بر جنون نتوان شد از عقلِ ادب پرور محیط | سعیِ گوہر تا کجاہا تنگ گیرد بر محیط |
ترجمہ ادب پرور عقل کے ذریعے جنون کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا، موتی کی کوشش کہاں تک سمندر کو تنگ کر سکتی ہے۔ | |
غیرِ بیکاری چہ می آید ز دستِ مفلسان | نیست جز بر ناتوانی پیکرِ لاغر محیط |
ترجمہ مفلسوں کے ہاتھ سے بے کاری کے سوا کیا بن آتا ہے، دبلا جسم ناتوانی کے سوا کسی چیز کو نہیں گھیرتا۔ | |
بہرۂ آسایشِ دانا ز گردون روشن است | از حباب و موج دارد بالش و بستر محیط |
ترجمہ دانا کے آرام کا حصہ آسمان سے ظاہر ہے، سمندر کا تکیہ اور بستر حباب اور موج ہی سے ہے۔ | |
صاف طبعان را بہ پستی می نشاند چرخِ دون | با ہمہ روشندلی درد است گوہر در محیط |
ترجمہ کمینہ آسمان صاف طبع لوگوں کو پستی میں بٹھاتا ہے، ساری روشن دلی کے باوجود موتی سمندر میں تلچھٹ ہے۔ | |
کرد دل را پایمالِ آرزو سعیِ نفس | موج آخر از ہوا افتاد غالب بر محیط |
ترجمہ سانس کی کوشش نے دل کو آرزو کا پامال کر دیا، موج آخر ہوا کے زور سے سمندر پر غالب آ گئی۔ | |
ہر کسی را در خورِ اسباب تشویش است و بس | از ہجومِ موج بر خود می کشد لشکر محیط |
ترجمہ ہر شخص کو اس کے اسباب ہی کے مطابق پریشانی ہے اور بس، سمندر موجوں کے ہجوم سے اپنے اوپر لشکر کھینچ لاتا ہے۔ | |
عالمی را می کشی زیرِ نگینِ اعتبار | گر شوی بر آبروی خویش چون گوہر محیط |
ترجمہ اگر تو موتی کی طرح اپنی آبرو کو گھیرے رکھے تو ایک عالم کو اعتبار کے نگین کے نیچے لے آئے۔ | |
قابلِ تحریرِ اشکم نیست طومارِ دگر | صفحہ واری شاید از توفان کند مسطر محیط |
ترجمہ کوئی اور طومار میرے آنسوؤں کی تحریر کے قابل نہیں، شاید سمندر طوفان سے صفحے کی طرح مسطر بنائے۔ | |
عزت و خواری غبارِ ساحلِ تمییزِ ماست | ورنہ از کف فرق نگرفتہ است تا عنبر محیط |
ترجمہ عزت اور خواری ہماری تمیز کے ساحل کا غبار ہیں، ورنہ سمندر نے جھاگ سے عنبر تک کوئی فرق روا نہیں رکھا۔ | |
بی ندامت نیست ہستی ہر قدر بالد نفس | موج تا باقیست دستی می زند بر سر محیط |
ترجمہ سانس جس قدر بھی بڑھے، ہستی ندامت سے خالی نہیں، جب تک موج باقی ہے سمندر اپنے سر پر ہاتھ مارتا رہتا ہے۔ | |
بیدل از وضعِ قناعت بارِ دوشِ کس نی ام | کشتیٔ ما چون صدف گیرد بہ سر کمتر محیط |
ترجمہ بیدل، قناعت کی وضع کے سبب میں کسی کے کندھے کا بوجھ نہیں، سمندر ہماری کشتی کو صدف کی طرح کم ہی سر پر اٹھاتا ہے۔ | |
