بہ کنج زانوی تسلیم طرح امن انداز | در آب آینہ موجیست بی نشیب و فراز |
ترجمہ گوشۂ زانوئے تسلیم میں امن کی بنیاد ڈال، آئینے کے پانی میں ایک ایسی لہر ہے جس میں کوئی اتار چڑھاؤ نہیں۔ | |
بہ پردۂ تو ز ساز عدم نوایی ہست | کہ ہر نفس زدنت سرمہ می دہد آواز |
ترجمہ تیرے پردے میں سازِ عدم سے ایک ایسی نوا ہے کہ تیرا ہر سانس لینا آواز کو سُرمہ عطا کرتا ہے (یعنی جلا بخشتا ہے)۔ | |
در این ہوسکدہ جہدی کہ بی نشان گردی | بس است آینہ ات را ہمین قدر پرداز |
ترجمہ اس ہوس کدے میں یہ کوشش کر کہ تو بے نشان ہو جائے، تیرے آئینے کے لیے اتنی ہی صفائی اور جِلا کافی ہے۔ | |
گذشت فرصت و دل وانشد کسی چہ کند | گشاد عقدۂ بی رشتہ گسستہ است دراز |
ترجمہ فرصت گزر گئی اور دل نہ کُھلا، کوئی کیا کرے؟ بغیر دھاگے کے ٹوٹی ہوئی گرہ کا کھلنا بہت طویل (مشکل) ہوتا ہے۔ | |
غبار ما چو سحر سینہ چاک می گذرد | کہ سر بہ سجدہ نبردیم و رفت وقت نماز |
ترجمہ ہمارا غبار صبح کی طرح سینہ چاک کرتا ہوا گزرتا ہے، کیونکہ ہم نے سر سجدے میں نہیں رکھا اور نماز کا وقت چلا گیا۔ | |
چو غنچہ پردہ در رنگ و بو خودآرایی ست | اگر تو گل نکنی نیست ہیچ کس غماز |
ترجمہ کلی کی طرح رنگ و بو کے پردے میں خود آرائی ہے، اگر تو پھول بن کر نہ کھلے تو کوئی بھی بھید کھولنے والا نہیں ہے۔ | |
ز جیب و دامن خویشت اگر خبر باشد | بلند و پست تویی سر بہ ہیچ جا مفراز |
ترجمہ اگر تجھے اپنے گریبان اور دامن کی خبر ہو تو بلندی اور پستی تو خود ہی ہے، اپنا سر کہیں بھی بلند مت کر۔ | |
بہ ملک عشق ندارد تفاوت اقبال | کلہ شکستن محمود و چین زلف ایاز |
ترجمہ عشق کی سلطنت میں کوئی فرق نہیں، محمود کا تاج توڑنا اور ایاز کی زلف کا بل، دونوں برابر ہیں۔ | |
فضای دشت و در آیینہ خانہ است ای صبح | تبسمی کن و بر صنعت بہار بناز |
ترجمہ اے صبح! دشت و در کی فضا ایک آئینہ خانہ ہے، ایک تبسم کر اور بہار کی صناعی پر ناز کر۔ | |
نسیم کوی فنا مژدۂ چہ عافیت است | کہ می رود شرر کاغذ این قدر گلباز |
ترجمہ کوئے فنا کی ہوا کس عافیت کی خوشخبری ہے کہ کاغذ کی چنگاری اس قدر پھول بکھیرتی ہوئی جا رہی ہے؟ | |
اگر دماغ ہوس ذوق خودسری دارد | بس است چون پر رنگت شکستگی پرواز |
ترجمہ اگر ہوس کا دماغ خود سری کا ذوق رکھتا ہے، تو تیرے رنگین پر کی طرح شکستگی ہی اس کی پرواز کے لیے کافی ہے۔ | |
فغان کہ شمع صفت زین بہار نومیدی | ندید کس گل انجام بر سر آغاز |
ترجمہ افسوس کہ شمع کی طرح، اس ناامیدی کی بہار میں کسی نے بھی آغاز کے سرے پر انجام کا پھول نہیں دیکھا۔ | |
بہ ہرچہ وانگری عالم گرفتاری است | ز دام و دانہ مگو عمر زلف یار دراز |
ترجمہ جس طرف بھی دیکھو، گرفتاری کا عالم ہے؛ دام اور دانے کی بات مت کرو، یار کی زلف کی عمر دراز ہو۔ | |
چہ لمعہ داشت فروغ جمال او بیدل | کہ ہرکجا نگہی بود کرد با مژہ ساز |
ترجمہ اے بیدل! اس کے جمال کی روشنی میں کیا چمک تھی کہ جہاں کہیں کوئی نگاہ تھی، اس نے پلکوں سے ساز باز کر لی (یعنی اسیر ہو گئی)۔ | |
