بر خود از سازِ شکفتن کی گمان دارد عقیق | در خورِ نامت تبسم در دہان دارد عقیق |
ترجمہ عقیق اپنے بارے میں کھلنے کے سامان کا کب گمان رکھتا ہے، وہ تیرے نام کے شایان منہ میں تبسم رکھتا ہے۔ | |
جای آن دارد کہ باشد بابِ دندانِ طمع | نسبتِ دوری بہ لعلِ دلبران دارد عقیق |
ترجمہ بجا ہے کہ وہ طمع کے دانتوں کے لائق ہو، عقیق دلبروں کے لعل سے دور کی نسبت رکھتا ہے۔ | |
بسکہ بی آب است این صحرای شہرت اعتبار | روز و شب نقشِ نگین زیرِ زبان دارد عقیق |
ترجمہ شہرت و اعتبار کا یہ صحرا اس قدر بے آب ہے کہ عقیق دن رات نگین کا نقش زبان کے نیچے رکھتا ہے۔ | |
سادگی دارالامانِ بی تمیزان بودہ است | حلقہ ہای دام را خاتم گمان دارد عقیق |
ترجمہ سادگی بے تمیزوں کی دارالامان رہی ہے، عقیق جال کے حلقوں کو انگوٹھی سمجھتا ہے۔ | |
عیبِ ما رنگین خیالان معنیٔ باریکِ ماست | عرضِ نقصان تا دہد از رگ زبان دارد عقیق |
ترجمہ ہم رنگین خیالوں کا عیب ہمارا باریک معنی ہے، عقیق اپنا نقص ظاہر کرنے کے لیے رگ سے زبان رکھتا ہے۔ | |
ہر کسی تا خاک گردیدن بہ رنگی بسمل است | خون رنگی در فسردنہا روان دارد عقیق |
ترجمہ ہر شخص خاک ہونے تک کسی نہ کسی رنگ میں بسمل ہے، عقیق اپنی افسردگیوں میں بھی رنگ کا خون رواں رکھتا ہے۔ | |
حرص ہر جا غالب افتد بر جگر دندان فشار | در ہجومِ تشنگی ہا امتحان دارد عقیق |
ترجمہ حرص جہاں بھی غالب آئے، جگر پر دانت بھینچ لے، عقیق پیاس کے ہجوم میں امتحان دیتا ہے۔ | |
ہر کہ می بینی بہ قدرِ شہرت از خود رفتہ است | سودِ نامی ہم بہ تحصیلِ زیان دارد عقیق |
ترجمہ جسے بھی دیکھو وہ اپنی شہرت کے اندازے سے خود سے گزر گیا ہے، عقیق نام کا نفع بھی نقصان اٹھا کر حاصل کرتا ہے۔ | |
بی جگر خوردن میسر نیست پاسِ اعتبار | آبرو در موجِ خونِ دل نہان دارد عقیق |
ترجمہ جگر کا خون پیے بغیر اعتبار کا پاس ممکن نہیں، عقیق اپنی آبرو دل کے خون کی موج میں چھپائے رکھتا ہے۔ | |
اعتباراتِ جہان پر بی نسق افتادہ است | جانکنیہا بہرِ نامِ دیگران دارد عقیق |
ترجمہ دنیا کے اعتبارات بہت بے ترتیب واقع ہوئے ہیں، عقیق دوسروں کے نام کی خاطر جان کنی کرتا ہے۔ | |
خونِ دل را در بساطِ دیدہ رنگی دیگر است | آبرو در خاتم افزونتر ز کان دارد عقیق |
ترجمہ آنکھ کی بساط میں دل کے خون کا رنگ ہی کچھ اور ہے، عقیق کان سے زیادہ انگوٹھی میں آبرو رکھتا ہے۔ | |
لعل ہا از بہرِ مشتاقان تبسم پرور است | آبِ باریکی بہ ذوقِ تشنگان دارد عقیق |
ترجمہ لعل مشتاقوں کے لیے تبسم پرور ہیں، عقیق پیاسوں کے ذوق کے لیے ایک باریک سا پانی رکھتا ہے۔ | |
محوِ لعلت را فسردن نیز آبِ زندگی ست | ہمچو دل تا رنگِ خونی ہست جان دارد عقیق |
ترجمہ تیرے لعل میں محو کے لیے افسردگی بھی آبِ حیات ہے، دل کی طرح جب تک اس میں خون کا رنگ ہے عقیق جان رکھتا ہے۔ | |
نیست بیدل کاہشِ ایام بر دلخستگان | در شکستِ خود ہمان خطِ امان دارد عقیق |
ترجمہ بیدل، دل خستوں پر زمانے کی کاہش اثر نہیں کرتی، عقیق اپنی شکست میں بھی وہی امان کا پروانہ رکھتا ہے۔ | |
