بہ دل ز مقصد موہوم خار خار مریز | در امید مزن خون انتظار مریز |
ترجمہ دل میں وہمی مقصد کے کانٹے مت بکھیرو، اور امید کے دروازے پر انتظار کا خون مت بہاؤ۔ | |
مبند دل بہ ہوای جہان بیحاصل | ز جہل تخم تعلق بہ شورہ زار مریز |
ترجمہ اس بے حاصل دنیا کی خواہش سے دل مت لگاؤ، اور جہالت کی وجہ سے تعلق کا بیج بنجر زمین میں مت بوؤ۔ | |
بہ یک دو اشک غم ماتم کہ خواہی داشت | گل چراغ فضولی بہ ہر مزار مریز |
ترجمہ جو ایک دو آنسو غمِ ماتم کے لیے تم رکھتے ہو، انہیں فضول میں ہر مزار پر چراغ کے پھول کی طرح مت بکھیرو۔ | |
حدیث عشق سزاوار گوش زاہد نیست | زلال آب گہر در دہان مار مریز |
ترجمہ عشق کی باتیں زاہد کے کان کے لائق نہیں ہیں، موتی کا صاف پانی سانپ کے منہ میں مت ڈالو۔ | |
بہ عرض بیخردان جوہر کلام مبر | بہ سنگ و خشت دم تیغ آبدار مریز |
ترجمہ بے عقل لوگوں کے سامنے اپنے کلام کا جوہر پیش مت کرو، اور پتھر اور اینٹ پر اپنی چمکدار تلوار کی دھار مت گراؤ۔ | |
بہ تردماغی کروفر از حیا مگذر | ز اوج ناز بہ پستی چو آبشار مریز |
ترجمہ شان و شوکت کے غرور میں حیا سے تجاوز نہ کرو، اور ناز کی بلندی سے آبشار کی طرح پستی میں مت گرو۔ | |
ز آفتاب قیامت اگر خبر داری | بہ فرق بیکلہان سایہ کن غبار مریز |
ترجمہ اگر تمہیں قیامت کے سورج کی خبر ہے، تو بے تاجوں (غریبوں) کے سر پر سایہ کرو، ان پر دھول مت اڑاؤ۔ | |
خجالت است شکفتن بہ عالم اوہام | در آن چمن کہ نہ ای رنگ این بہار مریز |
ترجمہ خیالات کی دنیا میں کھلنا (خوش ہونا) شرمندگی ہے، جس چمن سے تمہارا تعلق نہیں، اس میں اس بہار کا رنگ مت بکھیرو۔ | |
گردش آن چشم نشئہ پرور باش | بہ ساغر دگر آب رخ خمار مریز |
ترجمہ اس نشہ پرور آنکھ کی گردش میں رہو، کسی دوسرے ساغر میں خمار کی آبرو مت گراؤ۔ | |
اگرچہ جرأت اہل نیاز بی ادبی است | ز شرم آب شو و جز بہ پای یار مریز |
ترجمہ اگرچہ اہل نیاز کی جرات بے ادبی ہے، (پھر بھی) شرم سے پانی پانی ہو جاؤ اور اسے یار کے قدموں کے سوا کہیں اور مت بہاؤ۔ | |
بہ ہرچہ ناز کنی انفعال ہمت توست | غبار ناشدہ در چشم انتظار مریز |
ترجمہ تم جس چیز پر بھی ناز کرتے ہو وہ تمہاری ہمت کی شرمندگی ہے، ابھی جو گرد بھی نہیں بنے ہو، اسے انتظار کی آنکھ میں مت جھونکو۔ | |
بہ ہر بنا کہ رسد دست طاقتت بیدل | بہ غیر ریختن رنگ اختیار مریز |
ترجمہ اے بیدل! جس بنیاد تک بھی تمہاری طاقت کا ہاتھ پہنچے، وہاں اختیار کا رنگ بکھیرنے کے سوا کچھ مت کرو۔ | |
