بر ہر گلی دمیدہ ست افسونِ آرزویی | بوی شکستہ رنگی رنگِ پریدہ بویی |
ترجمہ ہر پھول پر کسی آرزو کا افسون پھونکا گیا ہے: کسی ٹوٹے رنگ کی خوشبو، کسی اڑی ہوئی خوشبو کا رنگ۔ | |
ناموسِ ناتوانی افتادہ بر سر ہم | رنگِ شکستہ دارد بر ششجہت غلویی |
ترجمہ ناتوانی کی آبرو ایک دوسرے کے سر پر آ پڑی ہے؛ ٹوٹا ہوا رنگ چھ سمتوں پر غلبہ رکھتا ہے۔ | |
سازی کہ چینیٔ دل نازِ ترنمش داشت | روشن شد آخر کار از پردہ تارِ مویی |
ترجمہ وہ ساز جس کے ترنم پر دل کا چینی برتن ناز کرتا تھا، آخرکار پردے سے ایک بال کی دراڑ بن کر ظاہر ہوا۔ | |
در کاروانِ ہستی یک جنسِ نیستی بود | زین چار سو گزیدیم دکانِ چارسویی |
ترجمہ ہستی کے کارواں میں ایک ہی جنس تھی، نیستی؛ ہم نے ان چار سمتوں میں سے ایک چوراہے کی دکان چن لی۔ | |
تدبیرِ خانمانت در عشق خندہ دارد | کشتی شکستہ آنگہ غمخواریٔ سبویی |
ترجمہ عشق میں تیرے گھر بار کی تدبیر پر ہنسی آتی ہے؛ کشتی ٹوٹ چکی اور پھر ایک گھڑے کی غم خواری! | |
از ہر سری درین بحر نازِ حباب گل کرد | مست شناست اینجا بیمغزیٔ کدویی |
ترجمہ اس سمندر میں ہر سر سے بلبلے کا ناز پھوٹ پڑا؛ یہاں کسی تونبے کی بے مغزی شناوری کی مست ہے۔ | |
تا چشم باز کردیم با تو چہ ساز کردیم | بر ما چو نی ستم کرد آوازی و گلویی |
ترجمہ جونہی ہم نے آنکھ کھولی، تیرے ساتھ کیا ساز چھیڑا؛ بانسری کی طرح ایک آواز اور ایک گلے نے ہم پر ستم ڈھایا۔ | |
چون گرد باد زین دشت صد نخل بی ثمر رست | ما نیز کردہ باشیم بی پا و سر نمویی |
ترجمہ بگولے کی طرح اس صحرا سے سینکڑوں بے ثمر درخت اُگے؛ ہم نے بھی کوئی بے سر و پا نشو و نما کر لی ہوگی۔ | |
جوش و خروشِ عشقیم زیر و بمِ ہوس چیست | ہر پشہ در طنینش دارد نہنگ ہویی |
ترجمہ ہم عشق کا جوش و خروش ہیں، ہوس کا زیر و بم کیا چیز ہے؛ ہر مچھر اپنی بھنبھناہٹ میں ایک نہنگ کا نعرہ رکھتا ہے۔ | |
ہستی ہمان عدم بود، نی کیفی و نہ کم بود | در ہر لب و دہانی من داشتہ ست اویی |
ترجمہ ہستی وہی عدم تھی، نہ کوئی کیفیت تھی نہ کمیت؛ ہر لب و دہن میں ’’میں‘‘ نے ایک ’’وہ‘‘ رکھ چھوڑا ہے۔ | |
در معبدی کہ پاکان از شرم آب گشتند | ما را نخواست غفلت تر دامن وضویی |
ترجمہ اس معبد میں جہاں پاکباز شرم سے پانی پانی ہو گئے، غفلت نے ہم تر دامنوں کو ایک وضو کے لائق بھی نہ سمجھا۔ | |
چون شمع تا رسیدیم در بزمگاہِ قسمت | یاران نشاط بردند ما داغِ شعلہ خویی |
ترجمہ شمع کی طرح جب ہم قسمت کی بزم میں پہنچے تو یار عیش لے گئے اور ہمارے حصے میں شعلہ خوئی کا داغ آیا۔ | |
دل بر چہ داغ مالیم سر بر چہ سنگ ساییم | ما را نمی دہد بار آیینہ پیش رویی |
ترجمہ دل کس داغ پر ملیں، سر کس پتھر پر رگڑیں؛ کوئی آئینہ ہمیں کسی چہرے کے سامنے حاضر ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ | |
بیدل گذشت خلقی مأیوس تشنہ کامی | غیر از نفس درین باغ آبی نداشت جویی |
ترجمہ بیدل! ایک خلقت پیاس سے مایوس ہو کر گزر گئی؛ اس باغ میں کسی ندی میں سانس کے سوا پانی نہ تھا۔ | |
