خط (4)
|
باز گلبانگِ پریشان می زنم |
آتشے در عندلیبان می زنم |
|
ترجمہ پھر میں پریشان نغمہ چھیڑتا ہوں، بلبلوں میں آگ لگا دیتا ہوں۔ |
|
|
حجلۂ گل بہرِ من کردند و من |
سر بدیوارِ گلستان می زنم |
|
ترجمہ انہوں نے پھولوں کا حجلہ میرے لیے سجایا، اور میں گلستان کی دیوار سے سر ٹکراتا ہوں۔ |
|
المہدی باللہ،1
حیاک اللہ، دی با کالون صاحب2 برخوردم، از نام و نسب پرسید ہمہ باز گفتم بہ تعظیم تمام پیش آمد و معذرت خواست کہ ارسالِ صحفِ اُردو نگریستن نہ خواہم، دل زدہ بخانہ رسیدم، و از دیوانِ غیب تفاؤل خواستم، این شعر برآمد،
ترجمہ: اللہ تمہیں سلامت رکھے۔ کل کالون صاحب سے ملاقات ہوئی؛ انہوں نے نام و نسب پوچھا، میں نے سب بتا دیا، پوری تعظیم سے پیش آئے اور معذرت کی کہ اردو کے پرچے آئندہ مجھے بھیجنا نہیں چاہتا۔ دل شکستہ گھر پہنچا، اور دیوانِ غیب سے فال چاہی تو یہ شعر نکلا:
ناامیدی را خیر مقدم گفتم و در پسِ زانوے حرمان نشستم، ہمانا در دل خواہی گفت کہ بااینہمہ آزادی بہ بیتے دل بستن، و کاسۂ آرزو بر سرِ یاس شکستن یعنی چہ توان کرد کہ سر بسنگ آمد و فسحتخانۂ دل از تراکمِ افکار تنگ آمد: دو سہ سالے است کہ پائے طلب در دامن کشیدم و بچیزے نرسیدم، عزیزان گویند کہ بغیر از تعلیمِ انگریزی نخواہی بسر برد، این خود چہ حرفیست جمعے را بین کہ ہیچ از انگریزی نخواندہ اند باز بمناصبِ جلیلہ میرسند آخر در تحصیلداری وغیرہ این خود مشروط نیست، فی الجملہ ستیزۂ چرخ و آویزشِ بخت برآنم آورد کہ لختے از عمر بہ بادیہ پیمائی و ہرزہ درائی گذارم، اینک عزمِ سفر کردہ ام می بینم تا چرخ را درین پردہ چہ نیرنگ ہست،
ترجمہ: میں نے ناامیدی کا خیر مقدم کیا اور محرومی کے آگے زانو ٹیک کر بیٹھ گیا۔ یقیناً تم دل میں کہو گے کہ اس ساری آزادی کے باوجود ایک گھر سے دل لگانا اور آرزو کا پیالہ یاس کے سر پر توڑنا، اس کے کیا معنی؟ کیا کیا جائے کہ سر پتھر سے جا لگا اور دل کا کشادہ گھر فکروں کے ہجوم سے تنگ آ گیا: دو تین سال ہوئے کہ طلب کا پاؤں دامن میں کھینچ لیا اور کسی چیز تک نہ پہنچا۔ عزیز کہتے ہیں کہ انگریزی تعلیم کے بغیر گزارا نہ کر سکو گے؛ یہ بھی کیا بات ہے! ایک جماعت کو دیکھو کہ انگریزی کچھ نہیں پڑھی، پھر بھی بڑے بڑے منصبوں تک پہنچتے ہیں؛ آخر تحصیلداری وغیرہ میں یہ شرط تو نہیں۔ غرض آسمان کی ستیزہ کاری اور بخت کی کشاکش نے مجھے اس پر آمادہ کیا کہ عمر کا کچھ حصہ صحرا نوردی اور آوارہ گردی میں گزاروں؛ لو اب سفر کا ارادہ کر لیا ہے، دیکھتا ہوں کہ آسمان کے اس پردے میں کیا نیرنگ ہے۔
والسلام،
ش نعمانی،
خط (5) — 2 فروری 1882ء
عزیزِ من مسٹر مہدی حسن، ابقاک اللہ بقاءً حسناً
ترجمہ: میرے عزیز مسٹر مہدی حسن، اللہ تمہیں اچھی طرح سلامت رکھے۔
تا حال بر دولتکدۂ ڈپٹی محمد کریم اقامت داشتم، دی3 مکانے بہ کرایہ گرفتہ ام مگر چنانکہ می بایست نیست، ازین رو از فکرِ دنیا رمیدہ ام دستِ طلب در آستین کشیدہ،
ترجمہ: اب تک ڈپٹی محمد کریم کے دولت کدے پر مقیم تھا؛ کل ایک مکان کرائے پر لیا ہے، مگر جیسا ہونا چاہیے ویسا نہیں۔ اس لیے طلب کا ہاتھ آستین میں کھینچے ہوئے دنیا کی فکر سے بھاگ نکلا ہوں،
از یکم فروری بہ کالج ہمی روم4، ایف، اے و بی، اے فارسی و انٹرنس و سکنڈ عربی بمن تعلق دارد، سید صاحب ہر چند از کلکتہ درینجا رسیدہ اند مگر چون از زحمتِ سفر گونہ ناسازیِ مزاج دارند، ہنوز بایشان برنخوردہ ام، عزیزی محمد اسحٰق را در صفِ اولین جاے دادہ اند، محیط الدائرہ فرستادن دارد،
