اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

بہ عبرت آب شو ای غافل از خمیدن موج

بہ عبرت آب شو ای غافل از خمیدنِ موج

کہ خودسری چقدر گشتہ بارِ گردنِ موج

ترجمہ اے غافل، موج کے جھکنے سے عبرت لے کر پانی ہو جا، کہ خودسری موج کی گردن پر کتنا بوجھ بن گئی ہے۔

درین محیط کہ دارد اقامت آرایی

کشیدہ است ہجومِ شکست دامنِ موج

ترجمہ اس سمندر میں جہاں قیام کی آرائش کا کسے یارا ہے، شکست کے ہجوم نے موج کا دامن کھینچ رکھا ہے۔

عنان ز چنگِ ہوس وا ستان کہ بر رخِ بحر

ہواست باعثِ شمشیر برکشیدنِ موج

ترجمہ ہوس کے پنجے سے باگ واپس لے لے، کہ سمندر کے چہرے پر موج کے تلوار کھینچنے کا سبب ہوا ہی ہے۔

بہ عجز ساز و طرب کن کہ در محیطِ نیاز

شکستگی ست لباسِ حریر بر تنِ موج

ترجمہ عجز سے نبھا اور شاد رہ، کہ نیاز کے سمندر میں موج کے بدن پر شکستگی ہی ریشمی لباس ہے۔

غبارِ شکوہ ز روشندلان نمی جوشد

در آبِ چشمۂ آیینہ نیست شیونِ موج

ترجمہ روشن دلوں سے شکوے کا غبار نہیں اٹھتا، آئینے کے چشمے کے پانی میں موج کا شیون نہیں ہوتا۔

نکرد الفتِ مژگان علاجِ وحشتِ اشک

بہ مشتِ خس کہ تواند گرفت دامنِ موج

ترجمہ پلکوں کی الفت نے آنسو کی وحشت کا علاج نہ کیا، مٹھی بھر تنکوں سے موج کا دامن کون پکڑ سکتا ہے۔

سراغِ عمر ز گردِ رمِ نفس کردیم

محیط بود تحیر عنانِ رفتنِ موج

ترجمہ ہم نے سانس کے بھاگنے کی گرد سے عمر کا سراغ لگایا، موج کے جانے کی باگ کو حیرت نے گھیر رکھا تھا۔

مرا بہ فکرِ لبت کرد غنچۂ گرداب

نفس نفس بہ لبِ بحر بوسہ دادنِ موج

ترجمہ بھنور کی کلی نے اور دریا کے لب پر موج کے دم بہ دم بوسے دینے نے مجھے تیرے لب کے خیال میں ڈال دیا۔

ز بیقراریٔ ما فارغ است خاطرِ یار

دلِ گہر چہ خبر دارد از تپیدنِ موج

ترجمہ یار کا دل ہماری بے قراری سے بے فکر ہے، موتی کا دل موج کے تڑپنے کی کیا خبر رکھتا ہے۔

بہ بحرِ عشق کہ را تابِ گردن افرازیست

ہمین شکستگیی ہست پیش بردنِ موج

ترجمہ عشق کے سمندر میں کسے گردن اٹھانے کی تاب ہے، موج کی پیش قدمی بس یہی ایک شکستگی ہے۔

ز بیدلان مشو ایمن کہ تیرِ آہِ حباب

بہ یک نفس گذرد از ہزار جوشنِ موج

ترجمہ بے دلوں سے بے خوف نہ ہو، کہ حباب کی آہ کا تیر ایک سانس میں موج کی ہزار زرہوں سے گزر جاتا ہے۔

توان بہ ضبطِ نفس معنیٔ دل انشا کرد

حباب شیشہ نہفتہ ست در شکستنِ موج

ترجمہ سانس کے ضبط سے دل کا معنی تحریر کیا جا سکتا ہے، حباب نے موج کے ٹوٹنے میں شیشہ چھپا رکھا ہے۔

چو گوہر از دمِ تسلیم کن سپر بیدل

درین محیط کہ تیغ است سرکشیدنِ موج

ترجمہ بیدل، موتی کی طرح تسلیم کے دم کو ڈھال بنا، کہ اس سمندر میں موج کا سر اٹھانا تلوار ہے۔