از غبارِ جلوۂ غیرِ تو تا بستم نظر | چون صفِ مژگان دو عالم محو شد در یکدگر |
ترجمہ جب سے میں نے تیرے سوا کسی اور کے جلوے کے غبار سے آنکھ بند کی، دونوں عالم پلکوں کی قطار کی طرح ایک دوسرے میں محو ہو گئے۔ | |
بستہ ام محمل بہ دوشِ یأس و از خود می روم | بالِ پروازی ندارد صبح جز چاکِ جگر |
ترجمہ میں نے مایوسی کے کندھے پر محمل باندھ لیا ہے اور اپنے آپ سے رخصت ہو رہا ہوں؛ صبح کے پاس جگر کے چاک کے سوا اڑان کا کوئی پر نہیں۔ | |
خدمتِ موی میانت تا کہ را باشد نصیب | گلرخان را زین ہوس زنار می بندد کمر |
ترجمہ دیکھیے تیری بال جیسی کمر کی خدمت کس کے نصیب میں آتی ہے؛ اسی ہوس میں گل رخوں کی کمر زنار باندھ لیتی ہے۔ | |
چون گہر زین پیش سامانِ سرشکی داشتم | این زمانم نیست جز حیرت سراغِ چشمِ تر |
ترجمہ موتی کی طرح اس سے پہلے میرے پاس آنسو کا کچھ سامان تھا؛ اب حیرت کے سوا مجھے بھیگی آنکھ کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ | |
وحشتِ حسرت بہ این کمفرصتی مخمورِ کیست | صورتِ خمیازہ دارد چینِ دامانِ سحر |
ترجمہ حسرت کی وحشت اس کم فرصتی میں کس کی مخمور ہے کہ صبح کے دامن کی شکن انگڑائی کی صورت رکھتی ہے۔ | |
عالمی را از تغافل ربطِ الفت دادہ ایم | نیست مژگان قابلِ شیرازہ بی ضبطِ نظر |
ترجمہ ہم نے تغافل کے ذریعے ایک عالم کو الفت کا ربط دیا ہے؛ نظر کو ضبط کیے بغیر پلکیں شیرازہ بندی کے قابل نہیں ہوتیں۔ | |
این تن آسانی دلیلِ وحشتِ سرشار نیست | ہر قدر افسردہ گردد سنگ می بندد کمر |
ترجمہ یہ تن آسانی بھرپور وحشت کی دلیل نہیں؛ پتھر جتنا افسردہ ہوتا ہے اتنی ہی کمر باندھتا ہے۔ | |
گر فلک بی اعتبارت کرد جای شکوہ نیست | بر حلاوت بستہ ای دل چون گرہ در نیشکر |
ترجمہ اگر آسمان نے تجھے بے اعتبار کر دیا تو شکوے کی جگہ نہیں؛ اے دل! تو گنے کی گرہ کی طرح مٹھاس پر بندھا ہوا ہے۔ | |
فکرِ فردا چند از این خاکِ غبار آمادہ است | ہم تو خواہی بود صبحِ خویش یا صبحِ دگر |
ترجمہ غبار بننے کو تیار اس خاک سے کل کی فکر کب تک؟ تو خود ہی اپنی صبح ہو گا یا کسی اور کی صبح۔ | |
سیرِ رنگ و بو ہوس داری ز گل غافل مباش | شوخیٔ پرواز نتوان دید جز در بال و پر |
ترجمہ اگر رنگ و بو کی سیر کی ہوس رکھتا ہے تو پھول سے غافل نہ رہ؛ اڑان کی شوخی بال و پر کے سوا کہیں نہیں دیکھی جا سکتی۔ | |
چند باید شد ہوس فرسودِ کسبِ اعتبار | سر ہم ای غافل نمی ارزد بہ چندین دردسر |
ترجمہ کب تک اعتبار کمانے کی ہوس میں گھستے رہنا ہے؛ اے غافل! سر بھی اتنے دردِ سر کے لائق نہیں۔ | |
منزلِ سرگشتگانِ راہِ عجز افتادگی ست | تا دلِ خاک است بیدل اشک را حدِ سفر |
ترجمہ عجز کی راہ کے سرگشتوں کی منزل افتادگی ہے؛ بیدل! آنسو کے سفر کی حد خاک کے دل تک ہے۔ | |
