از کواکب گل فشاند چرخ در دامانِ صبح | آفتاب آیینہ کارد در رہِ جولانِ صبح |
ترجمہ آسمان نے ستاروں کے پھول صبح کے دامن میں بکھیر دیے؛ سورج صبح کی جولاں گاہ کی راہ میں آئینے بوتا ہے۔ | |
باطنِ پیران فروغ آبادِ چندین آگہی ست | فیض دارد گوہری از گنجِ بی پایانِ صبح |
ترجمہ بوڑھوں کا باطن کتنی ہی آگہیوں کی روشن بستی ہے؛ فیض صبح کے بے پایاں خزانے کا ایک موتی رکھتا ہے۔ | |
نورِ صاحب رونق از گردِ کسادِ ظلمت است | کفرِ شب از کہنگیہا تازہ کرد ایمانِ صبح |
ترجمہ روشنی کی رونق اندھیرے کی کساد بازاری کی گرد سے ہے؛ رات کے کفر نے اپنی کہنگی سے صبح کا ایمان تازہ کر دیا۔ | |
گاہِ خاموشی نفس آیینۂ دل می شود | سودِ خورشید است ہرجا گل کند نقصانِ صبح |
ترجمہ خاموشی کے وقت سانس دل کا آئینہ بن جاتی ہے؛ جہاں کہیں صبح کا نقصان کھلتا ہے وہاں سورج کا نفع ہے۔ | |
دستگاہِ نازم از سعیِ جنون آمادہ است | دارم از چاکِ گریبان نسخۂ توفانِ صبح |
ترجمہ میرے ناز کا سرمایہ جنون کی کوشش سے تیار ہے؛ میرے پاس گریبان کے چاک سے صبح کے طوفان کا نسخہ ہے۔ | |
فتحِ بابی آخر از چاکِ دلم گل کردنی ست | سایۂ چشمِ سفیدی ہست بر کنعانِ صبح |
ترجمہ آخر میرے دل کے چاک سے ایک دروازہ کھلنا ہے؛ صبح کے کنعان پر ایک سفید آنکھ کا سایہ ہے۔ | |
بیخودی سرمایۂ ناموسگاہِ وحشتم | می توان داد از شکستِ رنگِ من تاوانِ صبح |
ترجمہ بے خودی میری وحشت کی ناموس گاہ کا سرمایہ ہے؛ میرے اڑے ہوئے رنگ سے صبح کا تاوان ادا کیا جا سکتا ہے۔ | |
محوِ انجامم دماغِ سیرِ آغازم کجاست | بر فروغِ شمع کم دوزد نظر حیرانِ صبح |
ترجمہ میں انجام میں محو ہوں، آغاز کی سیر کا دماغ مجھے کہاں؟ صبح کا حیران شمع کی روشنی پر کم ہی نظر جماتا ہے۔ | |
آنچہ آغازش فنا باشد ز انجامش مپرس | می توان طومارِ امکان خواند از عنوانِ صبح |
ترجمہ جس کا آغاز ہی فنا ہو اس کے انجام کا حال نہ پوچھ؛ امکان کا طومار صبح کے عنوان ہی سے پڑھا جا سکتا ہے۔ | |
چند باید بود در عبرت سرای روزگار | تہمت آلودِ نفس چون پیکرِ بیجانِ صبح |
ترجمہ زمانے کی عبرت سرا میں کب تک صبح کے بے جان پیکر کی طرح سانس کی تہمت سے آلودہ رہنا ہوگا؟ | |
نسخۂ شمعم کہ از برجستگیہای خیال | مقطعم برتر گذشت از مطلعِ دیوانِ صبح |
ترجمہ میں شمع کا نسخہ ہوں کہ خیال کی برجستگیوں سے میرا مقطع صبح کے دیوان کے مطلع سے بھی بلند گزر گیا۔ | |
مرگِ اہلِ سوز باشد حرفِ سردِ ناصحان | شمع را تیغ است بیدل جنبشِ دامانِ صبح |
ترجمہ ناصحوں کی سرد بات اہلِ سوز کی موت ہے؛ بیدل! صبح کے دامن کی جنبش شمع کے لیے تلوار ہے۔ | |
