جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

بس ایک نظر

ہُو کا عالم! سنسنی خیز رات۔ ہوا تیز ہوتی جا رہی ہے اور اپنی وحشیانہ رفتار سے عالیشان درختوں کے پتّوں کو جگا کر ایک طوفان برپا کر رہی ہے۔ پتّوں کے اس بے موقع کھڑکنے سے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن اللہ رے کرشمٔہ قدرت۔ چاند بھی کامل ہو چکا ہے اور اپنے مہ جبین گورے گورے مکھڑے سے رات کی سیاہی کو سفید کر رہا ہے۔

افسوس! اس وقت جب کہ قدرت نے اپنا کامل نقشہ دنیا کے پیش نظر کر دیا ہے، کوئی بھی اس سے محظوظ نہیں ہو رہا ہے۔

ہاں! کسی نے اپنے بسترِ غم پر کروٹ لی۔ لیکن کیا یہ کروٹ نیند کی ہے؟ نہیں۔ یہ ایک خنجر تھا۔ ایک چھری تھی جو کہ اس پر چل گئی۔

”پھر وہ ہے کون؟“

یہ سوال کسی کے حسرت بھرے دل کو پاش پاش کر دینے کو بہت کافی ہے۔ ہمارے منہ سے نہیں لیکن اُس منہ سے جس نے کہ، اُس کے کروٹ لیتے ہی، اس کے پُر ارمان و حسرت آلود جگر پر چھری چلا دی۔

وہ ایک بیمار ہے۔

لیکن اسے کوئی بیماری نہیں۔ ”پھر وہ بیمار کیسا؟“

”وہ ایک زخمی ہے“

لیکن اس کے کہیں زخم نہیں ہے۔ ”پھر وہ زخمی کیسا؟“

”وہ ایک تلاطم خیز ہستی ہے“

لیکن اس میں طوفان نہیں۔ ”پھر وہ تلاطم کیسا؟“

بس وہ ایک بیمار ہے۔ لیکن خیال رہے معمولی بیمار نہیں۔ اس نے کروٹ بدلی۔ اور اس کے لختِ جگر پر چُھریاں چل گئیں۔ وہ رویا، اس کے کُہنہ زخم ہرے ہو گئے۔ اس کا سونا اس کے جاگنے کی ایک دلیل ہے۔

ہاں! ہاں! جو کچھ بھی ہو۔ وہ اٹھا۔ لیکن اس طرح بے وقت جاگنا بھی ضرور کسی راز سے مملو ہے۔ وہ اپنے بستر غم سے اٹھا اور چاند کو ایک حسرت بھری مگر نفرت خیز نگاہوں سے دیکھا۔ پھر آنکھیں نیچی کر لیں۔ اس کے چہرے پر ایک رنگ آتا تھا اور ایک جاتا۔ اس کے طوفانی دل میں ایک طرف تلاطم بپا ہوتا تھا اور دوسری طرف تھم جاتا۔

اس نے چاند کو پھر دیکھا اور تھوڑی دیر تک برابر دیکھا کیا۔ اس کی نگاہیں ڈھل گئیں اور سبزہ پر بیٹھ گیا۔ ہوا نے پھر زور کیا اور اپنے تموج سے ایک طوفانی سمندر کا لطف اٹھانے لگی۔ پتے ہنس ہنس کر کسی مریضِ شبِ فرقت کا مذاق اڑانے لگے۔ چاند پست ہو رہا تھا اور اپنی ڈھلتی ہوئی شعاعوں سے سبزۂ خوابیدہ کے بوسے ہاتھ بڑھا بڑھا کر لے رہا تھا۔

بیمار پھر اٹھا اور چاند کو اپنی ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے دیکھا۔ لیکن صرف اسے دیکھ ہی کر نہیں قناعت کی بلکہ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کر کے چاند سے مخاطب ہو کر کہا۔

ہاں!ہاں! سن لے اور خوب غور سے سن لے۔ اپنے داغدار چہرے پر نازاں مت ہو! آخر تیرا مطلب میرے ظلمت کدے میں اس طور پر بے دغدغہ چلے آنے سے کیا تھا؟ کیا تجھے اپنے حسن فانی پر گھمنڈ ہے؟ کیا تو میرے دل کے ٹکڑوں کو اپنے داغدار چہرے کے بل پر چھیننا چاہتا ہے؟ تیری اس سعی فضول پر کبھی تو مجھے ہنسی اور کبھی رونا آتا ہے۔ آہ میرا دل! میرا دل!! افسوس وہ کسی اور کا ہو چکا۔ میں تجھے اس نورانی شبیہ کی تصویر دکھا کر خجل نہ کروں گا۔ لیکن تو اسے دیکھے گا۔ سن سن! یہ میرا تجھ سے آخری خطاب ہے۔ (اس نے اپنے ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ لیے)۔

اُف! کیا یہ سچ ہے۔ تو پھر آخر جذبات کا خون کرنے سے میرا کیا فائدہ ہو گا؟ نہیں! نہیں!! اس کا دیکھ ہی لینا میرے لئے ایک زندگی ہے۔ لیکن اگر۔۔۔۔۔۔

