بہ رنگِ غنچہ سودای خطت پیچیدہ دلہا را | رگِ گل رشتۂ شیرازہ شد جمعیتِ ما را |
ترجمہ تیرے خط کے سودا نے کلی کی طرح دلوں کو لپیٹ دیا ہے؛ پھول کی رگ ہماری جمعیت کے شیرازے کا دھاگا بن گئی۔ | |
خرامت بالِ شوقم داد در پروازِ حیرانی | کہ چون قمری قدح در چشم دارم سروِ مینا را |
ترجمہ تیری خرام نے حیرت کی پرواز میں میرے شوق کو پر دیے، کہ قمری کی طرح میں صراحی کے سرو کو آنکھ میں پیالہ لیے دیکھتا ہوں۔ | |
نگہ شد شمعِ فانوسِ خیال از چشم پوشیدن | فنا مشکل کہ از عاشق برد ذوقِ تماشا را |
ترجمہ آنکھ بند کر لینے سے نگاہ خیال کے فانوس کی شمع بن گئی؛ مشکل ہے کہ فنا عاشق سے تماشے کا ذوق چھین لے۔ | |
درین محفل سراغِ گوشۂ امنی نمی یابم | چو شمع آخر گریبان می کنم نقشِ کفِ پا را |
ترجمہ اس محفل میں امن کے کسی گوشے کا سراغ نہیں پاتا؛ شمع کی طرح آخر تلوے کے نقش ہی کو گریبان بنا لیتا ہوں۔ | |
کفِ خاکی ندارم قابلِ تعمیرِ خودداری | جنون افشاند بر ویرانہ ام دامانِ صحرا را |
ترجمہ میرے پاس خودداری کی تعمیر کے قابل مٹھی بھر خاک بھی نہیں؛ جنون نے میرے ویرانے پر صحرا کا دامن جھاڑ دیا۔ | |
بہ غیر از نیستی لوحِ عدم نقشی نمی بندد | اگر خواہی نگردی جلوہ گر آیینہ کن ما را |
ترجمہ عدم کی لوح نیستی کے سوا کوئی نقش نہیں باندھتی؛ اگر چاہتا ہے کہ جلوہ گر نہ ہو تو ہمیں آئینہ بنا لے۔ | |
ندارد حالِ ما اندیشۂ مستقبلِ دیگر | کہ گم کردیم در آغوشِ دی امروز و فردا را |
ترجمہ ہمارا حال کسی اور مستقبل کی فکر نہیں رکھتا، کہ ہم نے آج اور کل دونوں کو گزرے ہوئے کل کی آغوش میں گم کر دیا۔ | |
نہ از موجِ نسیم است اینقدرہا جوشِ بیتابی | تبِ شوقِ کسی در رقص دارد نبضِ دریا را |
ترجمہ بے تابی کا اتنا جوش نسیم کی موج سے نہیں؛ کسی کے شوق کی تپش نے دریا کی نبض کو رقص میں ڈال رکھا ہے۔ | |
خموشی غیرِ افسردن چہ گل ریزد بہ دامانت | اگر آزادہ ای با نالہ کن پیوندِ اعضا را |
ترجمہ خاموشی افسردگی کے سوا تیرے دامن میں کیا پھول برسائے گی؛ اگر آزاد ہے تو اپنے اعضا کا رشتہ نالے سے جوڑ دے۔ | |
اقامت تہمتی در محفلِ کم فرصتِ ہستی | چو عکس از خانۂ آیینہ بیرون گرم کن جا را |
ترجمہ ہستی کی کم فرصت محفل میں ٹھہرنا ایک تہمت ہے؛ عکس کی طرح آئینے کے گھر سے باہر ہی اپنی جگہ گرم کر۔ | |
مآلِ شعلہ ہم داغ است گر آسودگی خواہی | بہ صد گردن مدہ از کف جبینِ سجدہ فرسا را |
ترجمہ شعلے کا انجام بھی داغ ہی ہے؛ اگر آسودگی چاہتا ہے تو سجدوں سے گھسی ہوئی پیشانی کو سو گردنوں کے بدلے بھی ہاتھ سے نہ دے۔ | |
نشانہا نیست غیر از نام آن ہم تا بی بیدل | جہانی دیدہ ای بشمار نقشِ بالِ عنقا را |
ترجمہ بیدل، نام کے سوا کوئی نشان نہیں، اور وہ بھی کب تک؛ تو نے ایک جہان دیکھا ہے، ذرا عنقا کے پر کے نقش گن کر دکھا۔ | |
