جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

از جیب ہزار آینہ سر بر زدہ ای باز

از جیب ہزار آینہ سر بر زدہ ای باز

ای گل ز چہ رنگ این ہمہ ساغر زدہ ای باز

ترجمہ اے پھول! تو نے پھر سے ہزار آئینوں کی جیب سے سر نکالا ہے، یہ کس رنگ کے اتنے سارے ساغر تو نے پھر پی لیے ہیں؟

تمثال چہ خون می چکد از آینہ امروز

نیش مژہ ای بر رگ جوہر زدہ ای باز

ترجمہ آج آئینے سے تصویر کا کیسا خون ٹپک رہا ہے، (لگتا ہے) تو نے پھر سے اس کے جوہر کی رگ پر پلکوں کا نشتر مارا ہے۔

در خلوت شرمت اثر ضبط تبسم

قفلی ست کہ بر حقۂ گوہر زدہ ای باز

ترجمہ تیری شرم کی خلوت میں، مسکراہٹ کو روکنے کی کوشش ایک ایسا تالا ہے جو تو نے پھر سے موتیوں کی ڈبیا پر لگا دیا ہے۔

افروختہ ای چہرہ ز تاب عرق شرم

در کلبۂ ما آتش دیگر زدہ ای باز

ترجمہ تو نے شرم کے پسینے کی تپش سے چہرہ روشن کر رکھا ہے، (اس طرح) تو نے ہمارے غریب خانے میں ایک اور آگ پھر سے لگا دی ہے۔

مجروح وفا بی اثر زخم شہید است

کم بود تغافل کہ تو خنجر زدہ ای باز

ترجمہ وفا کا زخمی تو زخم کے اثر کے بغیر ہی شہید ہے، کیا تیرا تغافل کم تھا کہ تو نے پھر سے خنجر بھی چلا دیا ہے۔

ای خط ادبی کن مشکن خاطر رنگش

زین شوخ زبانی بہ چہ رو سر زدہ ای باز

ترجمہ اے خطِ (رخسار)، ادب کر اور اس کے رنگ (چہرے کی رونق) کا دل مت توڑ۔ تو نے کس منہ سے یہ شوخ زبانی پھر سے کی ہے۔

با تیرہ دلی کس نشود محرم چشمش

ای سرمہ چرا حلقہ بر این در زدہ ای باز

ترجمہ سیاہ دلی کے ساتھ کوئی اس کی آنکھ کا محرم نہیں ہو سکتا۔ اے سرمہ، تو نے پھر سے اس دروازے پر حلقہ کیوں ڈالا ہے؟

احرام گلستان تماشای کہ داری

ای دیدہ بہ حیرت مژہ ای بر زدہ ای باز

ترجمہ اے آنکھ! تو نے کس گلستان کے تماشے کا احرام باندھ رکھا ہے، کہ تو نے حیرت سے پھر سے پلکیں اٹھائی ہیں؟

خون کرد دلت سعی فسردن چہ جنون است

خاکی و بہ آرایش بستر زدہ ای باز

ترجمہ اے دل! منجمد ہونے کی کوشش نے تجھے لہولہان کر دیا ہے، یہ کیسا جنون ہے؟ تو خاکی ہے اور پھر سے بستر سجانے میں لگ گیا ہے۔

بیدل چہ خیال است در این راہ نلغزی

اشکی و قدم بر مژۂ تر زدہ ای باز

ترجمہ اے بیدل، یہ کیا خیال ہے کہ تو اس راہ میں نہیں پھسلے گا؟ تو خود ایک آنسو ہے اور تو نے پھر سے گیلی پلک پر قدم رکھا ہے۔