از بس کہ خوردہ ام بہ خمِ زلفِ یار پیچ | طومارِ نالہ ام ہمہ جا رفتہ مارپیچ |
ترجمہ یار کی زلف کے خم میں میں نے اس قدر بل کھائے ہیں کہ میرے نالے کا طومار ہر جگہ سانپ کی طرح بل کھاتا چلا گیا ہے۔ | |
زالِ فلک طلسمِ امل خیزِ ہستی ام | بستہ است چون کلاوہ بہ چندین ہزار پیچ |
ترجمہ آسمان کی بڑھیا نے میری ہستی کے آرزو خیز طلسم کو لچھے کی طرح ہزاروں بلوں میں باندھ رکھا ہے۔ | |
ای غافل از خجالتِ صیادیٔ ہوس | رو عنکبوت وار ہوا را بہ تار پیچ |
ترجمہ اے ہوس کی صیادی کی شرمندگی سے غافل! جا، مکڑی کی طرح ہوا کو تار میں لپیٹتا رہ۔ | |
پیش از تو ذوقِ جانکنیی داشت کوہکن | چندی تو ہم چو نالہ درین کوہسار پیچ |
ترجمہ تجھ سے پہلے کوہ کن کو جان کنی کا ذوق تھا؛ کچھ دیر تو بھی نالے کی طرح اس کوہسار میں بل کھا۔ | |
امید در قلمروِ بیحاصلی رساست | از ہر چہ ہست بگسل و در انتظار پیچ |
ترجمہ بے حاصلی کی قلمرو میں امید دور تک پہنچتی ہے؛ جو کچھ ہے اس سے رشتہ توڑ اور انتظار میں لپٹ جا۔ | |
رنجِ جہان بہ ہمتِ مردانہ راحت است | گر بار می کشی کمرت استوار پیچ |
ترجمہ مردانہ ہمت کے لیے دنیا کا رنج راحت ہے؛ اگر بوجھ اٹھاتا ہے تو اپنی کمر مضبوطی سے کس لے۔ | |
بر یک جہان امل دمِ پیری چہ می تنی | دستارِ صبح بہ کہ بود اختصار پیچ |
ترجمہ بڑھاپے کے وقت ایک جہان بھر امید کیوں بنتا ہے؟ صبح کی دستار یہی بہتر ہے کہ مختصر لپیٹی جائے۔ | |
افسردہ گیر شعلۂ موہومیٔ نفس | دودِ دلی کہ نیست بہ شمعِ مزار پیچ |
ترجمہ سانس کے موہوم شعلے کو بجھا ہوا سمجھ، یہ اس دل کا دھواں ہے جو مزار کی شمع سے لپٹا ہوا نہیں۔ | |
موجی کہ صرفِ کارِ گہر گشت گوہر است | سر تا بہ پای خود بہ سراپای یار پیچ |
ترجمہ جو موج موتی کے کام میں صرف ہو گئی وہ خود موتی ہے؛ تو بھی سر سے پاؤں تک خود کو یار کے سراپا میں لپیٹ دے۔ | |
صد خوابِ ناز تشنۂ ضبطِ حواسِ توست | بر خویش غنچہ گرد و لحافِ بہار پیچ |
ترجمہ سیکڑوں ناز بھری نیندیں تیرے حواس کے ضبط کی پیاسی ہیں؛ کلی کی طرح اپنے آپ میں سمٹ جا اور بہار کا لحاف لپیٹ لے۔ | |
بیدل مباش منفعلِ جہدِ نارسا | این یک نفس عنان ز رہِ اختیار پیچ |
ترجمہ اے بیدل، نارسا کوشش پر شرمندہ نہ ہو؛ اس ایک سانس کے لیے اختیار کی راہ سے باگ موڑ لے۔ | |
