ای شعلہ نہال از قلمت گلشن کاغذ | دود از خط مشکین تو در خرمن کاغذ |
ترجمہ اے شعلہ نہال! تیرے قلم سے کاغذ کا باغ گلشن بن گیا ہے، اور تیری سیاہ تحریر کا دھواں کاغذ کے کھلیان میں ہے۔ | |
خط نیست کہ گل کرد از آن کلک گہربار | برخاستہ از شوق تو مو بر تن کاغذ |
ترجمہ یہ تحریر نہیں ہے جو اس موتی برسانے والے قلم سے پھوٹی ہے، بلکہ تیرے شوق میں کاغذ کے بدن پر رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں۔ | |
با حسرت دل ہیچ نپرداخت نگاہت | کاش آینہ می داشت فرستادن کاغذ |
ترجمہ تیری نگاہ نے دل کی حسرت پر کوئی توجہ نہ دی، کاش کاغذ بھیجنا ایک آئینہ رکھنے جیسا ہوتا (تاکہ تم میری حالت دیکھ سکتی)۔ | |
لخت جگرم سد رہ نالہ نگردید | پنہان نشد این شعلہ بہ پیراہن کاغذ |
ترجمہ میرا لخت جگر بھی میرے نالے کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکا، یہ شعلہ کاغذ کے پیراہن میں بھی چھپ نہ سکا۔ | |
از وحشت آشوب جہان ہرچہ نوشتم | افشاند خط از خویش پر افشاندن کاغذ |
ترجمہ دنیا کے ہنگاموں کی وحشت سے میں نے جو کچھ بھی لکھا، کاغذ کے پر جھاڑنے سے میری تحریر خود بخود بکھر گئی۔ | |
سہل است بہ این ہستی موہوم غرورت | آتش نتوان ریخت بہ پرویزن کاغذ |
ترجمہ اس وہمی ہستی پر غرور کرنا آسان ہے، (لیکن یاد رکھو) کاغذ کی چھلنی میں آگ نہیں ڈالی جا سکتی۔ | |
با تیغ توان شد طرف از چرب زبانی | در آب چو روغن نبود جوشن کاغذ |
ترجمہ تلوار کا مقابلہ چکنی چپڑی باتوں سے تو کیا جا سکتا ہے، مگر پانی میں کاغذ کی زرہ تیل کی طرح (کارگر) نہیں ہوتی۔ | |
بر فرصت ہستی مفروشید تعین | گو یک دو شرر چین نکشد دامن کاغذ |
ترجمہ زندگی کی مہلت پر اپنی خودی کو نہ بیچو، مبادا ایک دو چنگاریاں کاغذ کے دامن کو نہ سمیٹ لیں۔ | |
چون خامہ خجالت کش این مزرع خشکیم | چیدیم نم جبہہ بہ افشردن کاغذ |
ترجمہ ہم اس خشک کھیت (دنیا) کے شرمندہ قلم کی مانند ہیں، ہم نے کاغذ نچوڑ کر اپنی پیشانی کی نمی (پسینہ) حاصل کی۔ | |
بیدل سر فوارۂ این باغ نگون است | تاکی بہ قلم آب دہی گلشن کاغذ |
ترجمہ اے بیدل! اس اُلٹے باغ کا فوارہ تو (تیرا) سر ہے، تُو کب تک قلم سے کاغذ کے گلشن کو پانی دیتا رہے گا؟ | |
