اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

بہ عجز کوش ز نشو و نما چہ می جویی

بہ عجز کوش ز نشو و نما چہ می جویی

بہ خاک ریشۂ توست از ہوا چہ می جویی

ترجمہ عاجزی کی کوشش کر، نشو و نما میں کیا ڈھونڈتا ہے؛ تیری جڑ خاک میں ہے، ہوا میں کیا تلاش کرتا ہے۔

دلِ گداختہ اکسیرِ بی نیازی ہاست

گدازِ درد طلب کیمیا چہ می جویی

ترجمہ پگھلا ہوا دل بے نیازیوں کا اکسیر ہے؛ درد کا گداز طلب کر، کیمیا کیا ڈھونڈتا ہے۔

سراغِ قافلۂ عمر سخت ناپیداست

ز رہگذارِ نفس نقشِ پا چہ می جویی

ترجمہ عمر کے قافلے کا سراغ سخت ناپید ہے؛ سانس کی راہ گزر میں نقشِ پا کیا ڈھونڈتا ہے۔

بہ ہر چہ طرف کنندت رضا غنیمت دان

ز کارگاہِ فنا و بقا چہ می جویی

ترجمہ جس چیز سے بھی تیرا سامنا کرائیں، رضا کو غنیمت جان؛ فنا و بقا کے کارخانے سے کیا ڈھونڈتا ہے۔

بہ فکرِ خلق متن ہرزہ سعیٔ جہل مباش

محیط ناشدہ زین موج ہا چہ می جویی

ترجمہ خلق کی فکر میں نہ اینٹھ، جہالت کی بیہودہ کوشش نہ بن؛ سمندر بنے بغیر ان موجوں سے کیا ڈھونڈتا ہے۔

محیطِ شرم بقدرِ عرق گہر دارد

ہنوز آب نہ ای از حیا چہ می جویی

ترجمہ شرم کا سمندر پسینے کے اندازے سے موتی رکھتا ہے؛ تو ابھی پانی پانی نہیں ہوا، حیا سے کیا ڈھونڈتا ہے۔

بہ دام گاہِ جسد پرفشانیٔ انفاس

اشارہ ای ست کزین تنگنا چہ می جویی

ترجمہ جسم کے دام گاہ میں سانسوں کی پر افشانی ایک اشارہ ہے کہ اس تنگنائے سے کیا ڈھونڈتا ہے۔

ہزار سال رہ اینجا نیازِ یک قدم است

ز خود برآی ز فکر رسا چہ می جویی

ترجمہ یہاں ہزار سال کی راہ ایک قدم کی نذر ہے؛ اپنے آپ سے باہر آ، رسا فکر سے کیا ڈھونڈتا ہے۔

زبانِ حیرتِ آیینہ این نوا دارد

کہ ای جنون زدہ خود را ز ما چہ می جویی

ترجمہ آئینے کی حیرت کی زبان یہ نوا رکھتی ہے کہ اے جنون زدہ! تو اپنے آپ کو ہم میں کیا ڈھونڈتا ہے۔

بہ ذوقِ دل نفسی طوفِ خویش کن بیدل

تو کعبہ در بغلی جابجا چہ می جویی

ترجمہ بیدل! دل کے ذوق سے ایک لمحہ اپنا ہی طواف کر؛ کعبہ تو تیری بغل میں ہے، جگہ جگہ کیا ڈھونڈتا ہے۔