اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

بہ ارشاد ادب در دستگاہ خودسران مگذر

بہ ارشادِ ادب در دستگاہِ خودسران مگذر

دہل نابستہ بر لب در صفِ واعظ گران مگذر

ترجمہ ادب سکھانے کے لیے خودسروں کی بارگاہ سے نہ گزر؛ لب پر ڈھول باندھے بغیر گراں بار واعظوں کی صف سے نہ گزر۔

بہ تحسینِ خسیسان ہیچ نفرینی نمی باشد

بہ روی تیغ بگذر بر لبِ بی جوہران مگذر

ترجمہ کمینوں کی تحسین سے بڑھ کر کوئی لعنت نہیں؛ تلوار کی دھار پر سے گزر جا مگر بے جوہروں کے لب پر سے نہ گزر۔

دو عالم ننگ دارد یک قدم لغزش بہ خود بستن

چو خطِ امتحان بر جادۂ کج مسطران مگذر

ترجمہ ایک قدم کی لغزش اپنے ذمے لینا دو عالم کی رسوائی ہے؛ آزمائشی لکیر کی طرح ٹیڑھے مسطر والوں کی راہ پر نہ گزر۔

تہی شو از خود و راحت شمر آفاتِ دنیا را

گر این کشتی نداری از محیطِ بیکران مگذر

ترجمہ خود سے خالی ہو جا اور دنیا کی آفتوں کو راحت سمجھ؛ اگر تیرے پاس یہ کشتی نہیں تو بے کنار سمندر سے پار نہ اتر۔

مروت نیست ای منعم ز درویشان تبرایت

بہ شکرِ فربہی از پہلوی این لاغران مگذر

ترجمہ اے دولت مند، درویشوں سے تیرا کنارہ کش ہونا مروت نہیں؛ اپنی فربہی کے شکرانے میں ان دبلوں کے پہلو سے بے اعتنا نہ گزر۔

بہ خوانِ نعمتِ اہلِ دول ننگ است خو کردن

اگر آدم سرشتی در چراگاہِ خران مگذر

ترجمہ دولت والوں کے دسترخوانِ نعمت کا عادی ہونا ننگ ہے؛ اگر تیری سرشت آدمی کی ہے تو گدھوں کی چراگاہ سے نہ گزر۔

سراغِ عافیت از خلق بیرون تازیی دارد

بہ ہرسو بگذری زین دشت و در جز بر کران مگذر

ترجمہ عافیت کا سراغ خلق سے باہر نکل جانے میں ہے؛ اس دشت و در میں جدھر بھی جائے، کنارے کے سوا کہیں سے نہ گزر۔

تامل در طریقِ عشق دارد محملِ خجلت

بہ ہر راہی کہ می باید گذشت از خود گران مگذر

ترجمہ عشق کی راہ میں تامل شرمندگی کا محمل رکھتا ہے؛ جس راہ سے بھی گزرنا ہو، خود سے بوجھل ہو کر نہ گزر۔

تجردپیشہ را نامِ تعلق می گزد بیدل

مسیحا گر نہ ای از کوچۂ سوزن گران مگذر

ترجمہ بیدل، تجرد اختیار کرنے والے کو تعلق کا نام بھی ڈستا ہے؛ اگر تو مسیحا نہیں تو سوئی کے کوچے سے بوجھل ہو کر نہ گزر۔