اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

از بس کہ خوردہ ام بہ خم زلف یار پیچ

از بس کہ خوردہ ام بہ خمِ زلفِ یار پیچ

طومارِ نالہ ام ہمہ جا رفتہ مارپیچ

ترجمہ یار کی زلف کے خم میں میں نے اس قدر بل کھائے ہیں کہ میرے نالے کا طومار ہر جگہ سانپ کی طرح بل کھاتا چلا گیا ہے۔

زالِ فلک طلسمِ امل خیزِ ہستی ام

بستہ است چون کلاوہ بہ چندین ہزار پیچ

ترجمہ آسمان کی بڑھیا نے میری ہستی کے آرزو خیز طلسم کو لچھے کی طرح ہزاروں بلوں میں باندھ رکھا ہے۔

ای غافل از خجالتِ صیادیٔ ہوس

رو عنکبوت وار ہوا را بہ تار پیچ

ترجمہ اے ہوس کی صیادی کی شرمندگی سے غافل! جا، مکڑی کی طرح ہوا کو تار میں لپیٹتا رہ۔

پیش از تو ذوقِ جانکنیی داشت کوہکن

چندی تو ہم چو نالہ درین کوہسار پیچ

ترجمہ تجھ سے پہلے کوہ کن کو جان کنی کا ذوق تھا؛ کچھ دیر تو بھی نالے کی طرح اس کوہسار میں بل کھا۔

امید در قلمروِ بیحاصلی رساست

از ہر چہ ہست بگسل و در انتظار پیچ

ترجمہ بے حاصلی کی قلمرو میں امید دور تک پہنچتی ہے؛ جو کچھ ہے اس سے رشتہ توڑ اور انتظار میں لپٹ جا۔

رنجِ جہان بہ ہمتِ مردانہ راحت است

گر بار می کشی کمرت استوار پیچ

ترجمہ مردانہ ہمت کے لیے دنیا کا رنج راحت ہے؛ اگر بوجھ اٹھاتا ہے تو اپنی کمر مضبوطی سے کس لے۔

بر یک جہان امل دمِ پیری چہ می تنی

دستارِ صبح بہ کہ بود اختصار پیچ

ترجمہ بڑھاپے کے وقت ایک جہان بھر امید کیوں بنتا ہے؟ صبح کی دستار یہی بہتر ہے کہ مختصر لپیٹی جائے۔

افسردہ گیر شعلۂ موہومیٔ نفس

دودِ دلی کہ نیست بہ شمعِ مزار پیچ

ترجمہ سانس کے موہوم شعلے کو بجھا ہوا سمجھ، یہ اس دل کا دھواں ہے جو مزار کی شمع سے لپٹا ہوا نہیں۔

موجی کہ صرفِ کارِ گہر گشت گوہر است

سر تا بہ پای خود بہ سراپای یار پیچ

ترجمہ جو موج موتی کے کام میں صرف ہو گئی وہ خود موتی ہے؛ تو بھی سر سے پاؤں تک خود کو یار کے سراپا میں لپیٹ دے۔

صد خوابِ ناز تشنۂ ضبطِ حواسِ توست

بر خویش غنچہ گرد و لحافِ بہار پیچ

ترجمہ سیکڑوں ناز بھری نیندیں تیرے حواس کے ضبط کی پیاسی ہیں؛ کلی کی طرح اپنے آپ میں سمٹ جا اور بہار کا لحاف لپیٹ لے۔

بیدل مباش منفعلِ جہدِ نارسا

این یک نفس عنان ز رہِ اختیار پیچ

ترجمہ اے بیدل، نارسا کوشش پر شرمندہ نہ ہو؛ اس ایک سانس کے لیے اختیار کی راہ سے باگ موڑ لے۔