اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

بہ اوج کبریاکزپہلوی عجز است راہ آنجا

بہ اوجِ کبریا کز پہلوی عجز است راہ آنجا

سرِ مویی گر اینجا خم شوی بشکن کلاہ آنجا

ترجمہ کبریائی کی اس بلندی تک، جس کی راہ عجز کے پہلو سے ہو کر جاتی ہے، اگر تو یہاں بال برابر بھی جھک جائے تو وہاں اپنی کلاہ ٹیڑھی کر لے۔

ادبگاہِ محبت نازِ شوخی برنمی دارد

چو شبنم سر بہ مہرِ اشک می بالد نگاہ آنجا

ترجمہ محبت کی ادب گاہ شوخی کا ناز برداشت نہیں کرتی؛ وہاں نگاہ شبنم کی طرح آنسو کی مہر لگائے ہوئے پروان چڑھتی ہے۔

بہ یادِ محفلِ نازش سحرخیزست اجزایم

تبسم تا کجاہا چیدہ باشد دستگاہ آنجا

ترجمہ اس کی ناز کی محفل کی یاد میں میرے اجزا سحر خیز ہیں؛ جانے وہاں تبسم نے کہاں کہاں تک اپنا کارخانہ سجا رکھا ہوگا۔

مقیمِ دشتِ الفت باش و خوابِ ناز سامان کن

بہ ہم می آورد چشمِ تو مژگانِ گیاہ آنجا

ترجمہ الفت کے دشت میں مقیم رہ اور ناز کی نیند کا سامان کر؛ وہاں گھاس کی پلکیں تیری آنکھ کو بند کر دیتی ہیں۔

خیالِ جلوہ زارِ نیستی ہم عالمی دارد

ز نقشِ پا سری باید کشیدن گاہ گاہ آنجا

ترجمہ نیستی کے جلوہ زار کا خیال بھی ایک عالم رکھتا ہے؛ نقشِ پا کی طرح کبھی کبھی وہاں سر اٹھا کر جھانک لینا چاہیے۔

خوشا بزمِ وفا کز خجلتِ اظہارِ نومیدی

شرر در سنگ دارد پرفشانیہای آہ آنجا

ترجمہ کیا خوب ہے وفا کی بزم کہ وہاں ناامیدی کے اظہار کی شرمندگی سے آہ کی پر افشانیاں پتھر میں چنگاری کی طرح چھپی رہتی ہیں۔

بہ سعیِ غیر مشکل بود ز آشوبِ دویی رستن

سری در جیبِ خود دزدیدم و بردم پناہ آنجا

ترجمہ دوئی کے ہنگامے سے غیر کی کوشش کے ذریعے چھٹکارا مشکل تھا؛ میں نے اپنے گریبان میں سر چھپایا اور وہیں پناہ لے لی۔

دل از کم ظرفیٔ طاقت نبست احرامِ آزادی

بہ سنگ آید مگر این جام و گردد عذرخواہ آنجا

ترجمہ دل نے طاقت کی کم ظرفی کے سبب آزادی کا احرام نہ باندھا؛ شاید یہ جام پتھر سے ٹکرا کر وہاں معذرت خواہ ہو۔

بہ کنعانِ ہوس گردی ندارد یوسفِ مطلب

مگر در خود فرورفتن کند ایجادِ چاہ آنجا

ترجمہ ہوس کے کنعان میں مطلب کا یوسف کوئی گرد نہیں رکھتا؛ شاید اپنے اندر ڈوب جانا ہی وہاں کنواں پیدا کر دے۔

ز بس فیضِ سحر می جوشد از گردِ سوادِ دل

ہمہ گر شب شوی روزت نمی گردد سیاہ آنجا

ترجمہ دل کی سیاہی کی گرد سے صبح کا فیض اس قدر ابلتا ہے کہ اگر تو سراسر رات بھی بن جائے تو وہاں تیرا دن سیاہ نہیں ہوتا۔

ز طرزِ مشربِ عشاق سیرِ بینوایی کن

شکستِ رنگِ کس آبی ندارد زیرکاہ آنجا

ترجمہ عاشقوں کے مشرب کے طرز پر بے نوائی کی سیر کر؛ وہاں کسی کے رنگ کی شکست میں کوئی پوشیدہ فریب نہیں۔

زمینگیرم بہ افسونِ دلِ بی مدعا بیدل

در آن وادی کہ منزل نیز می افتد بہ راہ آنجا

ترجمہ بیدل! میں بے مدعا دل کے افسوں سے اس وادی میں زمین گیر ہوں جہاں منزل بھی راستے میں گر پڑتی ہے۔