بر خیالی چیدہ ایم از دیدہ تا دل انتظار | لیلیٔ این انجمن وہم است و محمل انتظار |
ترجمہ ہم نے آنکھ سے دل تک ایک خیال پر انتظار سجا رکھا ہے؛ اس انجمن کی لیلیٰ وہم ہے اور اس کا محمل انتظار۔ | |
تا دل از امید غافل بود تشویشی نبود | سازِ استغنای ما را کرد باطل انتظار |
ترجمہ جب تک دل امید سے بے خبر تھا کوئی پریشانی نہ تھی؛ انتظار نے ہماری بے نیازی کا ساز بیکار کر دیا۔ | |
ہرکہ را دیدیم فکری آنسوی تحقیق داشت | بیکرانی رفت از این دریای ساحل انتظار |
ترجمہ ہم نے جسے بھی دیکھا وہ تحقیق سے پرے کی کوئی فکر رکھتا تھا؛ ساحل کا انتظار کرنے والے اس دریا سے بے کرانی رخصت ہو گئی۔ | |
از ہوس جز ناامیدی با چہ پردازد کسی | جست وجو آوارہ است و پای در گل انتظار |
ترجمہ ہوس سے ناامیدی کے سوا کوئی کس چیز سے سروکار رکھے؛ جستجو آوارہ ہے اور انتظار کا پاؤں کیچڑ میں دھنسا ہوا ہے۔ | |
نقشِ پا ہر گامت آغوش دگر وا می کند | ای طلب شرمی کہ دارد چشمِ منزل انتظار |
ترجمہ نقشِ پا تیرے ہر قدم پر ایک نئی آغوش کھولتا ہے؛ اے طلب، کچھ شرم کر کہ منزل کی آنکھ بھی تیری منتظر ہے۔ | |
قطرہ ات دریاست گر از وہمِ گوہر بگذری | عالمی را کردہ است از وصل غافل انتظار |
ترجمہ اگر تو گوہر بننے کے وہم سے گزر جائے تو تیرا قطرہ ہی دریا ہے؛ انتظار نے ایک عالم کو وصل سے غافل کر رکھا ہے۔ | |
چشم واکردیم اما فرصتِ دیدار کو | بر شرارِ کاغذِ ما بست محمل انتظار |
ترجمہ ہم نے آنکھ کھولی مگر دیدار کی مہلت کہاں؛ انتظار نے ہمارے کاغذ کے شرار ہی پر اپنا محمل باندھ دیا۔ | |
عمرہا شد از توقع آبیارِ عبرتیم | ریشۂ کشتِ امل خاک است و حاصل انتظار |
ترجمہ مدتیں گزر گئیں کہ ہم توقع کے باعث عبرت کی آبیاری کر رہے ہیں؛ آرزو کی کھیتی کی جڑ خاک ہے اور اس کا حاصل انتظار۔ | |
بر شبستانِ خیال وہم و ظن آتش زنید | شمع خاموش است و می سوزد بہ محفل انتظار |
ترجمہ خیال، وہم اور گمان کی خواب گاہ کو آگ لگا دو؛ شمع بجھی ہوئی ہے اور محفل میں انتظار جل رہا ہے۔ | |
وعدۂ احسان بہ معنی از گدایی نیست کم | از کرم ظلم است اگر خواہد ز سایل انتظار |
ترجمہ احسان کا وعدہ درحقیقت گدائی سے کم نہیں؛ کرم کی طرف سے یہ ظلم ہے کہ وہ سائل سے انتظار چاہے۔ | |
مردہ ایم اما ہمان صبحِ قیامت در نظر | این کفن می پرورد در چشمِ بسمل انتظار |
ترجمہ ہم مر چکے ہیں مگر قیامت کی وہی صبح نظر میں ہے؛ بسمل کی آنکھ میں انتظار یہ کفن پال رہا ہے۔ | |
در محبت آرزو را اعتبارِ دیگر است | این حریفان وصل می خواہند و بیدل انتظار |
ترجمہ محبت میں آرزو کا اعتبار ہی کچھ اور ہے؛ یہ حریف وصل چاہتے ہیں اور بیدل انتظار۔ | |
