اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

باز درگلشن ز خویشم می برد افسون آب

باز در گلشن ز خویشم می برد افسونِ آب

در نظر طرزِ خرامی دارم از مضمونِ آب

ترجمہ پھر باغ میں پانی کا افسوں مجھے مجھ سے لے جا رہا ہے؛ پانی کے مضمون سے میری نظر میں ایک خرام کی ادا ہے۔

شورشِ امواجِ این دریا خروشِ بزمِ کیست

نغمہ ای تر می فشارد مغزم از قانونِ آب

ترجمہ اس دریا کی موجوں کا شور کس کی محفل کا خروش ہے؟ پانی کے قانون (ساز) سے میرا دماغ ایک بھیگا ہوا نغمہ نچوڑتا ہے۔

برنمی دارد دورنگی طینتِ روشندلان

در رگِ موجش ہمان آب است رنگِ خونِ آب

ترجمہ روشن دلوں کی طبیعت دو رنگی قبول نہیں کرتی؛ پانی کی موج کی رگ میں اس کے خون کا رنگ بھی وہی پانی ہے۔

ہمچو شبنم اشکِ ما آیینۂ آہ است و بس

بر ہوا ختم است اینجا وحشتِ مجنونِ آب

ترجمہ شبنم کی طرح ہمارا آنسو بس آہ کا آئینہ ہے؛ یہاں پانی کے مجنوں کی وحشت ہوا پر ختم ہوتی ہے۔

شد عرق شبنم طرازِ گلستانِ شرمِ یار

این گہر بود انتخابِ نسخۂ موزونِ آب

ترجمہ پسینہ یار کی شرم کے گلستان کو شبنم سے سجانے والا بن گیا؛ یہی موتی پانی کے موزوں نسخے کا انتخاب تھا۔

آرزو گر تشنۂ رفعِ غبارِ حسرت است

با وجودِ تیغِ او نتوان شدن ممنونِ آب

ترجمہ اگر آرزو حسرت کی گرد دور کرنے کی پیاسی ہے تو اس کی تلوار کے ہوتے ہوئے پانی کا احسان مند نہیں ہوا جا سکتا۔

نیست سیرِ عالمِ نیرنگ جای دم زدن

عشق دریاہای آتش دارد و ہامونِ آب

ترجمہ نیرنگ کی دنیا کی سیر دم مارنے کی جگہ نہیں؛ عشق آگ کے دریا اور پانی کے صحرا رکھتا ہے۔

معنیٔ آسودگی نفس طلسمِ خامشی ست

بر من از موجِ گہر شد روشن این مضمونِ آب

ترجمہ آسودگی کا مطلب یہ ہے کہ سانس خاموشی کا طلسم ہو؛ موتی کی موج سے پانی کا یہ مضمون مجھ پر روشن ہوا۔

طبعم از آشفتگی دامِ صفای دیگر است

درخورِ امواج باشد حسنِ روزافزونِ آب

ترجمہ میری طبیعت آشفتگی کے سبب ایک اور ہی صفائی کا جال ہے؛ پانی کا دن بدن بڑھتا حسن موجوں کے مطابق ہوتا ہے۔

قلزمِ امکان نمِ موجِ سرابی ہم نداشت

تشنگیہا کرد ما را اینقدر مفتونِ آب

ترجمہ امکان کے سمندر میں سراب کی موج جتنی نمی بھی نہ تھی؛ پیاس ہی نے ہمیں پانی کا اتنا فریفتہ بنا دیا۔

وحدت از خودداریٔ ما تہمت آلودِ دویی ست

عکس در آب است تا استادہ ای بیرونِ آب

ترجمہ ہماری خودداری سے وحدت پر دوئی کی تہمت لگی ہے؛ جب تک تو پانی سے باہر کھڑا ہے، عکس پانی میں ہے۔

صاف طبعانند بیدل بسملِ شوقِ بہار

جادۂ رگہای گل دارد سراغِ خونِ آب

ترجمہ بیدل! صاف طبیعت لوگ ہی بہار کے شوق کے بسمل ہیں؛ پھول کی رگوں کا راستہ پانی کے خون کا سراغ رکھتا ہے۔