وہ بیٹھ گیا۔ اس کے آنسو سبزۂ خوابیدہ پر ڈھل ڈھل کر موتیوں کے مانند چمک رہے تھے۔ وہ اپنے آخری فیصلہ کا منتظر تھا۔ دفعتاً ہوا پھر تیز ہوئی اور وہ چونکا۔ پتوں کے کھڑکنے سے اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ چاند اب غروب ہی ہو رہا تھا لیکن اس کی دھیمی دھیمی شعاعیں تمام خطۂ ارض پر پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کے چہرے سے خوشی کے آثار نمایاں ہوئے اور وہ پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ اسے پیڑوں کی آڑ میں سے پیروں کی آہٹ معلوم ہوئی اور کوئی درختوں کے جُھنڈ سے نکلا۔ مریض تھوڑی دیر تک آنے والے کو بغور دیکھا کیا۔ یکایک اس کا چہرہ فرطِ انبساط سے چمک اٹھا اور اس نے رونا شروع کیا۔ دم بھر میں آنے والا اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔ اس کے چہرہ سے غصہ سے ملی ہوئی پریشانی ٹپک رہی تھی۔ اس کے گیسوئے مشکبار لہرا لہرا کر شانہ اور بازو کے بوسے لے رہے تھے۔ اور کبھی کبھی وہ اپنے دستِ نازنین سے ان کو جھٹک بھی دیتی تھی اور پھر ہاتھوں کو فرطِ عفّت کی وجہ سے اپنے سینوں پر رکھ لیتی تھی۔ مریض نے اپنا شوریدہ سر اس کے پیروں پر رکھ دیا لیکن اس کے دل و جگر کا خون ہو گیا۔ اس کے سر پر ٹھوکر لگائی گئی۔ آہ! وہ پھر اٹھا اور اس کی زلفوں کا، جو لہرا لہرا کر اس کے دست و بازو کے ساتھ شوخیاں کر رہی تھیں، بوسہ لینا چاہا۔ وہ ناکام رہا۔ اس نے بڑھ کر اسے گلے سے لگا کر اپنے دل کی بھڑکی ہوئی آگ پر چھینٹے ڈالنا چاہے، لیکن افسوس اسے پھر ناکامیابی کا منہ دیکھنا پڑا۔ ہائے اس کی آخری کوشش دلوں کا خون کرتی ہے۔ ڈرتے ڈرتے زبان کھولی اور پوچھا۔

کیا میرے جذبات کے سچے ہونے میں اب بھی کچھ شک ہے؟ آہ! سن لے!! میری آخری تقریر سن لے!!! او حسن کی پتلی (جب کہ اس کے منہ پر آنسوؤں کی ایک جھڑی بندھ گئی تھی) میرا آخری فیصلہ کرتی جا۔ اف! اف!! لیکن ذرا خیال رکھنا میرے ان سچے جذبات کا جو تجھے تیرے بسترِ استراحت سے یہاں تک کھینچ لائے ہیں۔ گو یہ میری ایک گستاخی ہی کہی جائے۔ ہاں میرا فیصلہ ایک ایسا فیصلہ ہو جسے دنیا نہ بھولے۔ اے نگارِ آتشیں میرے دل میں امید کا چراغ جھلملا رہا ہے اگر تو اسے جلا دے تو میری صبح کبھی نہ ہو۔ ہاں! ہاں!! جلد بتا!!! جلد فیصلہ کر!!!! میں تو۔۔۔۔ (وہ شدتِ گریہ سے بول نہ سکا)۔ اس کا فیصلہ ایک حسرت ناک فیصلہ تھا۔ اس کے سینے پر چھریاں چلیں اور اس کے دل و جگر کا خون کرنے لگیں۔ وہ اپنا آخری جگر سوز فیصلہ سُن کر ہمہ تن سکوت بن گیا۔ اس کا شعلۂ عشق اور بھڑکا لیکن اب اسے اس کے بجھانے کے لئے کوئی شے نظر نہ آتی تھی۔ وہ پھر پا بوسی کے لئے جھکا اور اس مرتبہ اس نے اس کے پاؤں کا بوسہ لے ہی لیا لیکن افسوس، اس کا معشوق پھر وہاں نہ تھا۔

چاند غروب ہو رہا تھا اور ستارے جھلملا جھلملا کر غائب ہوتے جارہے تھے۔ آسمان پر سفیدی چھائی جا رہی تھی۔ اِدھر نسیمِ سحری آہستہ آہستہ پھولوں کے دلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہی تھی اُدھر مرغان سحر اپنے دل آویز نالوں سے کسی کے مضطرب دل پر عجیب آفت ڈھا رہے تھے۔ باغوں میں ہلکی ہلکی خوشبو پھیلتی جا رہی تھی۔ لیکن آہ! وہ بیمار جو کہ ابھی ابھی اپنی پُر اثر تقریر سے چاند کو شرمندہ کر رہا تھا اس محفلِ دہر کی نیرنگیوں کو اپنے پریشان دل سے پژمردہ کرنے کے لئے باقی نہ تھا۔ افسوس۔