ای سازِ بر و دوشِ تو پیراہنِ کاغذ | تا چند بہ ہر شعلہ زنی دامنِ کاغذ |
ترجمہ اے وہ کہ جس کے قد و قامت پر کاغذ کا لباس ہے، تو کب تک ہر شعلے سے کاغذ کے دامن کو آگ لگائے گا؟ | |
کس نیست کہ بر خشکیٔ طبعت نستیزد | گر آتش وگر آب بود دشمنِ کاغذ |
ترجمہ کوئی نہیں جو تیری خشک طبیعت سے نہ لڑے، خواہ آگ ہو یا پانی، دونوں ہی کاغذ کے دشمن ہیں۔ | |
بی کسبِ ہنر فیضِ قبولی نتوان یافت | تا حفظ نماید نتوان خواندنِ کاغذ |
ترجمہ ہنر حاصل کیے بغیر قبولیت کا فیض نہیں پایا جا سکتا، جب تک یاد نہ کر لیا جائے کاغذ کو پڑھا نہیں جا سکتا۔ | |
ہر نامۂ بی مطلب ما جایِ رقم نیست | قاصد نفسی سوختہ در بردنِ کاغذ |
ترجمہ ہمارا ہر بے مقصد خط لکھنے کے لائق نہیں، (کیونکہ) قاصد اس کاغذ کو لے جانے میں ایک لمحے میں جل گیا۔ | |
گر آگہی آیینہات از زنگ بپرداز | ای علمِ تو مصروفِ سیہ کردنِ کاغذ |
ترجمہ اے وہ شخص جس کا علم کاغذ سیاہ کرنے میں مصروف ہے، اگر تُو آگاہی رکھتا ہے تو اپنے (دل کے) آئینے کو زنگ سے پاک کر۔ | |
سہل است بہ ہر شیشہ دلی تیغ کشیدن | دارد نمِ آبی شررِ خرمنِ کاغذ |
ترجمہ ہر شیشہ دل پر تلوار چلانا آسان ہے، (کیونکہ) پانی کی ذرا سی نمی بھی کاغذ کے کھلیان کے لیے چنگاری کا اثر رکھتی ہے۔ | |
ہر نقطہ کہ از شوخیٔ خالِ تو نویسند | آرام نگیرد چو شرر بر تنِ کاغذ |
ترجمہ ہر وہ نقطہ جو تیرے تل کی شوخی سے لکھا جاتا ہے، وہ کاغذ کے بدن پر چنگاری کی مانند قرار نہیں پاتا۔ | |
از راہِ تو آسان نرود نقشِ جبینم | خطِ پنجۂ دیگر زدہ در دامنِ کاغذ |
ترجمہ میری پیشانی کا نقش (شکن) تیری راہ سے آسانی سے نہیں مٹتا، (گویا) کسی اور کے پنجے نے کاغذ کے دامن پر لکیر کھینچ دی ہو۔ | |
تسلیمِ من از آفتِ گردون نہراسد | بر ہم نخورد حرف بہ پیچیدنِ کاغذ |
ترجمہ میری تسلیم آسمانی آفتوں سے نہیں گھبراتی، (جیسے) کاغذ کو لپیٹ دینے سے اس پر لکھا حرف بگڑتا نہیں۔ | |
ثبت است جوابِ خطِ عاشق بہ دریدن | دریاب صریرِ قلم از شیونِ کاغذ |
ترجمہ عاشق کے خط کا جواب اُسے پھاڑ دینے میں ہی درج ہے، قلم کی آواز کو کاغذ کے ماتم سے سمجھو۔ | |
فریاد کہ در مکتبِ بیحاصلِ امکان | یک نسخہ نیرزید بگرداندنِ کاغذ |
ترجمہ فریاد ہے کہ اس بے حاصل دنیا کے مکتب میں، ایک نسخہ بھی کاغذ پلٹ کر دیکھنے کے قابل نہ تھا۔ | |
بیدل دلِ عاشق بہ ہوس رام نگردد | اخگر نشود تکمۂ پیراہنِ کاغذ |
ترجمہ اے بیدل! عاشق کا دل ہوس سے قابو میں نہیں آتا، (جیسے) دہکتا ہوا انگارہ کاغذ کے لباس کا بٹن نہیں بن سکتا۔ | |
