بہ عجز کوش ز نشو و نما چہ می جویی | بہ خاک ریشۂ توست از ہوا چہ می جویی |
ترجمہ عاجزی کی کوشش کر، نشو و نما میں کیا ڈھونڈتا ہے؛ تیری جڑ خاک میں ہے، ہوا میں کیا تلاش کرتا ہے۔ | |
دلِ گداختہ اکسیرِ بی نیازی ہاست | گدازِ درد طلب کیمیا چہ می جویی |
ترجمہ پگھلا ہوا دل بے نیازیوں کا اکسیر ہے؛ درد کا گداز طلب کر، کیمیا کیا ڈھونڈتا ہے۔ | |
سراغِ قافلۂ عمر سخت ناپیداست | ز رہگذارِ نفس نقشِ پا چہ می جویی |
ترجمہ عمر کے قافلے کا سراغ سخت ناپید ہے؛ سانس کی راہ گزر میں نقشِ پا کیا ڈھونڈتا ہے۔ | |
بہ ہر چہ طرف کنندت رضا غنیمت دان | ز کارگاہِ فنا و بقا چہ می جویی |
ترجمہ جس چیز سے بھی تیرا سامنا کرائیں، رضا کو غنیمت جان؛ فنا و بقا کے کارخانے سے کیا ڈھونڈتا ہے۔ | |
بہ فکرِ خلق متن ہرزہ سعیٔ جہل مباش | محیط ناشدہ زین موج ہا چہ می جویی |
ترجمہ خلق کی فکر میں نہ اینٹھ، جہالت کی بیہودہ کوشش نہ بن؛ سمندر بنے بغیر ان موجوں سے کیا ڈھونڈتا ہے۔ | |
محیطِ شرم بقدرِ عرق گہر دارد | ہنوز آب نہ ای از حیا چہ می جویی |
ترجمہ شرم کا سمندر پسینے کے اندازے سے موتی رکھتا ہے؛ تو ابھی پانی پانی نہیں ہوا، حیا سے کیا ڈھونڈتا ہے۔ | |
بہ دام گاہِ جسد پرفشانیٔ انفاس | اشارہ ای ست کزین تنگنا چہ می جویی |
ترجمہ جسم کے دام گاہ میں سانسوں کی پر افشانی ایک اشارہ ہے کہ اس تنگنائے سے کیا ڈھونڈتا ہے۔ | |
ہزار سال رہ اینجا نیازِ یک قدم است | ز خود برآی ز فکر رسا چہ می جویی |
ترجمہ یہاں ہزار سال کی راہ ایک قدم کی نذر ہے؛ اپنے آپ سے باہر آ، رسا فکر سے کیا ڈھونڈتا ہے۔ | |
زبانِ حیرتِ آیینہ این نوا دارد | کہ ای جنون زدہ خود را ز ما چہ می جویی |
ترجمہ آئینے کی حیرت کی زبان یہ نوا رکھتی ہے کہ اے جنون زدہ! تو اپنے آپ کو ہم میں کیا ڈھونڈتا ہے۔ | |
بہ ذوقِ دل نفسی طوفِ خویش کن بیدل | تو کعبہ در بغلی جابجا چہ می جویی |
ترجمہ بیدل! دل کے ذوق سے ایک لمحہ اپنا ہی طواف کر؛ کعبہ تو تیری بغل میں ہے، جگہ جگہ کیا ڈھونڈتا ہے۔ | |
