اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

بر خود از ساز شکفتن کی گمان دارد عقیق

بر خود از سازِ شکفتن کی گمان دارد عقیق

در خورِ نامت تبسم در دہان دارد عقیق

ترجمہ عقیق اپنے بارے میں کھلنے کے سامان کا کب گمان رکھتا ہے، وہ تیرے نام کے شایان منہ میں تبسم رکھتا ہے۔

جای آن دارد کہ باشد بابِ دندانِ طمع

نسبتِ دوری بہ لعلِ دلبران دارد عقیق

ترجمہ بجا ہے کہ وہ طمع کے دانتوں کے لائق ہو، عقیق دلبروں کے لعل سے دور کی نسبت رکھتا ہے۔

بسکہ بی آب است این صحرای شہرت اعتبار

روز و شب نقشِ نگین زیرِ زبان دارد عقیق

ترجمہ شہرت و اعتبار کا یہ صحرا اس قدر بے آب ہے کہ عقیق دن رات نگین کا نقش زبان کے نیچے رکھتا ہے۔

سادگی دارالامانِ بی تمیزان بودہ است

حلقہ ہای دام را خاتم گمان دارد عقیق

ترجمہ سادگی بے تمیزوں کی دارالامان رہی ہے، عقیق جال کے حلقوں کو انگوٹھی سمجھتا ہے۔

عیبِ ما رنگین خیالان معنیٔ باریکِ ماست

عرضِ نقصان تا دہد از رگ زبان دارد عقیق

ترجمہ ہم رنگین خیالوں کا عیب ہمارا باریک معنی ہے، عقیق اپنا نقص ظاہر کرنے کے لیے رگ سے زبان رکھتا ہے۔

ہر کسی تا خاک گردیدن بہ رنگی بسمل است

خون رنگی در فسردنہا روان دارد عقیق

ترجمہ ہر شخص خاک ہونے تک کسی نہ کسی رنگ میں بسمل ہے، عقیق اپنی افسردگیوں میں بھی رنگ کا خون رواں رکھتا ہے۔

حرص ہر جا غالب افتد بر جگر دندان فشار

در ہجومِ تشنگی ہا امتحان دارد عقیق

ترجمہ حرص جہاں بھی غالب آئے، جگر پر دانت بھینچ لے، عقیق پیاس کے ہجوم میں امتحان دیتا ہے۔

ہر کہ می بینی بہ قدرِ شہرت از خود رفتہ است

سودِ نامی ہم بہ تحصیلِ زیان دارد عقیق

ترجمہ جسے بھی دیکھو وہ اپنی شہرت کے اندازے سے خود سے گزر گیا ہے، عقیق نام کا نفع بھی نقصان اٹھا کر حاصل کرتا ہے۔

بی جگر خوردن میسر نیست پاسِ اعتبار

آبرو در موجِ خونِ دل نہان دارد عقیق

ترجمہ جگر کا خون پیے بغیر اعتبار کا پاس ممکن نہیں، عقیق اپنی آبرو دل کے خون کی موج میں چھپائے رکھتا ہے۔

اعتباراتِ جہان پر بی نسق افتادہ است

جانکنیہا بہرِ نامِ دیگران دارد عقیق

ترجمہ دنیا کے اعتبارات بہت بے ترتیب واقع ہوئے ہیں، عقیق دوسروں کے نام کی خاطر جان کنی کرتا ہے۔

خونِ دل را در بساطِ دیدہ رنگی دیگر است

آبرو در خاتم افزونتر ز کان دارد عقیق

ترجمہ آنکھ کی بساط میں دل کے خون کا رنگ ہی کچھ اور ہے، عقیق کان سے زیادہ انگوٹھی میں آبرو رکھتا ہے۔

لعل ہا از بہرِ مشتاقان تبسم پرور است

آبِ باریکی بہ ذوقِ تشنگان دارد عقیق

ترجمہ لعل مشتاقوں کے لیے تبسم پرور ہیں، عقیق پیاسوں کے ذوق کے لیے ایک باریک سا پانی رکھتا ہے۔

محوِ لعلت را فسردن نیز آبِ زندگی ست

ہمچو دل تا رنگِ خونی ہست جان دارد عقیق

ترجمہ تیرے لعل میں محو کے لیے افسردگی بھی آبِ حیات ہے، دل کی طرح جب تک اس میں خون کا رنگ ہے عقیق جان رکھتا ہے۔

نیست بیدل کاہشِ ایام بر دلخستگان

در شکستِ خود ہمان خطِ امان دارد عقیق

ترجمہ بیدل، دل خستوں پر زمانے کی کاہش اثر نہیں کرتی، عقیق اپنی شکست میں بھی وہی امان کا پروانہ رکھتا ہے۔