بازم از فیضِ جنون آمادہ شد سامانِ صبح | می دہد چاکِ گریبان در کفم دامانِ صبح |
ترجمہ پھر جنون کے فیض سے میرے لیے صبح کا سامان تیار ہو گیا؛ گریبان کا چاک میرے ہاتھ میں صبح کا دامن دے رہا ہے۔ | |
از گدازِ پیکرم تعمیرِ امکان کردہ اند | آسمان دودی ست از خاکسترِ تابانِ صبح |
ترجمہ میرے پیکر کے گداز سے امکان کی تعمیر کی گئی ہے؛ آسمان صبح کی روشن راکھ سے اٹھتا ہوا ایک دھواں ہے۔ | |
فتحِ بابِ فیض در رفعِ توہّم خفتہ است | از شکستِ رنگِ شب وا می شود مژگانِ صبح |
ترجمہ فیض کا دروازہ کھلنا وہم کو دور کرنے میں پوشیدہ ہے؛ رات کا رنگ ٹوٹنے ہی سے صبح کی پلکیں کھلتی ہیں۔ | |
در جنون وضعِ گریبانم تماشا کردنی ست | ہمچو زخمِ دل نمک دارد لبِ خندانِ صبح |
ترجمہ جنون میں میرے گریبان کی وضع دیکھنے کے لائق ہے؛ صبح کا ہنستا لب دل کے زخم کی طرح نمک رکھتا ہے۔ | |
اینقدر خونِ شہیدان در دمِ شمشیرِ تست | یا شفق دارد بہ کف سررشتۂ دامانِ صبح |
ترجمہ کیا تیری تلوار کی دھار میں شہیدوں کا اتنا خون ہے، یا شفق صبح کے دامن کا سرا ہاتھ میں لیے ہے؟ | |
ما بہ کلفت قانعیم اما ز بس کم فرصتی | شامِ ما ہم می زند پیمانۂ دورانِ صبح |
ترجمہ ہم کلفت پر قانع ہیں، مگر کم فرصتی کے سبب ہماری شام بھی صبح کے دور کا پیمانہ پیتی ہے۔ | |
نعمتی بر روی خوانِ عمرِ کم فرصت کجاست | ہمچو شبنم دست می شوید ز خود مہمانِ صبح |
ترجمہ کم فرصت عمر کے دسترخوان پر نعمت کہاں؟ صبح کا مہمان شبنم کی طرح اپنے آپ سے ہاتھ دھو لیتا ہے۔ | |
تا نگردد کاسہ ات پر خون بہ رنگِ آفتاب | آسمان مشکل کہ در پیشت گدازد نانِ صبح |
ترجمہ جب تک تیرا کاسہ سورج کی طرح خون سے نہ بھر جائے، مشکل ہے کہ آسمان تیرے آگے صبح کی روٹی پگھلا کر رکھے۔ | |
تخمِ شبنم ریشۂ عبرت درین گلشن دواند | خندہ توام می دمد با ریزشِ دندانِ صبح |
ترجمہ شبنم کے بیج نے اس گلشن میں عبرت کی جڑیں پھیلا دیں؛ صبح کی ہنسی دانتوں کے جھڑنے کے ساتھ جڑواں پھوٹتی ہے۔ | |
تا بہ کی خواہد ہوس گردِ خیال انگیختن | در نفس رفتہ ست فرصت عرصۂ جولانِ صبح |
ترجمہ ہوس کب تک خیال کی گرد اڑاتی رہے گی؟ صبح کی جولاں گاہ کا میدان ایک سانس میں گزر چکا ہے۔ | |
ترکِ غفلت شاہدِ اقبالِ فیضِ ما بس است | چشم اگر از خواب وا شد نیست جز برہانِ صبح |
ترجمہ غفلت کا ترک ہمارے فیض کے اقبال کا کافی گواہ ہے؛ آنکھ اگر نیند سے کھل گئی تو وہ صبح کی دلیل کے سوا کچھ نہیں۔ | |
ہرکجا عرضِ نفس دادند جنسِ باد بود | غیرِ واچیدن چہ دارد چیدنِ دکانِ صبح |
ترجمہ جہاں کہیں سانس کا اظہار ہوا وہ ہوا کی جنس ہی تھی؛ صبح کی دکان سجانا سمیٹ لینے کے سوا کیا رکھتا ہے؟ | |
حسن از ہر نالۂ عاشق نقابی می درد | نگسلی ربطِ نفس ای بلبل از افغانِ صبح |
ترجمہ حسن عاشق کے ہر نالے سے ایک نقاب چاک کرتا ہے؛ اے بلبل! صبح کی فریاد سے سانس کا رشتہ نہ توڑ۔ | |
تخمِ اشکی می فشاند آہ و از خود می رود | غیرِ شبنم نیست بیدل زادِ ہمراہانِ صبح |
ترجمہ آہ آنسو کا بیج بکھیرتی اور اپنے آپ سے گزر جاتی ہے؛ بیدل! صبح کے ہم سفروں کا زادِ راہ شبنم کے سوا کچھ نہیں۔ | |
