اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

بحث و جدل بہ افت جان می کند طرف

بحث و جدل بہ آفتِ جان می کند طرف

سرہا بہ تیغِ فتنہ زبان می کند طرف

ترجمہ بحث و جدل جان کی آفت سے الجھا دیتا ہے؛ زبان سروں کو فتنے کی تلوار کا حریف بنا دیتی ہے۔

طعنِ خسان مقابلِ صدقِ مقالِ توست

اظہارِ راستی بہ سنان می کند طرف

ترجمہ کمینوں کا طعنہ تیری سچی بات کے مقابل آتا ہے؛ سچائی کا اظہار نیزے سے مقابلہ کرواتا ہے۔

از گفت و گو بہ خاک مزن گوہرِ وقار

این موج بحر را بہ کران می کند طرف

ترجمہ گفتگو سے وقار کا موتی خاک پر نہ دے مار؛ یہ موج سمندر کو کنارے سے ٹکرا دیتی ہے۔

تا کی ز چارسوی تعلق خرد کسی

جنسی کہ آتشش بہ دکان می کند طرف

ترجمہ کوئی کب تک تعلق کے بازار سے ایسی جنس خریدے جس کی آگ خود دکان سے الجھ پڑتی ہے؟

تشویشِ خوب و زشت ز آثارِ آگہی ست

آیینہ را صفا بہ جہان می کند طرف

ترجمہ اچھے برے کی تشویش آگہی کے آثار میں سے ہے؛ صفا ہی آئینے کو سارے جہان کا حریف بنا دیتی ہے۔

بد نیست با معاملۂ جاہ ساختن

اما دماغ را بہ خران می کند طرف

ترجمہ جاہ کے معاملے سے نبھا کر لینا برا نہیں، لیکن یہ دماغ کو گدھوں سے الجھا دیتا ہے۔

پیدا اگر نباشی از آفات رستہ ای

با ناوکِ غرور نشان می کند طرف

ترجمہ اگر تو نمایاں نہ ہو تو آفتوں سے بچ گیا؛ غرور کے تیر سے تو نشانہ ہی مقابلہ کرتا ہے۔

تا آتشی بہ دل نزند عشق چون سپند

آداب را بہ نالہ چسان می کند طرف

ترجمہ جب تک عشق دل میں اسپند کی طرح آگ نہ لگائے، وہ آداب کو نالے کا حریف کیسے بنائے؟

ہمدرسِ خلق باش تغافل کمال نیست

ای بی خبر کری بہ فغان می کند طرف

ترجمہ خلق کا ہم سبق بن، تغافل کوئی کمال نہیں؛ اے بے خبر! بہرا پن فریاد سے الجھتا ہے۔

آسان مدان ترددِ روزی کہ چون ہلال

با نُہ سپہر یک لبِ نان می کند طرف

ترجمہ روزی کی دوڑ دھوپ کو آسان نہ سمجھ کہ وہ ہلال کی طرح روٹی کے ایک کنارے کی خاطر نو آسمانوں سے مقابلہ کرتی ہے۔

بیدل غرورِ لاف دلیلِ سبکسری ست

خودسنجی ات بہ سنگِ گران می کند طرف

ترجمہ بیدل! لاف کا غرور سبکسری کی دلیل ہے؛ تیری خود سنجی تجھے بھاری پتھر کے مقابل لا کھڑا کرتی ہے۔