بہ عبرت آب شو ای غافل از خمیدنِ موج | کہ خودسری چقدر گشتہ بارِ گردنِ موج |
ترجمہ اے غافل، موج کے جھکنے سے عبرت لے کر پانی ہو جا، کہ خودسری موج کی گردن پر کتنا بوجھ بن گئی ہے۔ | |
درین محیط کہ دارد اقامت آرایی | کشیدہ است ہجومِ شکست دامنِ موج |
ترجمہ اس سمندر میں جہاں قیام کی آرائش کا کسے یارا ہے، شکست کے ہجوم نے موج کا دامن کھینچ رکھا ہے۔ | |
عنان ز چنگِ ہوس وا ستان کہ بر رخِ بحر | ہواست باعثِ شمشیر برکشیدنِ موج |
ترجمہ ہوس کے پنجے سے باگ واپس لے لے، کہ سمندر کے چہرے پر موج کے تلوار کھینچنے کا سبب ہوا ہی ہے۔ | |
بہ عجز ساز و طرب کن کہ در محیطِ نیاز | شکستگی ست لباسِ حریر بر تنِ موج |
ترجمہ عجز سے نبھا اور شاد رہ، کہ نیاز کے سمندر میں موج کے بدن پر شکستگی ہی ریشمی لباس ہے۔ | |
غبارِ شکوہ ز روشندلان نمی جوشد | در آبِ چشمۂ آیینہ نیست شیونِ موج |
ترجمہ روشن دلوں سے شکوے کا غبار نہیں اٹھتا، آئینے کے چشمے کے پانی میں موج کا شیون نہیں ہوتا۔ | |
نکرد الفتِ مژگان علاجِ وحشتِ اشک | بہ مشتِ خس کہ تواند گرفت دامنِ موج |
ترجمہ پلکوں کی الفت نے آنسو کی وحشت کا علاج نہ کیا، مٹھی بھر تنکوں سے موج کا دامن کون پکڑ سکتا ہے۔ | |
سراغِ عمر ز گردِ رمِ نفس کردیم | محیط بود تحیر عنانِ رفتنِ موج |
ترجمہ ہم نے سانس کے بھاگنے کی گرد سے عمر کا سراغ لگایا، موج کے جانے کی باگ کو حیرت نے گھیر رکھا تھا۔ | |
مرا بہ فکرِ لبت کرد غنچۂ گرداب | نفس نفس بہ لبِ بحر بوسہ دادنِ موج |
ترجمہ بھنور کی کلی نے اور دریا کے لب پر موج کے دم بہ دم بوسے دینے نے مجھے تیرے لب کے خیال میں ڈال دیا۔ | |
ز بیقراریٔ ما فارغ است خاطرِ یار | دلِ گہر چہ خبر دارد از تپیدنِ موج |
ترجمہ یار کا دل ہماری بے قراری سے بے فکر ہے، موتی کا دل موج کے تڑپنے کی کیا خبر رکھتا ہے۔ | |
بہ بحرِ عشق کہ را تابِ گردن افرازیست | ہمین شکستگیی ہست پیش بردنِ موج |
ترجمہ عشق کے سمندر میں کسے گردن اٹھانے کی تاب ہے، موج کی پیش قدمی بس یہی ایک شکستگی ہے۔ | |
ز بیدلان مشو ایمن کہ تیرِ آہِ حباب | بہ یک نفس گذرد از ہزار جوشنِ موج |
ترجمہ بے دلوں سے بے خوف نہ ہو، کہ حباب کی آہ کا تیر ایک سانس میں موج کی ہزار زرہوں سے گزر جاتا ہے۔ | |
توان بہ ضبطِ نفس معنیٔ دل انشا کرد | حباب شیشہ نہفتہ ست در شکستنِ موج |
ترجمہ سانس کے ضبط سے دل کا معنی تحریر کیا جا سکتا ہے، حباب نے موج کے ٹوٹنے میں شیشہ چھپا رکھا ہے۔ | |
چو گوہر از دمِ تسلیم کن سپر بیدل | درین محیط کہ تیغ است سرکشیدنِ موج |
ترجمہ بیدل، موتی کی طرح تسلیم کے دم کو ڈھال بنا، کہ اس سمندر میں موج کا سر اٹھانا تلوار ہے۔ | |
