بہ ناقوسی دل امشب از جنون خوردہ ست پہلویی | بر این نُہ دیر آتش می زنم سر می دہم ہویی |
ترجمہ آج رات جنون میں دل کسی ناقوس سے پہلو ٹکرا بیٹھا ہے؛ میں ان نو دَیروں (آسمانوں) کو آگ لگاتا ہوں اور ایک نعرۂ ہُو بلند کرتا ہوں۔ | |
ز فیضِ وحشتم ہمسایۂ جمعیتِ عنقا | چو دل دارم بہ پہلو گوشہ ای از عالم آنسویی |
ترجمہ وحشت کے فیض سے میں عنقا کی جمعیت کا ہمسایہ ہوں؛ دل کی طرح پہلو میں اُس پار کی دنیا کا ایک گوشہ رکھتا ہوں۔ | |
بہ ہر بی دست و پایی سیرِ گلزاری دگر دارم | سرشکی رفتہ ام از خویش اما تا سرِ کویی |
ترجمہ ہر بے دست و پائی میں میں ایک اور گلزار کی سیر رکھتا ہوں؛ آنسو کی طرح اپنے آپ سے گیا ہوں مگر کسی کوچے کے سرے تک۔ | |
بساطِ خاک عرضِ دستگاہم برنمی دارد | چو ماہِ نو بہ گردونم اگر بالم سرِ مویی |
ترجمہ خاک کی بساط میری وسعت کا بیان نہیں اٹھا سکتی؛ اگر میں بال برابر بھی بڑھوں تو نئے چاند کی طرح آسمان پر ہوں۔ | |
محیطِ ناز کانجا زورقِ دلہاست توفانی | حبابش گردشِ چشم است و موجِ ایمای ابرویی |
ترجمہ ناز کا وہ سمندر جہاں دلوں کی کشتی طوفانی ہے، اس کا بلبلہ آنکھ کی گردش ہے اور اس کی موج کسی ابرو کا اشارہ۔ | |
خمِ ہر سطرِ سنبل صد جنون آشفتگی دارد | درین گلشن مگر واکردہ ای طومارِ گیسویی |
ترجمہ سنبل کی ہر سطر کا خم سو جنون کی آشفتگی رکھتا ہے؛ شاید تو نے اس گلشن میں کسی گیسو کا طومار کھول دیا ہے۔ | |
ختن می گردد از نافِ غزالان کاسہ ہا برکف | سزد کز زلفِ مشکینت کند دریوزۂ بویی |
ترجمہ ختن ہرنوں کی نافوں سے پیالے ہاتھ میں لیے پھرتا ہے؛ بجا ہے کہ وہ تیری مشکیں زلف سے ایک خوشبو کی بھیک مانگے۔ | |
سری داریم الفت نشئۂ سودای فرمانت | بہ جولانگاہِ تسلیم از تو چوگانہا ز ما گویی |
ترجمہ ہم ایک سر رکھتے ہیں جو تیرے حکم کے سودا کے نشے سے مانوس ہے؛ تسلیم کے میدان میں تیری طرف سے چوگان ہوں اور ہماری طرف سے گیند۔ | |
نوای عندلیبان نکہتِ گل شد در این صحرا | مگر مینا بہ قلقل واکشد حرف از لبِ جویی |
ترجمہ اس صحرا میں بلبلوں کی نوا پھول کی خوشبو بن گئی؛ شاید مینا اپنی قلقل سے کسی ندی کے لب سے بات کھینچ لائے۔ | |
ز منزل نیست بیرون ہر چہ می بینی درین صحرا | تو بنما جادہ تا من ہم دہم عرضِ تک و پویی |
ترجمہ اس صحرا میں جو کچھ تو دیکھتا ہے منزل سے باہر نہیں؛ تو راستہ دکھا تاکہ میں بھی کچھ دوڑ دھوپ کا مظاہرہ کروں۔ | |
شعور آیینۂ بیطاقتی ترسم کند روشن | بہ خاکِ بیخودی دارد غبارم سر بہ زانویی |
ترجمہ مجھے ڈر ہے کہ شعور بے طاقتی کے آئینے کو روشن کر دے گا؛ بے خودی کی خاک میں میری گرد زانو پر سر رکھے بیٹھی ہے۔ | |
بہ یک عالم ترشرو کارم افتادہ ست و ممنونم | شکستِ رنگِ صفرای طمع می خواست لیمویی |
ترجمہ میرا واسطہ ایک ترش رو دنیا سے پڑا ہے اور میں ممنون ہوں؛ طمع کے صفرا کا رنگ توڑنے کے لیے ایک لیموں ہی درکار تھا۔ | |
ز خوابِ بیخودی مشکل کہ بردارم سرِ مژگان | بہ زیرِ سایہ ام دارد نہالِ نازِ خودرویی |
ترجمہ بے خودی کی نیند سے پلکوں کا سرا اٹھانا مشکل ہے؛ ایک خود رو ناز کا پودا مجھے اپنے سائے تلے رکھے ہوئے ہے۔ | |
بہ خاکِ عاجزی چون بوریا سرکردہ ام بیدل | مگر زین رہ نشانم نقشِ آرامی بہ پہلویی |
ترجمہ بیدل! میں نے بوریے کی طرح عاجزی کی خاک پر سر رکھ دیا ہے، شاید اسی راہ سے کسی پہلو پر آرام کا نقش بٹھا سکوں۔ | |
