اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

بحثِ ناسخ و منسوخ

(’’از آخری مضامینِ سرسید‘‘)

ہم کو ہمارے ایک دوست نے اطلاع دی ہے کہ ہم نے اپنی تفسیر کی پہلی جلد میں جہاں ناسخ و منسوخ کی بحث کی ہے، امام فخرالدین رازی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ آیت مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِھَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَا اَوْ مِثْلِھَا1 سے قرآنِ مجید میں ناسخ و منسوخ ہونا ثابت نہیں ہوتا، بلکہ دو آیتیں اور ہیں، ان سے ثابت ہوتا ہے۔ پہلی آیت تو یَمْحُوْ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ وَ عِنْدَہٗ اُمُّ الْکِتَابِ‘‘ ہے، دوسری آیت ’’اِذَا بَدَّلْنَا اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ‘‘ ہے اور ہم نے لکھا تھا کہ ان دونوں آیتوں سے بھی قرآنِ مجید میں ناسخ و منسوخ ہونا ثابت نہیں ہوتا اور وعدہ کیا تھا کہ ان دونوں آیتوں کی تفسیر میں اس کو بیان کریں گے، مگر سورۂ رعد اور سورۂ نحل میں جہاں ان آیتوں پر بحث کرنے کا موقع تھا، ہم بحث کرنی بھول گئے اور اس لئے اب ان پر بحث کرتے ہیں۔

پہلی آیت سورۂ رعد کی ہے۔ اس میں خدا فرماتا ہے کہ:

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّیَّۃً وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ یَمْحُو اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَہٗ اُمُّ الْکِتَابِ۔

بیشک ہم نے تجھ سے پہلے رسول بھیجے ہیں اور ان کو بیبیاں اور اولاد دی ہے اور کسی رسول کے شایانِ شان نہیں کہ بغیر حکمِ خدا کوئی حکم لے آئے اور ہر چیز کا آخری وقت لکھا ہوا، یعنی مقرر ہے۔ خدا جو چاہے مٹائے اور جو چاہے قائم رکھے اور اس کے پاس اصل کتاب ہے۔

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ جو کچھ اس آیت میں بیان ہوا ہے، وہ انبیائے سابق کی شریعت سے متعلق ہے۔ قرآنِ مجید کی آیتوں سے نتیجہ اس تمام آیت کا یہ ہے کہ انبیائے سابق کی شریعت میں سے جن احکام کو خدا چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور جن احکام کو چاہتا ہے، اٹھا دیتا ہے اور اس آیت سے کسی طرح سے یہ بات نہیں نکلتی کہ قرآنِ مجید کی ایک آیت دوسری آیت سے منسوخ ہو جاتی ہے۔ پس یہ آیت قرآنِ مجید میں ناسخ و منسوخ ہونے پر کسی طرح دلالت نہیں کرتی، مگر یہ بحث باقی رہتی ہے کہ ام الکتاب کیا چیز ہے اور اگر ام الکتاب سے لوحِ محفوظ مراد لی جائے، تو لوحِ محفوظ کیا چیز ہے۔ یہ ایک بہت بڑی بحث ہے جس کو ہم اپنی تصنیفات میں متعدد جگہ لکھ چکے ہیں مگر اس مقام میں اس کی بحث سے کچھ تعلق نہیں، بلکہ صرف یہ بات ثابت کرنی تھی کہ ’’یمحو اللہ ما یشاء ویثبت‘‘ سے مقصود ہونا یا ثابت رہنا احکامِ شریعتِ انبیائے سابق کا ہے، نہ محو ہونا یا ثابت رہنا قرآنِ مجید کی آیتوں کا، اس لئے ہم اسی قدر بیان پر اکتفا کرتے ہیں۔

دوسری آیت سورۂ نحل کی ہے جس میں خدا فرماتا ہے کہ:

وَاِذَا بَدَّلْنَا اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ وَّاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْا اِنَّمَا اَنْتَ مُفْتَرٍ بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔

جب ہم ایک حکم کی جگہ دوسرا حکم بدلتے ہیں اور خدا جو حکم نازل کرتا ہے اس کو خوب جانتا ہے، تو کہتے ہیں کہ تو افترا ہی کرنے والا ہے حالانکہ ان میں کے بہت سے نہیں جانتے۔

اس آیت کی نسبت سوال یہ ہے کہ قَالُوْا سے کون لوگ مراد ہیں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ قَالُوْا کی ضمیر سے کفارِ مکہ مراد ہیں، مگر یہ صحیح نہیں ہو سکتا، اس واسطے کہ کفارِ مکہ نہ اس پہلی آیت کو جو بدلی گئی، منزل من اللہ جانتے تھے اور نہ اس دوسری آیت کو جس نے پہلی آیت کو بدلا، منزل من اللہ سمجھتے تھے۔

بلکہ یہود و نصاریٰ جو ان احکامِ قرآنِ مجید کو جو برخلاف احکامِ سابق توریت و انجیل کے تھے، پیغمبر کا افترا سمجھتے تھے۔ پس قَالُوْا کی ضمیر انہیں یہود و نصاریٰ کی طرف پھرتی ہے، نہ عام کفار کی طرف جو عموماً بت پرست تھے اور وہ نہ احکامِ سابق کو مانتے نہ احکامِ لاحق کو۔ پس صاف ظاہر ہے کہ بَدَّلْنَا اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ سے تبدیلِ شرائعِ انبیائے سابق مراد ہے، نہ تبدیلِ آیتِ قرآنی کی دوسری آیت ہے۔

تفسیرِ کبیر میں بھی ابو مسلم اصفہانی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اس آیت میں شرائعِ سابقِ انبیاء کا تبدیل ہونا مراد ہے، نہ قرآنِ مجید کے احکام میں ایک سے دوسرے کا منسوخ ہونا اور امام صاحب نے لکھا ہے کہ ابو مسلم اصفہانی برخلاف دیگر مفسرین کے مذہبِ اسلام میں ناسخ و منسوخ کا بالکل قائل نہیں ہے۔

اور اس میں کچھ شک نہیں ہے کہ اگر ان تمام آیتوں کو جن سے مفسرین اور فقہا نے قرآنِ مجید میں ناسخ و منسوخ ہونے کا دعویٰ پیش کیا ہے، مجموعی طور پر سامنے رکھ لیا جائے اور ان پر غور و تعمق کی نظر ڈالی جائے اور ان کے سیاق و سباق کو مدِ نظر رکھا جائے تو ان سے صاف طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ آیتیں شرائعِ سابقۂ انبیاء کے بعض احکام کے تبدیل ہونے سے تعلق رکھتی ہیں، نہ قرآنِ مجید کی آیتوں کے باہم ناسخ و منسوخ ہونے سے اور ہم امید کرتے ہیں کہ جن بزرگوں کے پاس ہماری تفسیر کی پہلی جلد موجود ہے وہ اس بیان کو اس صفحہ کے حاشیہ پر درج فرما لیں گے جہاں ہم نے ناسخ و منسوخ پر بحث کی ہے۔

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 100 تا 103 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔ یہ تحریر کتاب «آخری مضامینِ سر سید» سے ماخوذ ہے۔