ہی دور ہوتی ہے۔ | |
از دلِ تنہا توان بر قلبِ محشر تاختن | لیک نتوان گشت با یک دل ز صد لشکر طرف |
ترجمہ تنہا دل کے بل پر محشر کے قلب پر دھاوا بولا جا سکتا ہے، لیکن ایک دل کے ساتھ سو لشکروں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ | |
ہرزہ گو را قابلِ صحبت نگیری زینہار | عاقبت خون گشت اگر گشتی بہ دردسر طرف |
ترجمہ خبردار! بیہودہ گو کو صحبت کے لائق نہ سمجھنا؛ اگر تو دردِ سر سے الجھا تو انجام کار خون ہی ہوا۔ | |
ناتوانان ایمنند از رنجِ آفت ہای دہر | تیغ کمتر می شود با پیکرِ لاغر طرف |
ترجمہ ناتواں لوگ زمانے کی آفتوں کے رنج سے محفوظ ہیں؛ تلوار دبلے جسم سے کم ہی الجھتی ہے۔ | |
تا نفس باقیست ممکن نیست ایمن زیستن | چون گلوی شمع باید بود با خنجر طرف |
ترجمہ جب تک سانس باقی ہے، بے خوف جینا ممکن نہیں؛ شمع کے گلے کی طرح خنجر کے مقابل رہنا ہوگا۔ | |
نالۂ ما بر نیاید با تغافلہای ناز | سعیِ خاموشی مگر باشد بہ گوشِ کر طرف |
ترجمہ ہمارا نالہ ناز کے تغافل پر غالب نہیں آتا؛ شاید خاموشی کی کوشش ہی بہرے کان کا مقابلہ کر سکے۔ | |
جز تبسم با لبِ او ہیچکس را تاب نیست | موج می باید کہ گردد با خطِ ساغر طرف |
ترجمہ اس کے لب کے سامنے تبسم کے سوا کسی کو تاب نہیں؛ موج ہی کو ساغر کے خط کا حریف ہونا چاہیے۔ | |
ای بہشتِ آرزو بر چشمِ گریان رحمتی | کردہ اند این قطرۂ خون را بہ صد گوہر طرف |
ترجمہ اے آرزو کی جنت! روتی آنکھ پر کچھ رحم کر؛ اس خون کے قطرے کو سو موتیوں کا حریف بنا دیا گیا ہے۔ | |
سایہ را از ہیچکس اندیشۂ تعظیم نیست | ناتوانی عالمی دارد تکلف بر طرف |
ترجمہ سایے کو کسی کی تعظیم کی فکر نہیں؛ ناتوانی ایک ایسا عالم رکھتی ہے جہاں تکلف برطرف ہے۔ | |
بوی گل با نالۂ بلبل وداع آمادہ است | خیر بادِ دوستانم داغ کرد از ہر طرف |
ترجمہ پھول کی خوشبو بلبل کے نالے کے ساتھ رخصت کو تیار ہے؛ دوستوں کی الوداع نے مجھے ہر طرف سے داغ دار کر دیا۔ | |
ہیچکس سودی نبرد از انتظارِ مدعا | تا نشد چشمِ طمع با حلقہ ہای در طرف |
ترجمہ مدعا کے انتظار سے کسی نے کچھ نفع نہ پایا، یہاں تک کہ لالچ کی آنکھ دروازے کے کڑوں کی ہم سر نہ ہو گئی۔ | |
شورِ امکان بر نیاید با دلِ آسودگان | جوشِ دریا نیست با جمعیتِ گوہر طرف |
ترجمہ امکان کا شور آسودہ دلوں پر غالب نہیں آتا؛ دریا کا جوش موتی کی جمعیت کا حریف نہیں۔ | |
تا توانی بیدل از وہمِ تعلق قطع کن | یک قلم نور است چون شد دودِ آتش بر طرف |
ترجمہ بیدل! جہاں تک ہو سکے تعلق کے وہم سے رشتہ کاٹ لے؛ جب آگ کا دھواں دور ہو جائے تو سراسر نور ہے۔ | |
