اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

بسکہ بی لعل تو رفت از بزم عیش ما نمک

بسکہ بی لعلِ تو رفت از بزمِ عیشِ ما نمک

می زند بر ساغرِ می خندۂ مینا نمک

ترجمہ تیرے لعلِ لب کے بغیر ہماری بزمِ عیش سے نمک اس قدر اٹھ گیا کہ مینا کی ہنسی شراب کے ساغر پر نمک چھڑکتی ہے۔

داغِ شوقت زِیرِ مشقِ منتِ ہر پنبہ نیست

اشکِ خود کافیست گر خواہد کبابِ ما نمک

ترجمہ تیرے شوق کا داغ کسی روئی کے احسان کا محتاج نہیں؛ اگر ہمارا کباب نمک چاہے تو ہمارا اپنا آنسو کافی ہے۔

جسم راحت خواہ و دل جمعیت و عمر امتداد

با چنین توفانِ حاجت دارد استغنا نمک

ترجمہ جسم راحت چاہتا ہے، دل جمعیت اور عمر درازی؛ حاجتوں کے ایسے طوفان کے ساتھ استغنا ہی میں نمک ہے۔

ای خرد خمخانۂ نازی بجوش آوردہ ای

باش تا شورِ جنونِ ما کند پیدا نمک

ترجمہ اے عقل! تو نے ناز کا ایک خمخانہ جوش میں لا رکھا ہے؛ ٹھہر جا کہ ہمارے جنون کا شور نمک پیدا کرے۔

پشت بر گل دادن از آثارِ کافر نعمتی است

جای آن دارد کہ گیرد چشمِ شبنم را نمک

ترجمہ پھول کی طرف پیٹھ کر لینا کفرانِ نعمت کی نشانی ہے؛ بجا ہے کہ شبنم کی آنکھ کو نمک لگ جائے۔

اضطرابِ شعلہ تسکینش ہمان خاکستر است

کوششِ ما می برد داغی کہ دارد با نمک

ترجمہ شعلے کے اضطراب کی تسکین وہی راکھ ہے؛ ہماری کوشش اس داغ کو لے جاتی ہے جو نمک سے واسطہ رکھتا ہے۔

بی تبسم نیست با آن جوشِ شیرینی لبش

تا تو دریابی کہ در کار است در ہر جا نمک

ترجمہ اس کا لب شیرینی کے اس جوش کے باوجود تبسم سے خالی نہیں، تاکہ تو سمجھ لے کہ ہر جگہ نمک درکار ہے۔

آفتِ ہستی بہ اسبابی دگر موقوف نیست

زخمِ صبح از خندۂ خود می کند انشا نمک

ترجمہ ہستی کی آفت کسی اور سبب پر موقوف نہیں؛ صبح کا زخم اپنی ہی ہنسی سے نمک پیدا کرتا ہے۔

با ہمہ ابرام باید تشنہ کام یاس مرد

حرص مستسقی و دارد آبروی ما نمک

ترجمہ تمام اصرار کے باوجود یاس میں پیاسا ہی مرنا چاہیے؛ حرص استسقا کی مریض ہے اور ہماری آبرو نمک رکھتی ہے۔

بیدل از حسنِ ملیحش چند غافل زیستن

دیدہ ہای زخم را ہم می کند بینا نمک

ترجمہ بیدل! اس کے ملیح حسن سے کب تک غافل جیا جائے؟ نمک تو زخم کی آنکھوں کو بھی بینا کر دیتا ہے۔